نیب نے نواز شریف اور بیٹوں کو طلب کر لیا

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاناما لیکس کے مقدمے میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد قومی احتساب بیورو کی جانب سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف، ان کے بچوں، داماد اور سمدھی اسحاق ڈار کے خلاف نیب عدالتوں میں ریفرنس بھیجوانے کے لیے تحقیقاتی ٹیمیوں نے کام شروع کر دیا ہے۔

نیب کے تحقیقاتی افسر نے نواز شریف اور اُن کے بچوں کو 18 اگست کو طلب کیا ہے۔

سپریم کورٹ نے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کے لیے چھ ہفتوں کا وقت دیا ہے۔

٭ وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

ماہرین کے مطابق چار مقدمات میں ریفرنس تیار کرکے عدالتوں کو بھجوانے کے لیے چھ ہفتے کا وقت بالکل مناسب ہے۔

سپریم کورٹ نے نیب کو شریف خاندان کے لندن میں موجود فلیٹوں اور سعودی عرب میں دو سٹیل ملز کے مالیاتی امور میں مبینہ بدعنوانی پر مقدمات نیب کی عدالتوں کو بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

قوانین کے تحت چیئرمین نیب کسی مقدمے میں عدالتی ریفرنس ترتیب دینے کے لیے تحقیقاتی افسر مقرر کرتا ہے۔ تاہم اس مقدمے میں نیب کی جانب سے کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیمیں یعنی سی آئی ٹیز تشکیل دی گئیں ہیں۔

نیب کے ایک افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نیب نے تحقیقات کو مزید موثر بنانے کے لیے یہ نیا طریقہ اپنایا ہے جس میں ایک تحقیقاتی افسر کے بجائے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تحقیقات کرتی ہے۔

’اس مشترکہ ٹیم میں نیب کے دو تحقیقاتی افسر شامل ہوں گے، جن میں ایک مالیاتی امور کا ماہر اور دوسرا قانونی اُمور کا ماہر موجود ہے۔‘انھوں نے بتایا کہ نیب کی ٹیمیں چار ریفرنسوں میں تحقیقات کر رہی ہیں، جن میں سے دو راولپنڈی جبکہ دو نیب لاہور کے پاس زیرِ تفتیش ہیں۔

سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے حکم کے مطابق ریفرنس نیب عدالتوں میں بھیجنے کا فیصلہ نیب کے ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں کیا گیا تھا۔

اب نیب کو چھ ہفتے کے اندر ان ریفرنسوں پر تحقیقات مکمل کر کے انھیں نیب عدالتوں میں بھیجنا ہو گا جبکہ دو ہفتے کا عرصہ پہلے ہی گزر چکا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption عدالت نے مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ر) صفدر کے خلاف ایک ایک معاملے میں مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا ہے

نیب کے قانون کے مطابق نیب کا تحقیقاتی افسر تحقیقات کے دوران گواہوں کے بیان ریکارڈ کرتا ہے اور ہر پہلو کا اپنے طور پر مکمل جائزہ لیتا ہے تاکہ ریفرنس عدالت میں ملزم کو سزا دلوانے کے لیے کافی ہو۔

تاہم ان مقدمات میں پہلے ہی سے سپریم کورٹ کے احکامات پر تشکیل دی جانے والی تحقیقاتی ٹیم شواہد پر مبنی اپنی رپورٹ دے چکی ہے لیکن سوال یہ ہے کہ عدالتی ریفرنس تیار کرنے کے لیے کیا وہی رپورٹ کافی ہو گی یا نہیں۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیب کے سابق ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کا کہنا تھا کہ عدالتوں میں ریفرنس بھجوانے کے لیے چھ ہفتے کا وقت بالکل مناسب ہے۔

’نیب کے لیے یہ بہت آسان ہو گیا ہے۔ ان کے مقرر کردہ تحقیقاتی افسر نے صرف ابتدائی تحقیق مکمل کر کے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ ساتھ لگانی ہے اور گواہوں کی فہرست جمع کروانی ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ملزمان کو مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سامنے بھی اپنی صفائی پیش کرنے کے لیے مناسب وقت دیا گیا تھا تاہم اگر نیب کا افسر سمجھتا ہے کہ اس کے علاوہ بھی ان کا موقف ضروری ہے تو ان کو ایک سوالنامہ بھیجا جا سکتا ہے۔

’اگر ملزمان کے خلاف کوئی اور مواد بھی سامنے آتا ہے تو اس کی بنیاد پر نیب کے پاس اختیار ہے کہ وہ ضمنی ریفرنس بھی داخل کر سکتی ہے۔اور یہ اس وقت بھی کیا جا سکتا جب مقدمہ پر عدالتی کارروائی جاری ہو۔‘

نیب کے سابق ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل نے بتایا کہ اگر نیب عدالت میں ریفرنس دائر ہو جاتے ہیں تو ملزمان کو گرفتار بھی کیا جا سکتا ہے جس کی اجازت دینے کا دائرہ اختیار نیب کے چیئرمین کے علاوہ نیب کے علاقائی ڈائریکٹر جنرل کے پاس بھی ہوتا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق ان ریفرنسوں کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الاحسن کو مقرر کیا گیا ہے۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے سابق ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل نیب ذولفقار بھٹہ کا کہنا تھا کہ نیب کافی حد تک سیاسی ہو چکی ہے ورنہ اس قسم کے تمام مقدمات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم بنانے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔

تاہم انھوں نے اس بات سے اتفاق کیا کہ مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کے بعد نیب کا کام آسان ہو گیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ تاہم نیب کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ اس رپورٹ پر کام کرنے والے تمام ممبران کو بطور گواہ پیش کرے۔

Image caption جسٹس آصف سعید کھوسہ نے چیئرمین نیب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پھر وہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار رہیں

’نیب کے لیے یہ ضروری ہو گا کہ وہ جے آئی ٹی کی تمام ٹیم کو استغاثہ کے گواہان کے طور پر پیش کرے ورنہ یہ تمام ریفرنس زیرو یعنی ختم ہو جائیں گے۔‘

انھوں نے بتایا کہ ان افسران کو عدالت میں پیش ہو کر بتانا پڑے گا کہ انھوں نے جو دستاویزات حاصل کیں وہ کہاں سے اور کیسے حاصل کیں اور ایک ایک تحقیقاتی افسر جو وہ دستاویز لایا ہے اس کے اوپر جرح بھی ہوگی۔

’ہر دستاویز پر جرح کی ضرورت ہو گی، اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ کسی بھی صورت میں یہ چھ ماہ میں ختم ہونے والا معاملہ نہیں ہے۔‘

ان کے مطابق ہر ارداہ نیب کے چیئرمین کی جانب سے طلب کی گئی دستاویز فراہم کرنے کا پابند ہو ہے۔

یاد رہے کہ نیب چیئرمین پہلے ہی سپریم کورٹ سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کی رپورٹ کا دسواں حصہ مانگ چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں