لاہور ہائی کورٹ میں ہنگامہ آرائی، ملتان بار کے صدر کا لائسنس معطل

لاہور ہائی کورٹ نے وکلا کے ساتھ عدالت کے باہر ہنگامہ آرائی کرنے والے ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان بینچ کے صدر ایڈوکیٹ شیر زمان کے ناقابل ضمانت گرفتاری وارنٹ جاری کرتے ہوئے ان کا لائسنس معطل کر دیا ہے۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق پیر کی صبح ایڈوکیٹ شیر زمان کے خلاف توہین عدالت کیس کی سماعت سے قبل وکلا کی بڑی تعداد احتجاج کے لیے عدالت کے باہر موجود تھی۔

اس موقع پر سکیورٹی کے خصوصی انتظامات کیے گئے تھے اور پولیس کی بھاری نفری تعینات تھی۔

خیال رہے کہ گذشتہ ماہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن ملتان بینچ کے صدر ایڈوکیٹ شیر زمان اور لاہور ہائی کورٹ ملتان بینچ کے جج جسٹس قاسم خان کے درمیان تلخ کلامی ہوئی تھی جس کے بعد وکلا نے احتجاج کیا اور جج کے کمرے کی تختی اکھاڑ دی تھی۔

بعد میں چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ نے ملتان بینچ میں کام کرنے والے ججز کو واپس لاہور بلوا لیا اور ہدایت کی کہ اس معاملے کو افہام وتفہیم کے ساتھ حل کریں۔

چیف جسٹس نے اس معاملے کے حل کے لیے پانچ رکنی بینچ بنایا تاہم وکلا اس بینچ میں پیش نہیں ہوئے۔ بعد ازاں ایڈوکیٹ شیر زمان کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی گئی تھی۔

وکلا نے چیف جسٹس کی عدالت کی جانب جانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انھیں وہاں جانے سے روکا۔ اس دوران وکلا نے داخلی دروازے پر موجود واک تھرو گیٹ کو اکھاڑ دیا۔

پولیس کی جانب سے منتشر کیے جانے کے بعد وکلا نے مال روڈ پر اس دروازے پر پھتراؤ کیا جہاں سے ججز عدالت میں داخل ہوتے ہیں۔

پولیس نے وکلا کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پانی کی تیز دھار کا چھڑکاؤ بھی کیا۔

صدر لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن چوہدری ذوالفقار نے منگل کو احتجاج کی کال دی ہے۔

نامہ نگار کے مطابق وکلا کے احتجاج اور پولیس کے ساتھ جھڑپوں کے نتیجے میں وہاں موجود آٹھ افراد معمولی زخمی ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں