مختار، مختاراں مائی اور مختار نامہ!

مختاراں مائی
Image caption مختاراں مائی کے ساتھ جو ظلم ہوا، وہ کوئی نئی بات نہ تھی، فرق صرف اتنا تھا کہ اس نے آواز اٹھائی

بہت برس پہلے کا ذکر ہے ہماری فزکس لیب میں ایک تجربہ ہو رہا تھا، جس میں روشنی کے انعکاس کے بارے میں کچھ معلوم کرنا تھا۔ اس مقصد کے لیے فی طالبہ تین کامن پین، ایک سادہ ورق اور ایک منشور(پرزم) دیا جا رہا تھا۔ ہم دو متوازی لائنوں میں کھڑی تھیں، ایک لائن جا رہی تھی اور دوسری تجربے کا سا مان لے کر آرہی تھی۔

سامان لانے والی لڑکیاں کچھ پریشان تھیں۔ ایک لڑکی نے جاتے جاتے میرے کان میں سرگوشی کی کہ لیب اسسٹنٹ مختار، پن پکڑانے کے بہانے ہر لڑکی کی ہتھیلی پہ چٹکی لے رہا ہے۔

میں بہانے باز اور بزدل قسم کی انسان ہوں، فوراً بیماری کا بہانہ جڑ کے غائب ہوئی اور دوبارہ کبھی پلٹ کے لیب کا رخ نہ کیا جس کا نتیجہ میٹرک کے سالانہ نتائج میں سامنے تھا۔ میں نہیں جانتی اس 'مختار' سے خوفزدہ ہونے والیوں میں کتنی ایسی لڑکیاں ہوں گی جن کو شاید بڑا سائنس دان بننا تھا اور وہ مختار جو صرف ان کو 'تین پن' پکڑانے پہ قادر تھا، کتنے ذہنوں کو داغدار کر گیا۔

آج اگر زندہ بھی ہو گا تو نماز کی گول ٹوپی پہن کر مسجد جاتا ہو گا، سجدوں میں خدا کو پکارتا ہو گا اور حیران ہوتا ہو گا کہ اتنے سال کی ایمان دار نوکری اور عمر بھر کی عبادت کے باوجود اس کے حالات کیوں نہیں بدلتے؟

مختاراں مائی کا واقعہ اس کے بہت بعد رونما ہوا۔ مختاراں کے ساتھ جو ظلم ہوا، وہ کوئی نئی بات نہ تھی۔ اس روئے زمین پر انسان کی انسان پہ ظلم کی کہانی کوئی نئی نہیں۔ فرق صرف اتنا تھا کہ اس نے آواز اٹھائی، آواز اٹھانا بہت مشکل ہوتا ہے، یہ ان سے زیادہ کوئی نہیں جانتا جو آواز نہیں اٹھاتے۔

یہ واقعات آج اس لیے یاد آئے کہ ہندوستان میں ایک دس سالہ بچی جو اپنے ہی کسی رشتے دار کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہوئی، اس بچی کے ہاں لڑکی پیدا ہوئی۔

کچھ واقعات اتنے بھیانک ہوتے ہیں کہ ان سے نظر ہٹانے کی شدید خواہش کے باوجود نظر ہٹائی نہیں جا سکتی۔ یہ واقعہ بھی کوئی نیا نہیں، دنیا میں ہزاروں واقعات اس نوع کے رونما ہوتے رہتے ہیں۔

انسان کی درندگی سے انسان کب محفوظ رہا ہے۔ مجھے اپنے گاؤں کی وہ بچی بھی یاد ہے جسے اس کے سگے باپ نے جانے کتنے عرصے تک ہوس کا نشانہ بنایا اور اس سے پیدا ہونے والے اپنے بچے کو مار کے مٹکے میں ڈالا اور نہر میں بہا دیا تھا۔ کسی جگہ جل کھنبی کے کنج میں وہ مٹکا اٹک گیا اور یہ راز کھلا۔

جل کھنبی کے کاسنی پھو لوں اور ہرے ڈنٹھلوں کے بیچ اٹکا وہ مٹکا اور اس میں سے جھانکتی اس بچے کی معصوم اور مردہ شکل، ننھے سیپوں جیسے بند پپوٹے اور چھوٹا سا گلابی دہانہ، ننھی سی گردن پہ موٹی موٹی انگلیوں کے نیلے نشان، جیسے کسی فرشتے کو زبردستی آسمان سے گھسیٹ کے زمین پہ لایا گیا ہو اور پھر مار کے پھینک دیا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption انڈیا میں گذشتہ کئی برسوں سے ریپ کے خلاف آواز اٹھائی جا رہی ہے

سالوں پرانی یہ زہریلی تصویریں ذہن کے پردے پہ ایک کے بعد ایک کر کے چلے جا رہی ہیں۔ پیدا ہونے والی بچی کو کوئی خاندان گود لے لے گا اور وہ زندگی بھر اپنی ماں سے نہ مل پائے گی۔ وہ بچی، جو اس سارے بھیانک عمل سے گزری، بڑی ہو گی، شاید ایک بہتر زندگی بھی گزار لے گی ، کیونکہ اس کے لیے آواز اٹھائی گئی ہے۔

ان واقعات میں ایک ہی قدر مشترک ہے کہ ان میں ظلم کرنے والا ان لڑکیوں کا 'مختار' ہی تھا۔ اجنبی حملہ آور سے بچنے کے لیے تو انسان کافی حد تک ہوشیار ہوتا ہے مگریہ اپنے، جوکبھی جسمانی، کبھی ذہنی، کبھی سماجی اور کبھی معاشی ریپ کرتے ہیں، شاید زیادہ بڑی سزا کے مستحق ہیں۔

ہمارے ہاں جسمانی ریپ کی سزا تو موجود ہے ذہنی اور سماجی ریپ جسے ہراسانی کہا گیا ہے، اس کے لیے بھی قانون بن گیا ہے لیکن کیا کبھی معاشی ریپ کے لیے بھی کوئی قانون بن پائے گا؟ اس معاشی ریپ میں، حق مہر معاف کرانے سے لے کر بھائی، بیٹے اور شوہر کو 'بعوض مہر و وفا' اپنی جائیداد دے دینا اور اسی طرح کے دیگر معاشی فوائد شامل ہیں۔ صاحبِ جائیداد اور تنخواہ دار، ہر دو طرح کی خواتین اس ظلم کا شکار ہوتی ہیں۔

اس معاشی ظلم کے لیے قانون میں ایک بہت بڑا جھول مو جود ہے، 'مختار نامہ'۔ وہی مختار، جو لیب میں بچیوں کو چٹکیاں لے کر سہماتا تھا، کبھی، چچا کبھی سگے باپ اور کبھی بھائی کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور اب کی بار اس کے ہاتھ میں معاشی ریپ کے لیے مختار نامہ ہوتا ہے۔ خواتین کے ساتھ جس قدر فراڈ مختار ناموں کے ذریعے کیے گئے ہیں اس کے اعداد و شمار اگر اکٹھے کیے جائیں تو وہ اجنبی لوگوں کے معاشی استحصال سے کہیں زیادہ ہوں گے۔

وہی عدالتی نظام، جس کے گورکھ دھندوں سے گھبرا کے لوگ پنچایت کا رخ کرتے ہیں مختار نامے بانٹتے ہوئے اتنی آسانی کیوں پیدا کر دیتا ہے؟ کیا مختار نامے کے لیے، کسی بیان، کسی بائیو میٹرک کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے؟ اور کیا کسی عورت کو اپنی جائیداد کے لیے کسی مختار کی ضرورت ہونی بھی چاہیے یا نہیں؟

حاکم خاندان اپنی مدتِ حکومت طویل کرنے کے لیے اور حزبِ اختلاف ان کی ٹانگ کھینچنے کے لیے تو سڑکوں پہ آجاتے ہیں۔ عورت کی آزادی جتانے کو عائشہ گلالئی، عائشہ احد اور ماروی میمن کی مدد تو لے لیتے ہیں لیکن کیا کبھی، 'مختار، مختاراں مائی اور مختار نامے' کی اس ازلی اور ابدی تکون کو توڑنے کے لیے بھی کوئی باہر نکلے گا یا، برمودا ٹرائی اینگل کی سی نحوست لیے یہ تکون ہمیشہ ہم پہ مسلط رہے گی؟

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں