ڈیرہ اسماعیل خان میں جمعیت علمائے اسلام کے رہنما فائرنگ میں ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ دس دن کے دوران ڈیرہ اسماعیل خان میں ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ ہے

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا کے جنوبی شہر ڈیرہ اسماعیل خان میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے جمعیت علمائے اسلام کے رہنما اور مسجد صدیق اکبر کے مدرس، امام عطااللہ شاہ کو ہلاک کردیا ہے ۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں حالیہ دنوں میں یہ ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ ہے ۔

پولیس اور فوج پر حملے، سات اہلکاروں سمیت آٹھ ہلاک

پولیس کے مطابق یہ واقعہ فجر کی نماز کے بعد بنوں چونگی کے قریب پیش آیا ۔

چھاؤنی تھانے کے انسپکٹر امجد حسین نے بی بی سی کے نامہ نگار عزیزاللہ خان کو بتایا کہ عطا اللہ شاہ مسجد صدیق اکبر میں فجر کی نماز کی امامت کے بعد بنوں روڈ پر چہل قدمی کر رہے تھے کہ اس دوران موٹر سائیکل پر سوار افراد نے ان پر فائرنگ کردی۔ عطا اللہ شاہ کو ایک گولی سر پر لگی جو جان لیوا ثابت ہوئی ۔

عطا اللہ شاہ کا تعلق ڈیرہ اسماعیل خان کے قریبی علاقے پنیالہ سے بتایا گیا ہے جہاں ان کا پیر خانہ ہے ۔ اطلاعات ہیں کہ عطا اللہ شاہ اس علاقے میں مولانا فضل الرحمان کے پیر کی حیثیت رکھتے تھے۔

پولیس انسپکٹر امجد حسین نے بتایا کہ انھوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی ہے اور بظاہر یہ ٹارگٹ کلنگ کا واقعہ نظر آتا ہے تاہم اس بارے میں مزید تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

ڈیرہ اسماعیل خان میں گذشتہ دس دن کے دوران ٹارگٹ کلنگ کا یہ چوتھا واقعہ ہے جس میں دو پولیس اہلکاروں سمیت چار افراد ہلاک اور ایک زخمی ہوئے ہیں۔

ان میں پہلا واقعہ گیارہ اگست کو بنوں روڈ پر کوٹلی امام حسین کے سامنے پیش آیا جب نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے دو پولیس اہلکاروں سید ناصر حسین شاہ اور سید یاسر حسین شاہ کو ہلاک کر دیا تھا۔

اس واقعہ کے دو روز بعد ڈیرہ اسماعیل خان کے مریالی کے علاقے میں سرکاری ملازم مظہر شیرازی کو ان کے گھر کی دہلیز پر نا معلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک دیا تھا۔

مظہر شیرازی کے بھتیجے شاہد شیرازی ایڈووکیٹ کو گذشتہ عید کے روز نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا تھا جس کے بعد مقامی لوگوں نے کوٹلی امام حسین کے سامنے ڈیرہ بنوں روڈ کو احتجاجاً بلاک کر دیا تھا۔

اس کے بعد سترہ اگست کو عیدگاہ کے علاقے میں نا معلوم افراد نے سجاد حسین پر حملہ کیا تھا جس میں وہ زخمی ہو گئے تھے۔

چند روز پہلے جنوبی ضلع بنوں میں بھی ایک پولیس اہلکار کو فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا گیا تھا ۔ ان واقعات کے بعد علاقے میں خوف پایا جاتا ہے۔

خیبر پختونخوا میں سات ماہ کے دوران ٹارگٹ کلنگ کے متعدد واقعات پیش آئے ہیں جن میں اب تک 48 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں