وزیراعظم سب کو ساتھ لے کر چلنا چاہتے ہیں: ناصر جنجوعہ

شاہد خاقان عباسی تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی کے بدھ ہونے والے اجلاس میں وفاقی وزرا اور مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔ یہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی کا پہلا اجلاس تھا۔

وزیراعظم کی جانب سے عہدے سنبھالنے کے چند ہی دن بعد قومی سلامتی سے متعلق یہ اجلاس بلانے کو اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

لیکن کیا یہ اجلاس ان کی ذاتی ترجیح ہے یا پارٹی لائن کا عکاس؟

واضح رہے کہ قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی ملکی سلامتی سے متعلق داخلی و خارجی امور پر سول اور عسکری حکام کے درمیان روابط اور تعاون کا اعلی ترین پلیٹ فارم ہے۔

ملک کے قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) ناصر جنجوعہ نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے وزیر اعظم کی جانب سے اس اجلاس کے انعقاد کو مثبت اور اہم قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم 'اہم امور پر تمام اسٹیک ہولڈرز کو ساتھ لے کر چلنے کے خواہشمند ہیں'۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو فوجی اور سول قیادت کے درمیان یہ اجلاس کم بلانے پر اکثر تنقید کا سامنا رہتا تھا۔ تجزیہ کار اس کی مثال جنرل جہانگیر کرامت کے واقعے سے دیتے ہیں جب اپنے دوسرے دور اقتدار میں نواز شریف نے ان سے 'قومی سلامتی کونسل سے متعلق ایک پروپوزل' دینے پر استعفیٰ طلب کر لیا تھا۔

اسی معاملے پر رائے دیتے ہوئے ڈان اخبار سے منسلک سینئر صحافی باقر سجاد سید کہتے ہیں کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف کے دور میں قومی سلامتی سے متعلق اس سب سے بڑی کمیٹی کے اجلاس میں ایک، ڈیڑھ سال کا وقفہ بھی آ جاتا تھا جس کا اثر سول، فوجی تعلقات پر بھی پڑتا ہے، ' ایسا تاثر ہمیشہ رہا ہے کہ نواز شریف قومی سلامتی کے اس فورم سے یا تو خائف رہتے تھے یا ان کی غلط فہمیاں یا تحفظات تھے کہ وہ اس کمیٹی کا اجلاس کم ہی طلب کرتے تھے، تاہم وزارت عظمی کے آخری چند ماہ میں انھپوں نے تین میٹنگز کی ہیں'۔

باقر سجاد سید کے خیال میں یہ اجلاس وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ذاتی ترجیح تو ہے تاہم'پارٹی لائن' نہیں ہے۔ البتہ ان کے خیال میں اس سے وزیر اعظم کی ترجیحات کا اندازہ لگانا مشکل بھی نہیں ہے۔

اس سے پہلے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی سے برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر باجوہ سے ملاقات کی تھی اور سول فوجی تعلقات پر تفصیلی بات چیت کی تھی۔

بدھ کے اجلاس سے متعلق وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی میں افغان عوام اور حکومت کی مرضی کے مطابق افغانستان میں امن عمل کی مکمل حمایت کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے ۔کمیٹی نے لائن آف کنٹرول پر انڈین فوج کی فائرنگ کے واقعات پر تشویش کا اظہارکیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ علاقائی امن اور استحکام کشمیر سمیت تمام حل طلب مسائل کے حل سے مشروط ہیں۔

واضح رہے کہ اگست 2013 میں اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف نے ڈیفنس کیبینٹ کمیٹی (ڈی سی سی) کے اجلاس کے دوران اس وقت ڈی سی سی کو قومی سلامتی کی کابینہ کمیٹی (سی ٹو این ایس) میں بدلنے کا فیصلہ کیا تھا جب 'قومی سلامتی کونسل' کو دوبارہ بحال کرنے کا معاملہ زیر بحث آیا تھا۔ خیال رہے کہ سابق صدر جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف نے 2004 میں پارلیمان کے ایکٹ کے ذریعے قومی سلامتی کونسل تشکیل نو کی تھی، 2006 میں میثاق جمہوریت میں اس کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ جس کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قومی سلامتی کونسل معطل رہی۔

اس سے پہلے 1969میں صدر یحیی خان نے پہلی بار قومی سلامتی کونسل بنائی جسے ختم کر کے 1976 میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ڈیفنس کیبینٹ کمیٹی (ڈی سی سی) تشکیل دی۔

اسی بارے میں