زرداری نے بدعنوانی مقدمے کے آخری مقدمے میں بریت کی درخواست دائر

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے اپنے خلاف دائر کیےگئے آخری ریفرنس میں بریت کے لیے راولپنڈی کی احتساب عدالت میں درخواست دائر کی ہے۔

یہ ریفرنس معلوم آمدن سے زیادہ اندرون ملک اور بیرون ملک اثاثے بنانے سے متعلق ہے۔

راولپنڈی کی احتساب عدالت میں دائر اس ریفرنس میں اپنی درخواست کے حق میں دلائل دیتے ہوئے سابق صدر کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ گذشتہ 15 سال سے اس مقدمے میں ابھی تک قومی احتساب بیورو ایسے کوئی شواہد پیش نہیں کرسکا جس سے اُن کے موکل کا کوئی تعلق نکلتا ہو۔

٭ آصف علی زرداری کی بریت پر فیصلہ محفوظ

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق فاروق ایچ نائیک نے کہا کہ یہ ریفرنس سیاسی بنیادوں پر درج کیا گیا ہے اور اس سے زیادہ اس کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

فاروق ایچ نائیک کا کہنا تھا کہ اس وقت کے فوجی صدر پرویز مشرف نے سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو، ان کی والدہ نصرت بھٹو اور آصف علی زرداری کو سیاسی مخالفین ہونے کی وجہ سے ان کے خلاف ریفرنس دائر کیے تھے۔

اُنھوں نے عدالت سے استدعا کی کہ اس ریفرنس میں ان کے موکل کی بریت کی درخواست کو منظور کیا جائے۔

واضح رہے کہ سنہ 2001 میں سابق فوجی آمر پرویز مشرف کے دور میں سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو اور ان کے خاندان کے خلاف معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کیا گیا تھا۔

اس سے پہلے پاکستان پیپلز پارٹی کا سنہ 2005 میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف سے ہونے والے قومی مصالحتی آرڈیننس اور پھر سنہ2008 میں ملک کا صدر منتخب ہونے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف درج ہونے والے ریفرنس میں عدالتی کارروائی روک دی گئی تھی کیونکہ اُنھیں صدارتی استثنی حاصل تھا۔

سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کی ہلاکت اور نصرت بھٹو کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کر دیے گئے تھے۔

صدارت کے عہدے سے اترنے کے بعد آصف علی زرداری کے خلاف ریفرنس دوبارہ کھول دیے گئے تھے اور وہ متعدد ریفرنس میں بری ہوچکے ہیں جن میں پولو گراؤنڈ، اے آر وائی گولڈ اور ایس جی ایس کوٹیکنا اور اس ارسز ٹریکٹر کے ریفرنس شامل ہیں۔

اسی بارے میں