ولی خان بابر قتل کیس: فیصل موٹا کی سزائے موت معطل

ولی بابر تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption 13 جنوری 2011 کو جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ دفتر سے گھر جا رہے تھے

سندھ ہائی کورٹ نے نجی ٹی وی چینل جیو نیوز سے وابستہ صحافی ولی خان بابر کے قتل کیس میں ایم کیو ایم کے کارکن فیصل موٹا کی سزائے موت معطل کر دی ہے اور انسداد دہشت گردی کی عدالت کو حکم جاری کیا ہے کہ مقدمے کی دوبارہ سماعت کی جائے۔

سندھ ہائی کورٹ کے لاڑکانہ بینچ نے بدھ کو انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف فیصل موٹا کی اپیل کو منظور کرتے ہوئے یہ فیصلہ سنایا۔

بی بی سی کے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق عدالت نے کشمور کندھ کوٹ میں واقع انسداد دہشت گردی کی عدالت کو فیصل موٹا کے مقدمے کی دوبارہ سماعت کا حکم جاری کیا ہے۔

فیصل موٹا نے انسداد دہشت گردی کی عدالت کے فیصلے کے خلاف اپیل میں موقف اختیار کیا تھا کہ ولی خان بابر قتل کیس میں عدالت نے انہیں غیر موجودگی میں سزا سنائی ہے جو قانون کے مطابق نہیں ہے کیونکہ انھیں دفاع کا موقع فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

یاد رہے کہ 13 جنوری 2011 کو جیو نیوز کے رپورٹر ولی خان بابر کو کراچی کے علاقے لیاقت آباد میں اس وقت نشانہ بنایا گیا تھا جب وہ دفتر سے گھر جا رہے تھے۔ انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 2014 میں فیصل موٹا، سید علی رضوی، شاہ رخ عرف مانی، نوید عرف پولکا اور شکیل عرف ملک کو سزائے موت سنائی تھی۔

واضح رہے کہ رینجرز نے 2015 میں ایم کیو ایم کے مرکز پر چھاپہ مار کر فیصل موٹا، عبید کے ٹو اور نادر شاہ سمیت 26 مبینہ ملزمان کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں