’پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے‘

میجر جنرل آصف غفور تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے کہا ہے کہ پاکستان میں سول ملٹری تعلقات کا کوئی مسئلہ نہیں ہے اور ڈان لیکس رپورٹ عام کرنا حکومت کی صوابدید ہے۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی اختلاف نہیں ہے، ہم ایک پیج پر ہیں، ڈان لیکس رپورٹ حکومت نے کھولنی ہے فوج نے نہیں، جو (شخص) بھی چاہتا ہے کہ ڈان لیکس انکوائری منظرعام پر آئے وہ حکومت سے درخواست کرے کیونکہ حقائق جاننا عوام کا حق ہے۔‘

راولپنڈی میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ حکومت اور ملٹری میں کوئی تقسیم نہیں ہے، کچھ اختلافات ہوسکتے ہیں لیکن اسے تقسیم سے تعبیر نہیں کرنا چاہیے۔‘

ڈان لیکس: حکومتی نوٹیفیکشن مسترد کرنے والی ٹویٹ واپس

ڈان لیکس: وزیراعظم نواز شریف کا نوٹیفیکیشن فوج کی طرف سے مسترد

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو این آر او دینے کے سوال پر میجر جنرل آصف غفور کا کہنا ہے کہ این آر او ایک سیاسی معاملہ ہے، فوج کو کسی این آر او کی منظوری نہیں دینی، فوج نظام کا حصہ ہے، چیئرمین سینیٹ کی تجویز پر کوئی مکالمہ ہوا تو فوج اس کا حصہ بنے گی۔

ڈی جی آئی آیس پی آر نے آپریشن خیبر فور اور آپریشن ردالفساد کے حوالے سے میڈیا کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ آپریشن خیبر فور پاک فوج کے مشکل ترین آپریشنز میں سے ایک تھا جسے مکمل کر لیا گیا ہے۔

آپریشن خیبر فور کی تفصیلات بتاتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور نے کہا کہ اس آپریشن کے دوران 52 دہشت گرد ہلاک جبکہ 31 زخمی ہوئے اور چار نے ہتھیار ڈال دیے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن خیبر فور میں پاک فوج کے دو سپاہی شہید اور 6 زخمی ہوئے۔

انھوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران دہشت گردوں کے قبضے سے برآمد کیے جانے والے سامان میں بارودی سرنگ بنانے والا سامان ملا ہے جس پر 'میڈ ان انڈیا' لکھا ہوا تھا۔

میجر جنرل آصف غفور کے مطابق وادی راجگال اور اس کے قرب و جوار کا 250 مربع کلو میٹر علاقہ کلیئر کرا لیا گیا ہے، راجگال اور شوال میں زمینی اہداف حاصل کر لیے گئے ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے مزید بتایا کہ آپریشن خیبر فور کے دوران افغان فورسز کے ساتھ بھی مشاورت کی گئی۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ راولپنڈی میں سنہ 2013 کے دوران ایک مسجد پر حملے کا نیٹ ورک پکڑا گیا، مسجد میں آگ لگانے والوں کا مقصد فرقہ واریت کو ہوا دینا تھا، مسجد پر حملہ کرنے والے اسی مسلک کے تھے۔

میجر جنرل آضف غفور کے مطابق ضرب عضب میں بلاتفریق آپریشن کیا گیا، تمام علاقوں کو کلیئر کرا لیا گیا ہے، فاٹا کے 95 فیصد لوگ واپس جا چکے ہیں۔ آئی ڈی پیز کو کیمپوں میں ہر قسم کی سہولیات فراہم کی گئیں، کسی کو زبردستی واپس نہیں بھیجا گیا۔

اسی بارے میں