وزارت چھوڑنے کی وجہ بتانا ’پارٹی کے لیے نقصان دہ‘ ہوگا

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چوہدری نثار علی خان 24 دن کے بعد میڈیا کے سامنے آئے

پاکستان کے سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار نے کہا ہے کہ انھوں نے کچھ معاملات کی وجہ سے وزارت چھوڑی تاہم وہ اس پر اظہار خیال نہیں کر سکتے کیونکہ ایسا کرنا پارٹی کے لیے نقصان دہ ہوگا۔

خیال رہے کہ چوہدری نثار نے 27 جولائی پاناما کیس کے فیصلے کے حوالے سے کہا تھا کہ ’جس دن سپریم کورٹ کا فیصلہ آتا ہے چاہے وہ حق میں ہو یا مخالفت میں، میں وزارت سے بھی استعفیٰ دوں گا اور اسمبلی کی رکنیت سے بھی اور آئندہ الیکشن میں بھی حصہ نہیں لوں گا۔'

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی نااہلی اور اس کے بعد ان کی جانب سے اسلام آباد سے لاہور کے سفر کے دوران یہ خبریں گردش کرتی رہیں کہ مسلم لیگ ن کے اندر احتلافات ہیں تاہم پارٹی قیادت نے اس کی ہمیشہ تنقید کی ہے۔

اتوار کو اسلام آباد میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے چوہدری نثار نے کہا کہ جو بھی ایشوز ہیں وہ پارٹی کے اندر ہیں انھیں لیک کرنا بدیانتی ہے۔

چوہدری نثار کے مطابق وہ 24 دن بعد میڈیا کے سامنے آئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سیاست چھوڑنے کے بارے میں میڈیا پر آنے والی خبر کی وضاحت کرنا چاہتے ہیں۔ ’مجھے پتہ چلا کہ میڈیا پر یہ آ رہا ہے کہ میں نے سیاست چھوڑ دی ہے میں نے اس کی تردید کی۔‘

پاناما کیس کا فیصلہ آتے ہی مستعفی ہو جاؤں گا: چوہدری نثار

کیا حکمران جماعت میں دراڑیں پڑ رہی ہیں؟

چوہدری نثار کا کہنا ہے کہ انھوں نے کہا تھا کہ وہ اپنی سیاسی جماعت میں قائم دائم رہیں گے۔

انھوں نے کہا کہ ’کوئی آسانی سے کونسلر شپ سے بھی مستعفی نہیں ہوتا میں نے وزارتِ داخلہ سے استعفیٰ دیا ہے۔ میں مشکور ہوں میاں نواز شریف کا بھی وزیراعظم خاقان عباسی کا بھی جو آخر وقت تک مجھے قائل کرنے کی کوشش کرتے رہے۔‘

چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ انھوں نے اختلاف رائے کی وجہ سے استعفیٰ دیا اور اختلاف رائے آج بھی برقرار ہے۔

تقریباً آدھے گھنٹے پر مشتمل پریس کانفرنس میں چوہدری نثار نے بحیثیت وفاقی وزیر وزارتِ داخلہ کی جانب سے کیے جانے والے مختلف اقدامات کے بارے میں بھی بات کی۔

ان کا کہنا تھا کہ وہ کہہ سکتے ہیں کہ اس وقت ملک میں دہشت گردوں کا کوئی تربیتی نیٹ ورک یا گراؤنڈ نہیں ہے۔

سابق وزیر نے بتایا کہ پاکستان میں گذشتہ سوا چار سال میں دہشت گردی کا گرف نیچے آیا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ان کے دور میں 32 ہزار پاسپورٹ کینسل کیے گئے اور 10 ہزار لوگوں کے نام ای سی ایل سے نکالے۔

اسی بارے میں