نواز شریف نیب میں پیش نہیں ہوئے

نیب لوگو

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے دونوں صاحبزادے حسن اور حسین نواز پانامہ پیپرز کے مقدمات کے حوالے سے تفتیش کا سامنا کرنے کیلیئے جمعہ کے روز نیب کے سامنے پیش نہیں ہو پائے۔

سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے کی روشنی میں نیب کی تحقیقاتی ٹیمیں نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف چار مقدمات میں ریفرنس تیار کر رہی ہیں۔ اس حوالے سے نیب کی تحقیقاتی ٹیم جس میں نیب راولپنڈی اور لاہور کے افسران شامل تھے، اس نے نواز شریف اور ان کے دو بیٹوں کو جمعہ کے روز نیب کے لاہور دفتر میں پیش ہو کر تحقیقاتی ٹیم کے سوالات کے جوابات دینے کے لیے نوٹس بھجوائے تھے۔

* نیب نے نواز شریف اور بیٹوں کو طلب کر لیا

* ’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘

نامہ نگار عمر ننگیانہ کے مطابق اپنی قانونی ٹیم کے ساتھ مشاورت کے بعد سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے نیب کے سامنے نہ پیش ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ نواز شریف کے وکیل محمد امجد پرویز ایڈووکیٹ سپریم کورٹ آف پاکستان کی جانب سےنیب کے نوٹس کے جواب میں نیب کی لاہور کی کمبائنڈ انویسٹیگیشن ٹیم کے سربراہ کو جواب جمع کروایا گیا۔

جواب میں لکھا گیا ہے کہ نواز شریف کو نیب کے نوٹس کے بارے میں آگاہ کیا گیا جس پر انھوں نے اپنے وکیل کو ہدایات دیں ہیں کہ نیب کو بتا دیا جائے کہ وہ ان کے سامنے پیش ہونے سے قاصر ہیں۔

اس کی وجہ انھوں نے یہ بتائی ہے کہ انھوں نے سپریم کورٹ میں 28 جولائی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے جہاں اس پر کارروائی کی جا رہی ہے۔ اگر ان کی اپیل منظور ہو جاتی ہے تو نیب کی جانب سے کی جانے والی تمام تر کارروائی رائیگاں جائے گی۔

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے نیب کے سابق پراسیکیوٹر جنرل راجہ عامر عباس کا کہنا تھا کہ میاں نواز شریف کی ٹیم کی جانب سے دی جانے والی اس توجیح کی قانونی بنیاد نہیں ہے۔

’وہ یہ سمجھ رہے ہیں کہ اس کہ اوپر ان کے پاس حکمِ امتنائی ہے مگر وہ تو ابھی تک انہیں نہیں ملا، گو کہ انھوں نہ اس کے لیئے درخواست دے رکھی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد یہ دیکھنا ہو گا کہ کیا شریف خاندان جلد عدالتی کارروائی کی درخواست دیتا ہے مگر اگر ہو دیتا بھی ہے تو آجکل عدالت میں چھٹیاں ہیں۔ نیب نے اس پر عملدرآمد بھی چھ ہفتے کے اندر کرنا ہے کیونکہ یہ عدالتی حکم ہے اور اس کو مانیٹرنگ جج بڑھا نہیں سکتا۔

’لگ ایسا رہا ہے کہ اس کیس میں حدیبیہ پیپر ملز کیس کی طرح کوشش یہ کی جا رہی ہے کہ ملزمان کے بیان ریکارڈ نہ ہو پائیں اور پھر اسی طرح تکنیکی بنیادوں پر اس کیس کو بھی اڑا دیا جائے۔‘

نیب کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہو گا۔ راجہ عامر عباس کا کہنا تھا کہ قانونی طور پر نیب ان کو ایک مزید نوٹس بھیجے گا اور ان سے کہا جائے گا کہ وہ میش ہو کر اپنا بیان داخل کروائیں۔ تاہم نیب کے آئندہ لائحہ عمل کا زیادہ تر دارومدار مقدمے کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے جج پر ہو گا۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے افراد کے خلاف پانامہ پیپرز کے حوالے سے سپریم کورٹ کے حکم نیب نے چھ ہفتے کے اندر ریفرنس تیار کرکے نیب عدالتوں کے بھجوانے ہیں اور چھ ماہ کے اندر نیب عدالتوں نے ان پر فیصلہ دینا ہے۔

نیب کے پاس مزید نوٹس بھیجنے کے علاوہ نیب کے پاس یہ اختیار بھی ہے کہ وہ نواز شریف اور ان کے بیٹوں کی گرفتاری کے احکامات بھی جاری کر سکتی ہے۔ تاہم راجہ عامر عباس کے کہنا ہے کہ موجودہ حالات میں اس بات کے امکانات کم نظر آتے ہیں کہ نیب ملزمان کی گرفتاری کا حکم دے گی۔

اسی بارے میں