سردار یعقوب ناصر مسلم لیگ ن کے قائم مقام صدر منتخب

تصویر کے کاپی رائٹ customstoday

حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے اپنی جماعت کے سینیئر نائب صدر سردار یعقوب ناصر کو پارٹی کا قائم مقام صدر منتخب کیا ہے۔

سردار یعقوب خان ناصر اس وقت تک اپنی ذمہ داریاں ادا کریں گے جب تک پارٹی انتخابات نہیں ہو جاتے۔

جمعرات کو پنجاب ہاؤس میں ہونے والے پاکستان مسلم لیگ نواز کی مرکزی عاملہ کے اجلاس میں ایوان بالا یعنی سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفرالحق نے سردار یعقوب خان ناصر کا نام پارٹی کے قائم مقام صدر کے طور پر پیش کیا جس پر مجلس عاملہ کے تمام ارکان نے اس کی تائید کی۔

٭ ’نواز کی نااہلی کے بعد شہباز شریف پارٹی کے صدر ہوں گے‘

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق حکمراں جماعت نے جنرل باڈی کا اجلاس سات ستمبر کو طلب کر لیا جس میں جماعت کے مستقل صدر کا انتخاب کیا جائے گا۔ وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کے جماعت کے مستقل صدر بننے کے امکانات روشن دکھائی دیتے ہیں۔

حکمراں جماعت کی صدارت کی نشست سابق وزیر اعظم نواز شریف کی پانامالیکس میں نااہلی کے بعد خالی ہوئی تھی اور پولیٹیکل آرڈر سنہ2002 کے تحت کوئی بھی نااہل شخص پارٹی کی سربراہی نہیں کرسکتا۔

نواز شریف نے سپریم کورٹ کے اس فیصلے پر درخواست دائر کر رکھی ہے اور قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر اس درخواست پر سپریم کورٹ نواز شریف کی نااہلی ختم کردیتی ہے تو پھر سابق وزیر اعظم اپنی جماعت کے سربراہ بن سکتے ہیں۔

حکمراں جماعت کے مطابق ایسا نہ ہونے کی صورت میں وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر ہوں گے۔ میاں شہباز شریف اس وقت حکمراں جماعت کے صوبہ پنجاب کے صدر ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

جمعرات کو پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس میں نواز شریف اور وزیر اعلیٰ پنجاب شریک نہیں ہوئے جبکہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور سابق وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اجلاس میں شریک تھے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے حکمراں جماعت سے نیا صدر منتخب کرنے کے لیے خط لکھا تھا اور کہا تھا کہ نیا صدر منتخب کرنے کے بعد الیکشن کمیشن کو آگاہ کیا جائے۔

حکمراں جماعت کے نومنتخب قائم مقام صدر سردار یعقوب خان ناصر کا تعلق ملک کے سب سے پسماندہ صوبے بلوچستان سے ہے اور وہ سنہ2015 میں بلوچستان سے سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے تھے۔ وہ نواز شریف کے سابق دور حکومت میں وفاقی وزیر کے عہدے پر بھی فائز رہ چکے ہیں۔

دوسری جانب پاکستان کے الیکشن کمشن نے345 سیاسی جماعتوں کی فہرست جاری کی ہے جس میں پاکستان مسلم لیگ ن کی صدارت کا عہدہ خالی ہے۔

ادھر اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان مسلم لیگ ن کی بطور سیاسی جماعت شناخت کو ختم کرنے کے لیے دائر کی گئی درخواست کو ناقابل سماعت قرار دیا ہے اور عدالت نے درخواست گزار کو الیکش کمیشن سے رجوع کرنے کا حکم دیا ہے۔

اسی بارے میں