’مِس وِیٹ پاکستان نے لاکھوں لڑکیوں کے نمبر کیسے حاصل کیے؟‘

پاکستان، اسلام آباد ہائیکورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی سے ’مِس وِیٹ پاکستان‘ پروگرام کی گذشتہ برس نشر ہونے والی اقساط کی ویڈیو ریکارڈنگ طلب کرلی ہے جبکہ اس پروگرام کا انعقاد کرنے والی کمپنی سے اس سال ہونے والے پروگرام کے مرکزی خیال کے بارے میں دریافت کیا ہے۔

جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی سربراہی میں اسلام آباد ہائی کورٹ کے سنگل بینچ نے لال مسجد شہدا فاؤنڈیشن کے رہنما طارق اسد کی جانب سے ’مِس وِیٹ پاکستان‘ پروگرام کے خلاف دائر کی گئی درخواست کی سماعت کی۔

٭ ماڈلنگ پروگرام ’مِس ویٹ پاکستان‘ کے خلاف درخواست

لوٹ آئی پاکستان کی 'باغی' قنديل بلوچ

’زندگی صرف ساس بہو کے مسائل کے گرد نہیں گھومتی‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق درخواست گزار نے اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایسے پروگراموں کا مقصد مغربی تہذیب کو پاکستان میں متعارف کروانا ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پاکستان جو اسلام کے نام پر بنا تھا وہاں اس طرح کے پروگرام اسلامی اقدار کے منافی ہیں۔ طارق اسد کا کہنا تھا کہ ایسی سوچ اور ایسے پروگراموں کو قطعی طور پر اسلامی معاشرے میں پنپنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔

درخواست گزار نے الزام عائد کیا کہ اس پروگرام کے منتظمین نے کالجز اور یونیورسٹیز کی طالبات سے رابطہ کر کے انھیں اس پروگرام کا حصہ بننے یا اس پروگرام کو دیکھنے کی دعوت دی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ متعدد ایسی لڑکیوں کو بھی آڈیشن دینے اور اس پروگرام میں شامل ہونے کے دعوت نامے بھیجے گئے جو دینی مدارس میں اسلامی تعلیمات حاصل کرر ہی ہیں۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے اس بات کی تحقیقات کی جائیں کہ ’مِس وِیٹ پاکستان‘ کی انتظامیہ نے کیسے لاکھوں لڑکیوں کے موبائل نمبر حاصل کر کے اُنھیں اس پروگرام میں شامل ہونے کے دعوت نامے بھیجے۔

درخواست گزار نے عدالت سے استدعا کی کہ ذمہ داروں کا تعین کر کے انھیں قرار واقعی سزا دی جائے۔

جسٹش شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عدالت اس معاملے میں جلد بازی کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہتی اور عدالت تفصیل سے دلائل سننے کے بعد اس پر فیصلہ دے گی۔

مِس وِیٹ پاکستان کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے کہا کہ ابھی تو اس پروگرام کے سیکنڈ ایڈیشن کو نشر ہونے میں مزید دو ماہ پڑے ہیں تو درخواست گزار کو کیسے معلوم ہوگیا کہ اس سے معاشرے میں بےحیائی پھیلے گی۔

درخواست گزار نے اعتراض اٹھایا کہ اس در|خواست میں تو انھیں فریق ہی نہیں بنایا گیا تو پھر وہ کس حیثیت میں عدالت میں آکر بیان دے رہے ہیں جس پر اس پروگرام کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل نے اس درخواست میں فریق بننے کی درخواست دی جسے منظور کرلیا گیا۔

عدالت نے پیمرا سے سنہ 2016 میں نشر ہونے والے ’مِس وِیٹ پاکستان‘ کے ایڈیشن کی ویڈیو جبکہ اس پروگرام کے منتظمین سے سنہ 2017 کے پروگرام کے مرکزی خیال کے بارے میں تفصیلات طلب کرتے ہوئے اس درخواست کی سماعت 11 ستمبر تک ملتوی کر دی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں