سندھ ہائی کورٹ کا نیب کو کام جاری رکھنے کا حکم

پاکستان، نیب

پاکستان کے صوبہ سندھ کی ہائی کورٹ نے قومی احتساب بیورو کو صوبے میں کام جاری رکھنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے بدعنوانی میں ملوث ارکان اسمبلی اور سرکاری افسران کے ساتھ اسمبلی میں صوبائی قانون کی حمایت کرنے والے اراکین کی فہرست طلب کرلی ہے۔

٭ سندھ میں نیب کا قانون منسوخ

کراچی میں بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق بدھ کو سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ نے سندھ اسمبلی جانب سے قومی احتساب آرڈیننس کی منسوخی کے خلاف درخواستوں کی مشترکہ سماعت کی۔

سندھ ہائی کورٹ میں یہ درخواستیں ایم کیو ایم، تحریک انصاف، عورت فاؤنڈیشن اور دیگر فریقین نے جمع کروائی ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق ایڈوکیٹ جنرل سندھ ضمیرگھمرو کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کے قوانین کا اطلاق اب سندھ پر نہیں ہوسکتا۔

جس پر چیف جسٹس نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کو کئی رخ سے دیکھنا ہوگا کہ کہیں اس سے انسداد دہشت گردی کی عدالتوں، اینٹی نارکوٹکس اور کسٹمز کی عدالتوں کو تالہ نے لگ جائیں ؟

ایڈوکیٹ جنرل سندھ نے اعتراض کیا کہ فریقین کی یہ درخواستیں سندھ ہائی کورٹ میں قابل سماعت نہیں کیونکہ یہ وفاق اور صوبے کا معاملہ اور ایسے تنازعات کا فیصلہ سپریم کورٹ ہی کرسکتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس حوالے سے یہ قانون پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلینج کیا جاچکا ہے۔

درخواست گزاروں کے وکلا نے گذارش کی کہ درخواست پر فیصلہ آنے تک قومی احتساب بیورو کو کام کرنے کی اجازت دی جائے اور سندھ ائنٹی کرپشن ایجنسی کے قیام کو روکا جائے۔

یاد رہے کہ چند روز قبل سندھ اسمبلی نے قومی احتساب آرڈیننس کی منسوخی کا بل منظور کر لیا جس کے تحت صوبائی محکموں میں بدعنوانی کی شکایات کی تحقیقات محکمہ اینٹی کرپشن کرے گا۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ نے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی قانون ساز ادارا ہے اور اس نے آئینی اختیار استعمال کرکے قانون پاس کیا ہے، جس کو معطل نہیں کیا جاسکتا۔

ایڈووکیٹ جنرل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ 1997 تک اینٹی کرپشن صوبائی سبجیکٹ رہا ہے اور اس حوالے سے قانون بھی صوبائی موجود ہے، اسی قانون کے تحت ہی اینٹی کرپشن اسٹیبلشمنٹ کام کر رہی ہے۔

اس موقعے پر نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل کا کہنا تھا کہ سندھ اسمبلی کی حالیہ قانون سازی کے باعث احتساب بیورو کا کام سخت متاثر ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ عدالت نے انھیں اجازت دی کہ وہ اپنی انکوائری جاری رکھیں لیکن وہ حتمی فیصلہ نہیں دے سکتے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

واضح رہے کہ ایم کیو ایم، تحریک انصاف، مسلم لیگ فنکشنل سمیت سول سوسائٹی کی جانب سے دائر درخواستوں میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ قومی احتساب بیورو سندھ میں موثر انداز میں کام کر رہی ہے اور جب صوبائی وزیر، اراکین اسمبلی اور افسر شاہی اس کی پکڑ میں آئے تو صوبائی اسمبلی نے انھیں بچانے کے لیے یہ قانون سازی کی ہے۔

عدالت نے سماعت کے بعد درخواستوں کی سماعت 22 اگست تک ملتوی کردی اور نیب سے ان تمام اراکین اسمبلی اور سرکاری افسران کی تفصیلات طلب کرلیں جن پر مقدمات زیر سماعت ہیں یا تحقیقات کی جارہی ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل ضمیر گہمرو نے سماعت کے بعد واضح کیا کہ عدالتی حکم کے تحت قومی احتساب بیورو صوبائی محکموں میں کرپشن کی انکوائری تو جاری رکھ سکتی ہے لیکن ان کو ریفرنس میں تبیدل نہیں کرسکتی۔

انھوں نے دعویٰ کیا کہ عدالت نے صوبائی اسمبلی کی جانب سے انٹی کرپشن کے قانون کو معطل کیا ہے اور نہ ہی اس پر عملدرآمد سے روکا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں