انتخابات میں دس فیصد خواتین ووٹرز کے لازم ہونے پر جماعتِ اسلامی کو تحفظات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں دائیں بازو کی سیاسی جماعت، جماعت اسلامی نے حلقہ انتخاب میں دس فیصد خواتین ووٹرز کی لازمی شرط پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اس پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

قومی اسمبلی کے اجلاس میں انتخابی اصلاحات کے ترمیمی بل پر بحث کے دوران جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ خواتین کو ووٹ کے حق سے محروم رکھنا جرم ہے تاہم اگر وہ اپنی مرضی سے ووٹ نہ دیں تو انتخابات کاالعدم قرار نہیں دیے جانے چاہئیں۔

ان کا کہنا تھا کہ 'دس فیصد خواتین ووٹرز کی شرط ختم نہ کرنے کی صورت میں یہ بل متفقہ طور پر منظور نہیں ہو سکے گا۔‘

٭ قومی اسمبلی میں انتخابی اصلاحات کمیٹی کی رپورٹ پیش

اس بل کے مسودے کے مطابق کسی حلقے میں خواتین کے ووٹ کل ڈالے گئے ووٹوں کادس فیصد نہ ہونے کی صورت میں نتائج کالعدم قرار دیے جائیں گے۔

واضح رہے کہ حزب اختلاف کی بڑی جماعتوں پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان تحریک انصاف کی طرف سے انتخابات میں دھاندلی کے الزامات سامنے آنے کے بعد سنہ 2014 میں حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نے انتخابی قوانین میں ترامیم تجویز کرنے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی تھی۔

اس کمیٹی نے انتخابی اصلاحات کے اس بل کو حتمی شکل دی ہے۔ قومی اسمبلی میں اس بل میں ماضی کے آٹھ مختلف قوانین کو شامل کرنے کے علاوہ الیکشن کمیشن کو مزید اختیار دینے کے لیے نئی تجاویز بھی شامل کی گئی ہیں۔

نئی تجاویز انتخابی فہرستوں کی تیاری، انتخابی حلقہ بندیوں، کاغذاتِ نامزدگی کو آسان اور سہل بنانے، پولنگ سٹیشنوں پر نگرانی کے لیے کیمروں کی تنصیب، خواتین ووٹر کی شمولیت، انتخابی عملے کے اختیارات، انتخابی عذرداریوں کو جلد نمٹانے اور انتخابی قواعد و ضوابط پر عملدرآمد کو یقینی بنانے سے متعلق ہیں۔

جمعے کو قومی اسمبلی میں پاکستان تحریک انصاف نے اصلاحات بل پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ جب تک ان کے 'چار نکات پر کام نہیں کیا جاتا شفاف الیکشن کا انتخاب ممکن نہیں ہوگا'۔

تصویر کے کاپی رائٹ National Assembly of Pakistan

شیریں مزاری نے آئندہ انتخابت میں بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو ووٹ کا حق، الیکشن کمیشن کی خود مختاری اور الیکشن کمشنر کی تبدیلی، بائیو میٹرک ویریفکیشن اور نگران حکومت کو منتخب کرنے کا طریقہ کار وضع کرنے کا مطالبہ کیا۔

دوسری جانب قومی اسمبلی کے اجلاس کے دوران پختونخواہ ملی عوامی پارٹی کے خان اچکزئی نے انٹیلی جنس اداروں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پاکستان کے جاسوس اداروں کا پارلیمینٹ میں کوئی کردار نہیں ہوگا، ’سیاسی جماعتیں اعلان کریں کہ ایجنسیوں سے ملنے والے کو پارٹی سے نکال دیا جائے گا'۔

محمود خان اچکزئی نے کہا کہ 'کیا ہم نے پارلیمینٹ اس لیے بنائی ہے کہ جنریلوں کو استثنی دیا جائے۔‘

ان کا مزید کہنا تھا کہ پارلیمینٹ طاقت کا سرچشمہ بنے گی تو تمام مسائل حل ہو جائیں گے۔'1970 کے بعد پاکستان میں شفاف انتخابات نہیں ہوئے، ہم آئین کی بالادستی کے لیے ایک دوسرے کا ساتھ نہیں دیتے۔‘

اس سے قبل وقفہ سوالات دوران وزارت داخلہ نے پارلیمینٹ میں تحریری جواب میں بتایا کہ گذشتہ پانچ سالوں کے دوران298 انڈین مہاجرین کو پاکستانی شہریت دی گئی ہے۔

وزارت داخلہ کے مطابق سن 2012 میں 48 اور 2013 میں 75 انڈین مہاجرین کو پاکستانی شہریت دی گئی۔ جبکہ گذشتہ برس پاکستان نقل مکانی کرنے والے 69 انڈین شہریوں کو پاکستانی شہریت دی گئی۔

اسی بارے میں