نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption شریف خاندان کا کوئی فرد بھی ابھی تک نیب کے سامنے پیش نہیں ہوا ہے

پاناما لیکس سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔

اس ضمن میں نیشنل بینک کے صدر سعید احمد نیب کی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیر کو پیش ہوئے۔

نیب کے اہلکار کے مطابق نیشنل بینک کے صدر لاہور میں واقع نیب کے دفتر میں پیش ہوئے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق تفتیشی ٹیم نے سعید احمد نے سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کی بیرون ممالک جائیدادوں کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔

نواز شریف نیب میں پیش نہیں ہوئے

نیب نے نواز شریف اور بیٹوں کو طلب کر لیا

نیب حکام کے مطابق نواز شریف اور ان کے بچوں کو اس معاملے میں طلبی کے نوٹس جاری کیے گئے تھے لیکن وہ تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

حکمراں جماعت کا دعویٰ ہے جب تک نواز شریف کی جانب سے سپریم کورٹ کے28 جولائی کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست پر فیصلہ نہیں ہو جاتا اس وقت تک نواز شریف اور ان کے خاندان کا کوئی بھی فرد نیب کے سامنے پیش نہیں ہوگا۔

نیب حکام نے سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس کی تیاری کے لیے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے چھ ارکان کے بیان ریکارڈ کرنے کے بارے میں بھی رابطہ کیا ہے تاہم ابھی تک ان افراد کی جانب سے کوئی درعمل نہیں دیا گیا۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو اپنے متفقہ فیصلے میں قومی احتساب بیورو کو چھ ہفتوں میں سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف چار ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا۔

نیب حکام نے نیشنل بینک کے صدر کے علاوہ ان کے قریبی ساتھی جاوید کیانی کو بھی طلب کیا تھا لیکن اطلاعات کے مطابق وہ بھی تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوئے۔

دوسری جانب نیب حکام نے وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی 22 اگست کو تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کے بارے میں طلبی کا نوٹس جاری کر رکھا ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سپریم کورٹ کے 28 جولائی کے فیصلے پر نظرثانی کی درخواست دائر کی ہے۔

اسحاق ڈار کے وکیل طارق حسن کی وساطت سے دائر کی گئی نظرثانی کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ کی جانب سے 28 جولائی کے فیصلے میں سقم موجود ہیں۔

اس درخواست میں مزید کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس کے معاملے پر عدالت نے مکمل ریکارڈ کی چھان بین ہی نہیں کی لہذا اس معاملے کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے۔

نظر ثانی کی اس درخواست میں سپریم کورٹ سے استدعا کی گئی ہے کہ 28 جولائی کا فیصلہ کالعدم قرار دے کر ان کے خلاف دائر کی گئی درخواستیں خارج کی جائیں۔

نظر ثانی کی اس درخواست میں کہا گیا ہے کہ پاناما کیس کے سلسلے میں 20 اپریل کے عدالتی فیصلے میں بھی اسحاق ڈار کے خلاف تحقیقات کا کوئی حکم نہیں تھا۔

نظر ثانی درخواست کے مطابق 'جے آئی ٹی رپورٹ کے خلاف وفاقی وزیر خزانہ کے اعتراضات کو زیرِ غور نہیں لایا گیا۔ درخواست میں اس بات کا بھی ذکر کیا گیا ہے کہ سنہ 1983 سے 2016 تک کا مکمل انکم اور ویلتھ ٹیکس کا ریکارڈ سپریم کورٹ میں فراہم کیا گیا تھا جس میں ٹیکس انتظامیہ کی طرف سے ٹیکس ریٹرنز کو تسلیم کیا ہے۔

نظرثانی درخواست میں ریفرنس دائر کرنے کے معاملے پر یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ ’مشکوک تحقیقاتی رپورٹ‘ پر ریفرنس کیسے دائر ہوسکتا ہے جبکہ ریکارڈ سے ثابت ہے کہ وزیر خزانہ کے اثاثے آمدن سے زائد نہیں ہیں۔ درخواست گزار کا کہنا ہے کہ اگر حقائق کے برخلاف ریفرنس دائر ہوا تو یہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہوگی۔

اسحاق ڈار نے 28 جولائی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست میں موقف اختیار کیا ہے کہ جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد پاناما کیس کی سماعت 3 ججز نے کی جبکہ فیصلہ 5 ججز نے سنایا اور جن 2 جج صاحبان نے کیس سنا ہی نہیں وہ فیصلے میں کیسے شامل ہو گئے

درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ 'ریفرنسز کی نگرانی کے لیے سپریم کورٹ کے نگران جج کا تقرر سے عدالت بظاہر شکایت کنندہ بن گئی ہے اور ، نگران جج کی تعیناتی ٹرائل پر اثر انداز ہو گی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے 28 جولائی کو اپنے فیصلے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو نااہل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی وزیر اسحاق ڈار کے خلاف بھی معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے پر قومی احتساب بیورو کو اُن کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کا حکم تھا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں