بھائی جو بٹوارے میں بچھڑ گئے

گیبریئل اور رافیل
Image caption وردی میں گیبریئل جوزف کو اپنے بھائی رافیل کے ساتھ یہاں دیکھا جا سکتا ہے

70 برس قبل گیبریئل جوزف 22 برس کے جوان تھے جب انھوں نے خوش پور چھوڑا تھا۔ نوکری تلاش کرنے کی مہم جوئی پر نکلنے والے گیبریئل پھر کبھی گھر نہیں لوٹ پائے۔ مرنے سے پہلے وہ صرف دو بار اپنے گھر والوں سے مل سکے حالانکہ وہ محض چند سو کلومیٹر دور امرتسر ہی میں مقیم تھے۔

یہی نہیں، اس دوران گیبریئل نے کم از کم دو جنگیں لڑیں اور ایک مرتبہ خود سے دو سال بڑے بھائی کے مدِ مقابل بھی آئے۔ دونوں بھائی دو مختلف ملکوں کی افواج میں تھے۔

متحدہ ہندوستان میں پنجاب کے شہر لائلپور اور موجودہ فیصل آباد میں واقع خوش پور ایک چھوٹا سا مسیحی گاؤں ہے جسے 20ویں صدی کے اوائل میں بیلجیئم سے آنے والے مشنریوں نے آباد کیا تھا۔

٭ ’پاکستان کے نہیں تقسیم ہند کے مخالف تھے‘

٭ نام تبدیل مگر فیروز پور کی یادیں تازہ

یہاں ایک شاندار قسم کا چرچ بنایا گیا تھا، جو آج بھی کھڑا ہے اور اس کے عقب میں واقع لڑکوں کا سکول بھی اسی طرح قائم ہے۔

گیبریئل جوزف کا خاندان بھی یہیں آ کر آباد ہو گیا تھا اور اسی سکول سے ابتدائی تعلیم مکمل کرنے کے بعد وہ اور چند دوست جو فارغ تھے، انھوں نے سوچا نوکری تلاش کی جائے۔ چلتے چلتے امرتسر پہنچے، وہاں چند رشتہ داروں کے مشورے پر ہندوستان کی فوج میں بھرتی حاصل کر لی۔

ادھر لائلپور میں گیبریئل سے دو سال بڑے ان کے بھائی رافیل جون پہلے ہی سے فوج میں کام کر رہے تھے۔ گیبریئل اور ان کے خاندان نے سوچا تھا کہ امرتسر گھر سے زیادہ دور نہیں، سو آرام سے آتے جاتے رہیں گے۔

مگر تب وہ ہوا جو انھوں نے کبھی سوچا نہیں تھا۔ اسی سال یعنی 1947 میں اگست کی 15 تاریخ کو ہندوستان کا بٹوارہ ہو گیا۔ دو نئے ملک بن گئے، پاکستان اور انڈیا۔ اس وقت کا لائلپور اور موجودہ فیصل آباد پاکستان کو مل گیا اور امرتسر انڈیا میں رہ گیا۔

رافیل اور خاندان پاکستان جبکہ گیبرئیل انڈیا میں رہ گئے۔ بی بی سی سے بات کرتے ہوئے دونوں بھائیوں کی کہانی سناتی رافیل جان کی صاحبزادی اسٹیلا جان بتاتی ہیں کہ ابتدا میں گیبریئل کو اندازہ نہیں ہوا کہ بٹوارے کے ساتھ ہی وہ اپنے خاندان سے ہمیشہ کے لیے بچھڑ گئے تھے۔

Image caption یہاں گیبریئل جوزف (بائیں سے دوسرے) کو اپنی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے

64 سالہ اسٹیلا ان دنوں پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور میں رہتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ان کے گھر والوں کا خیال تھا کہ گیبریئل کے لیے پاکستان آنا جانا کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔

شاید نہ بھی ہوتا مگر دونوں بھائیوں کی فوج کی نوکری آڑے آ گئی۔ 'میں نے ان سے پوچھا کہ آپ گھر واپس کیوں نہیں آ گئے تھے، تو انھوں نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم تھا کہ یہ دو علیحدہ ملک بن جائیں گے۔ ہمارا خیال تھا کہ افواہیں ہیں، کوئی بھی یقین نہیں کرتا تھا۔'

اسٹیلا کی اپنے چچا گیبریئل سے پہلی ملاقات 1978 میں ہوئی جب وہ ان سے ملنے انڈیا گئی تھیں۔ اس سے قبل وہ انھیں تصویروں، خطوط یا بڑوں کی کہانیوں سے جانتی تھیں۔

بٹوارے کے ایک سال بعد پاکستان اور انڈیا میں کشمیر پر پہلی جنگ چھڑ گئی۔ دونوں بھائی مخالف فوجوں میں آمنے سامنے تھے۔ سٹیلا بتاتی ہیں کہ اس وقت دونوں کے والدین بہت پریشان رہا کرتے تھے۔

1960 میں والد کے اصرار پر گیبریئل جوزف نے فوج سے استعفیٰ دے دیا۔ پانچ سال بعد پاکستان اور انڈیا میں دوسری جنگ چھڑی تو ان کو اس میں حصہ لینے کے لیے واپس بلا لیا گیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

'کچھ بھی ہو سکتا تھا۔ دونوں میں سے کسی کی موت بھی ہو سکتی تھی، مجھے یاد ہے یہی سوچ کر میرے دادا دھاڑیں مار کر رویا کرتے تھے۔' تاہم خوش قسمتی سے رافائیل کو جسمانی طور پر جنگ کے لیے موزوں نہ ہونے کے باعث گھر واپس بھیج دیا گیا۔

اسٹیلا کو صحیح طور پر معلوم نہیں کہ ان کے چچا نے انڈین آرمی میں رہتے ہوئے پاکستان کے خلاف 1971 میں ہونے والی تیسری جنگ بھی لڑی یا نہیں، کیونکہ نہ تو وہ اس بارے میں بات کرنا پسند کرتے تھے، نہ وہ پوچھنے کی ہمت کر پائیں۔

'جنگ کے بارے میں بات کرنا ہمارے خاندان کے لیے ایک بہت بڑا دکھ تھا۔' تاہم انھوں نے اسٹیلا کو بتایا تھا کہ 1947 میں پہلی مرتبہ جب کرسمس کا تہوار آیا اور ان کے باقی ساتھی اپنے گھروں کو جانے لگے تو ان کا بھی دل چاہا کہ وہ بھی اپنے گھر جائیں۔

'مگر اب دو ملک بن چکے تھے اور ان کا گھر سرحد کی اس پار تھا۔ پھر بھی انھوں نے کوشش کی مگر کامیابی نہیں ملی۔'

فوج میں رہتے ہوئے نہ گیبریئل پاکستان آ سکتے تھے، نہ رافیل انڈیا جا سکتے تھے۔ اس دوران دونوں بھائیوں کی شادیاں بھی ہوئیں۔ ان پر بھی وہ ایک دوسرے سے نہیں مل پائے۔ رافیل کی شادی 1949 میں ہوئی جس کے کچھ عرصہ بعد ان کہ چھوٹے بھائی کی شادی انڈیا میں ہوئی۔

'میرے چچا کے علاقے میں سسٹرز کا ایک سکول تھا جہاں میری چچی استانی تھیں۔ سسٹرز چاہتیں تھیں کہ ان کا رشتہ کسی اچھی جگہ ہو جائے تو انھوں نے میرے چچا کو شادی کی پیشکش کی جو انھوں نے قبول کر لی۔'

Image caption جب سنہ 1977 میں گیبریئل اپنے گھر لوٹے تو ان کا والہانہ استقبال ہوا انھیں یاں ہار پہنے دیکھا جا سکتا ہے

ان دنوں گیبریئل کا رافیل اور باقی بہن بھائیوں کے ساتھ رابطہ خطوط کی ذریعے رہتا تھا۔ کچھ عرصہ بعد خوش پور اور امرتسر دونوں میں جب پبلک کال آفس کھلے تو پھر دونوں کو پہلی مرتبہ ایک دوسرے کی آواز سننے کو ملی۔

تاہم اسٹیلا کا کہنا ہے کہ وہ گیبریئل کو زیادہ ٹیلیفون بھی نہیں کر سکتے تھے کیونکہ وہ فوج میں تھے۔ 'پھر ان سے پوچھ گچھ ہوتی تھی کہ پاکستان سے تمھارے اتنے ٹیلیفون کیوں آتے ہیں؟'

70 کی دہائی میں انڈین فوج سے مستقل فرصت لینے کی بعد پہلی مرتبہ گیبریئل پاکستان میں اپنے آبائی گھر آئے جسے انھوں نے 30 برس قبل چھوڑا تھا۔ 19 سالہ لڑکا اب 50 سالہ ادھیڑ عمر شخص تھا۔

اس کے والدین اس کو ایک مرتبہ پھر دیکھنے کی خواہش دل میں لیے چند سال قبل وفات پا چکے تھے۔ گیبریئل کی شادی کے بعد اس کے والدین صرف ایک مرتبہ اس سے ملنے انڈیا جا پائے تھے۔ 'اس کے بعد ان کے پاس ویزے کے انتظار میں قطاروں میں کھڑے ہونے کی ہمت نہیں تھی۔ بس اپنے بیٹے کو یاد کرتے کرتے چل بسے۔'

گیبریئل اپنے مرے باپ کا آخری دیدار کرنے بھی نہیں آ پایا تھا۔ اسٹیلا کا کہنا ہے جب گیبریئل پہلی مرتبہ خوش پور اپنے گھر لوٹے تو وہاں میلے کا سماں تھا۔ گاؤں کو سجایا گیا اور ڈھول بجتے رہے۔ گیبریئل اپنے گھر کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔

گیبریئل کی وفات 82 سال کی عمر میں اپنے بڑے بھائی کی موت کے دو سال بعد 2014 میں ہوئی۔ اسٹیلا کا کہنا ہے کہ انھیں ساری زندگی یہ دکھ رہا کہ وہ خاندان سے بچھڑ کر اکیلے رہ گئے۔

اسی بارے میں