’میں اپنے ماں باپ سے ملنا نہیں چاہتی‘: عدالت میں لڑکی کا بیان

Image caption ماریہ نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار ان کے سسرال والوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

اسلام آباد ہائی کورٹ نے وزارت داخلہ کو حکم دیا ہے کہ اسلام قبول کر کے مسلمان لڑکے سے شادی کرنے والی ہندو لڑکی آنوشی کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کا حکم دیا ہے اور کہا ہے کہ اس معاملے میں غفلت برداشت نہیں کی جائے گی۔

صوبہ سندھ کے شہر سکھر سے تعلق رکھنے والی اٹھارہ سالہ آنوشی جنھوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد اپنا نام ماریہ رکھ لیا ہے، اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس شوکت عزیز صدیقی کی عدالت میں جمعے کے روز پیش ہوئیں اور کہا کہ اس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کر کے سکھر کے بلاول بھٹو نامی نوجوان سے شادی کی ہے۔ ان کے مطابق یہی وجہ ہے کہ اس کے گھر والوں نے بلاول بھٹو کے اہلخانہ کے خلاف اغوا کا مقدمہ درج کروانے کے علاوہ اس کو قتل کرنے کی دھمکیاں بھی دی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ سندھ پولیس نے اس کے شوہر کے کمسن بھائیوں سمیت ان کی بہنوں کو بھی اس مقدمے میں گرفتار کیا ہوا ہے۔ ماریہ نے الزام لگایا کہ پولیس اہلکار ان کے سسرال والوں کو تشدد کا نشانہ بنا رہے ہیں۔

ماریہ کا کہنا تھا کہ اس کے والدین اور رشتہ دار انھیں گھر واپس آنے کے بارے میں پیغام بھجوا رہے ہیں لیکن انھیں خطرہ ہے کہ اگر وہ واپس چلی گئیں تو انھیں مار دیا جائے گا۔

اُنھوں نے کہا کہ وہ اپنے والدین اور دیگر رشتہ داروں سے نہیں ملتا چاہتی جس پر جسٹس شوکت عزیز صدیقی نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ خطرہ ہے کہ اس لڑکی کو بھی کاروکاری کا نشانہ بنایا جائے۔

عدالت نے وزارت داخلہ کے حکام کو حکم دیا ہے کہ وہ سندھ پولیس کے سربراہ کے علاوہ ہوم سیکرٹری سے بھی رابطہ کریں اور ان سے اس بات کی یقین دہانی لیں کہ بلاول بھٹو کے خاندان کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔

ماریہ کے چچا کرشن لعل نے میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کی بھتیجی کا ذہنی توازن درست نہیں ہے اور ان کی معلومات کے مطابق اس نے اسلام قبول نہیں کیا۔ اُنھوں نے الزام عائد کیا کہ بلاول بھٹو اور اس کے خاندان کے دیگر افراد زبردستی آنوشی کو اپنے ساتھ لے گئے تھے اس کے علاوہ گھر سے قیمتی سامان بھی لے گئے تھے۔

صوبہ سندھ میں نوجوان ہندو لڑکیوں کو زبردستی مسلمان کرکے شادی کرنے کے متعدد واقعات مقامی میڈیا میں رپورٹ ہوچکے ہیں اور ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے سندھ اسمبلی نے قانون سازی بھی کی ہے تاہم مبصرین کا کہنا ہے کہ ایسے واقعات میں کمی واقع نہیں ہوئی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں