بینظیر قتل کیس میں پرویز مشرف کو پیش ہونے کا حکم

مشرف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

راولپنڈی کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف کو خود پیش ہونے یا ویڈیو لنک کے ذریعے بیان ریکارڈ کروانے کا کہا ہے۔

عدالت کا کہنا ہے کہ اگر وہ خود آ کر عدالت میں بیان دیں گے تو انھیں مکمل سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔

٭ بینظیر بھٹو کی چند تصاویر

سابق فوجی صدر بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں ملزم ہیں تاہم عدالت نے سکیورٹی وجوہات کی بنا پر ہر تاریخ پر عدالت میں پیش ہونے سے استثنی دیا تھا۔

پرویز مشرف ان دنوں بیرون ملک ہیں اور موجودہ حکومت کا دعویٰ ہے کہ عدالتی حکم پر ملزم کو بیرون ملک جانے کی اجازت دی گئی۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق پیر کو سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کی سماعت کے دوران انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج اصغر خان نے اس مقدمے کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ اس مقدمے کے سرکاری وکیل نے دعوی کیا ہے کہ یہ مقدمہ عیدالاضحی سے پہلے ختم ہو جائے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption سابق وزیر اعظم 27 دسمبر سنہ2007 میں راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھی

انسداد دہشت گردی کی عدالت کے جج نے اس مقدمے کے سرکاری وکیل چوہدری اظہر کو اس مقدمے میں اپنے دلائل دینے کا کہا ہے۔

چوہدری اظہر نے بی بی سی کو بتایا کہ خواجہ امتیاز اس سلسلے میں دلائل دیں گے جبکہ حتمی دلائل وہ (چوہدری اظہر) دیں گے۔ سماعت کے دوران دو ملزمان جن میں سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس ایس پی خرم شہزاد کے بیانات قلمبند کیے گئے ہیں۔

اس مقدمے کے سرکاری وکیل کے مطابق استغاثہ کے دلائل مکمل ہونے کے بعد ملزمان کے وکلا دلائل دیں گے اس مقدمے میں آٹھ نامزد ملزمان حیات ہیں جبکہ پولیس رپورٹ کے مطابق اس مقدمے کا سرغنہ اور کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ بیت اللہ محسود سمیت دیگر ملزمان ڈرون حملے اور سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپوں میں مارے جا چکے ہیں۔

پرویز مشرف، سعود عزیزاور خرم شہزاد کے علاوہ،رفاقت، حسنین گل، اعتزاز شاہ اور عبدالرشید شامل ہیں۔

عدالت نے ملزم پرویز مشرف کے بیرون ملک ہونے کی وجہ سے ان کا معاملہ دیگر ملزمان سے الگ کر دیا ہے۔

اسلام آباد کی انسداد دہشت گردی کی عدالت نے لال مسجد کے سابق بائب خطیب عبدالرشید غازی اور سنہ 2007 میں ملک میں ایمرجنسی کے دوران اعلی عدالتوں کے ججز کو حبس بےجا میں رکھنے کے مقدمے میں اشتہاری قرار دے رکھا ہے۔

جبکہ ان کے خلاف آئین شکنی کا مقدمہ بھی خصوصی عدالت میں چل رہا ہے جس میں وہ پیش نہیں ہو رہے۔ عدالت نے اس مقدمے میں ملزم پرویز مشرف کی پاکستان میں جائیداد کی تفصیلات بھی طلب کر رکھی ہیں۔

سابق وزیر اعظم 27 دسمبر سنہ2007 میں راولپنڈی میں لیاقت باغ کے باہر ایک خودکش حملے میں ہلاک ہو گئی تھی جبکہ ان کے علاوہ 25 افراد بھی ہلاک ہوئے تھے۔ پنجاب پولیس کے علاوہ ایف آئی اے نے اس مقدمے میں اب تک سات سے زیادہ چالان پیش کیے ہیں۔

اسی بارے میں