ڈاکٹر روتھ فاؤ کو سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان میں جذام کے مریضوں کے لیے اپنی زندگی وقف کرنے والی جرمن ڈاکٹر روتھ فاؤ کو کراچی میں سرکاری اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی ہدایت پر ڈاکٹر روتھ فاؤ کی آخری رسومات پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ ادا کی گئیں۔

'پاکستان کی مدر ٹریسا' ڈاکٹر روتھ فاؤ گذشتہ ہفتے دس اگست کی رات کراچی میں انتقال کر گئی تھیں۔

آخری رسومات میں صدر پاکستان ممنون حسین، آرمی چیف قمر جاوید باجوہ اور گورنر سندھ کے علاوہ دیگر اہم شخصیات نے بھی شرکت کی۔ اس دوران ڈاکٹر روتھ کو 21 توپوں کی سلامی بھی دی گئی۔

٭ پاکستان کی مدر ٹریسا چل بسیں

٭ ’”ڈاکٹر روتھ کو مدر ٹریسا سے نہ ملائیں‘

مسلح افواج کے اہلکار ڈاکٹر روتھ کے جسدِ خاکی کو کراچی کے علاقے صدر میں واقع سینٹ پیٹرک چرچ میں لے کر داخل ہوئے جبکہ ان کا تابوت پاکستانی پرچم میں لپٹا ہوا تھا۔

واضح رہے کہ آخری رسومات کے دوران سیکیورٹی کی صورتحال یقینی بنانے کے لیے تینوں مسلح افواج کے اہلکاروں نے ذمہ داریاں سنبھال رکھی ہیں۔

Image caption ڈاکٹر رتھ فاؤ جرمنی میں پیدا ہوئی تھیں جہاں وہ عالمی جنگ کی وحشیتیں دیکھ کر بڑی ہوئی تھیں

ڈاکٹر روتھ فاؤ کی پیدائش نو ستمبر 1929 کو جرمنی میں ہوئی تھی جہاں وہ عالمی جنگ کی وحشیتیں دیکھ کر بڑی ہوئی تھیں۔

1961 میں وہ جنوبی انڈیا گئیں جہاں انھوں نے جذام کے مریضوں کی دیکھ بحال کی تربیت حاصل کی جس کے بعد وہ واپس کراچی آئیں۔ یہاں انھوں نے جذام کو کنٹرول کرنے کا پروگرام شروع کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکومت کی معاونت سے انھوں نے سندھ کے علاوہ بلوچستان، خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے زیرانتظام کشمیر میں جذام کے مریضوں کے لیے مراکز قائم کیے۔ ان کی خدمات کو مد نظر رکھتے ہوئے 1979 میں انھیں وفاقی محکمہ صحت نے جذام کے بارے میں معاون مقرر کیا۔

ڈاکٹر رتھ نے 1996 میں بالآخر جزام پر قابو پالیا جس کے بعد پاکستان ایشیا میں پہلا ایسا ملک قرار دیا گیا جہاں جذام پر قابو پایا جاچکا تھا۔

انھوں نے پاکستان میں اپنے کام پر جرمن زبان میں چار کتابیں لکھی ہیں، جن میں سے 'ٹو لائیٹ اے کینڈل' کا انگریزی میں ترجمہ کیا گیا ہے۔ انھیں پاکستان میں ستارہ قائد اعظم، ستارہ ہلال ایوارڈ سے نوازا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

اسی بارے میں