ایم کیو ایم پاکستان الطاف حسین سے لاتعلقی اختیار کر کے مقبول رہ سکتی ہے؟

ایم کیو ایم تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم پاکستان کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار الطاف حسین کے پرانے ساتھی رہے ہیں

متحدہ قومی موومنٹ (پاکستان) گذشتہ ایک سال کی مشکلات اور دشواریوں کے بعد بہادرآباد میں اپنا دفتر قائم کرنے میں کامیاب ہو گئی ہے۔ نائن زیرو کے بعد یہ دفتر اس کی نئی پہچان ہے۔

سندھ کی دوسری بڑی جماعت ایک سال تک مبینہ طور پر سیاسی تنہائی کا شکار رہی لیکن وزیراعظم کا حالیہ انتخاب اسے قومی سیاسی دھارے میں واپس لے آیا ہے۔

اس سے پہلے لندن قیادت سے علیحدگی اس کی بقا کے لیے ایک بڑا چیلینج رہی۔

’ایم کیو ایم وہی جس کے قائد الطاف حسین ہیں‘

کراچی میں ایم کیو ایم حقیقی کی حقیقت

ایم کیو ایم پاکستان یا لندن کی شکست؟

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ پورے کراچی میں ایم کیو ایم کا تنظیمی ڈھانچہ 85 فیصد دوبارہ بحال ہوچکا ہے اور جو کمی رہ گئی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے دفاتر گرا دیے گئے یا سیل کر دیے گئے تھے۔

بقول خالد مقبول صدیقی جس روز یہ غیر اعلانیہ پابندی اٹھ جائے گی تو وہی ایم کیو ایم نظر آئے گی جو 1980 کی دہائی میں تھی۔

ایم کیو ایم کے بانی الطاف حسین کی گذشتہ سال 22 اگست کو متنازع تقریر اور ٹی وی چینلز پر حملے تنظیم پر ایک آفت بن کر ٹوٹے اور تنظیم ایم کیو ایم لندن اور ایم کیو ایم پاکستان میں بٹ گئی۔ اس صورتحال میں ڈاکٹر فاروق ستار، خواجہ اظہار الحسن سمیت کچھ رہنما گرفتار ہوئے تو کچھ ملک اور پارٹی چھوڑ گئے۔

تنظیم کا مرکز نائن زیرو اور شہر میں تمام دفاتر بند کر دیے گئے تھے۔

ایم کیو ایم کے سابق رکن اور پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ مصطفیٰ کمال نے جو پہلے ہی الطاف حسین مخالف بیانیے کے ساتھ سرگرم تھے، صورتحال کا فائدہ اٹھانے کی بھرپور کوشش کی اور ایم کیو ایم پاکستان کو لندن کا تسلسل قرار دیا۔ نتیجتاً ایم کیوایم کے نصف درجن سے زیادہ اراکین اسمبلی مصطفیٰ کمال کی جماعت میں شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم کے سابق رکن مصطفی کمال اب پاک سرزمین پارٹی کے سربراہ ہیں

تجزیہ نگار اور صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے کہ پاک سرزمین پارٹی، ایم کیو ایم پاکستان کو لندن کی بی ٹیم سمجھتی ہے اس لیے مسلسل ایم کیو ایم پاکستان کو ٹارگٹ کر رہی ہے کیونکہ اس کو یہ خدشہ ہے کہ ووٹر کہیں کنفیوژن میں ان کی طرف آنے کے بجائے ایم کیو ایم پاکستان کی طرف نہ چلا جائے۔

'ایم کیو ایم پاکستان میں، جس میں اراکین اسمبلی اور بلدیاتی نمائندے بھی شامل ہیں، بظاہر کوئی بڑی دراڑ نظر نہیں آتی۔ اس کی ایک بڑی یہ ہو سکتی ہے کہ ایم کیو ایم لندن شاید اتنا آگے چلی گئی ہے کہ یہاں پاکستان میں لوگوں کا اس کے ساتھ رابطہ رکھنا شاید مشکل ہو گیا ہے۔ اسی لیے لوگ ایم کیو ایم پاکستان میں رہے ہیں یا پاک سرزمین پارٹی کی طرف گئے ہیں۔‘

گذشتہ ایک سال میں صوبائی اسمبلی کے دو حلقوں پر ضمنی انتخابات ہوئے جن پر ایم کیو ایم پاکستان کو شکست کا سامنا کرنا پڑا تاہم جماعت کے رہنما خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ ووٹر آج بھی ان کے ساتھ جڑا ہے اور اگر ایم کیو ایم کی روایتی نشستوں پر ضمنی انتخابات ہوتے ہیں تو نتائج سامنے آ جائیں گے۔

ایم کیو ایم پاکستان کے موقف کے برعکس صحافی مظہر عباس کا کہنا ہے ووٹر کی سطح پر ابھی تک ایک کنفیوژن پایا جاتا ہے۔ جو لوگ اگر لندن کے ساتھ نہیں ہیں، وہ پھر بھی پاک سرزمین پارٹی یا ایم کیو ایم پاکستان سے مطمئن نظر نہیں آتے۔

گذشتہ سال الطاف حسین کے خطاب سے قبل ہی ان کی تقریر کی نشر و اشاعت پر پابندی تھی جس کے خلاف ایم کیو ایم ایک طرف احتجاج کر رہی تھی تو دوسری جانب مسلم لیگ حکومت سے مذاکرات بھی جاری تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ سال الطاف حسین کی تقاریر پر پابندی کے بعد تنظیم کے دفاتر پر بھی تالے لگا دیے گئے تھے

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر مصنف فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ الطاف حسین ایک علامتی کردار کے طور پر اب بھی موجود ہیں اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ایم کیو ایم کے سارے نعرے الطاف حسین سے شروع ہوکر ان پر ہی ختم ہوتے ہیں۔

’اب دیکھنا پڑے گا کہ ایم کیو ایم پاکستان خود کو جو الطاف حسین کی شخصیت سے کس طریقے سے لاتعلق کرتی ہے کیونکہ جو عام لوگ ہیں اور مہاجر عنصر اس کی سیاست الطاف حسین کی شخصیت کے گرد ہی گھومتی ہے۔‘

کراچی اور حیدرآباد میں ایم کیو ایم کی جڑیں بلدیاتی نطام کی وجہ سے پختہ ہوئیں۔ بلدیاتی نظام میں اختیارات کے لیے ایم کیو ایم کی عدلیہ اور پارلیمان میں کوشش جاری ہیں۔ پروفیسر فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ بلدیاتی اداروں کو اختیارات نہیں مل رہے اور اس وجہ سے لگ یوں رہا ہے کہ مہاجر محرومی اور الطاف حسین کا کردار مضبوط ہورہا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ نے موجودہ وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کو ووٹ دینے کے بدلے بند دفتر کھولنے اور گرفتار کارکنوں کی رہائی کے مطالبات رکھے تھے۔ تنظیم کا دعویٰ ہے کہ ان کے سو کے قریب کارکن اس وقت بھی لاپتہ ہیں۔

صحافی اور تجزیہ نگار مظہر عباس کا کہنا ہے کہ شاہد خاقان عباسی کی حمایت کے بدلے گورنر سندھ کی جانب سے یہ اشارہ ملا تھا کہ مرکزی سیکریٹریٹ یعنی خورشید میموریل ہال اور ایم پی اے ہاسٹل انھیں دے دیا جائے گا اور ساتھ میں وہ سیکٹر اور یونٹ دفاتر جن کے بارے میں ایم کیو ایم کا دعویٰ ہے کہ وہ اس کے ہیں، انہیں بھی کھولنے کی اجازت دے دی جائیگی لیکن سندھ حکومت نے اس کی مخالفت کی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایم کیو ایم پاکستان کا دعویٰ ہے کہ ان کے سو کے قریب کارکن اس وقت بھی لاپتہ ہیں۔

خالد مقبول صدیقی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں جگہ نہ ملی تو اس کا مطلب ہے کہ سندھ کے شہری علاقوں کو اہمیت نہیں دی گئی اور شہری علاقوں کے بغیر اکثریتی حکومت تو لائی جا سکتی ہے لیکن وہ نمائندہ حکومت تصور نہیں کی جا سکتی۔

'حکومتیں اور ریاستیں ہم جیسی جماعتوں کو ہمیشہ چھوٹے نعروں پر لے کر آتی ہیں۔ آج بھی 70 فیصد آمدنی یہ شہر دے رہا ہے۔ ہمیں تو بہت کچھ مانگنا چاہیے تھا لیکن ہمارے نعرے لاپتہ کارکنوں کی بازیابی، بے گناہ ساتھیوں کی رہائی اور جو جائز دفاتر ہیں ان کو کھولنے پر آگئے ہیں۔‘

متحدہ قومی موومنٹ نے اپنے سیاسی کردار کو مزید بڑھانے کے لیے کوشاں دکھائی دیتی ہے۔

اسی سلسلے میں وہ بدھ کو کثیرالجماعتی کانفرنس منعقد کر رہی ہے جس کے لیے پہلی بار ایم کیو ایم پاکستان کی قیادت پاک سرزمین پارٹی اور ایم کیو ایم حقیقی کے دفاتر میں گئی جہاں سے انہیں مثبت جواب دیا گیا۔

قائد اعظم یونیورسٹی کے پروفیسر فرحان صدیقی کا کہنا ہے کہ اب بزور بازو سیاست کا زمانہ نہیں ہے۔

2013 کے انتخابات میں ہم نے دیکھا کہ 'جو مہاجر ووٹر ہے وہ ایم کیو ایم کی روایتی سیاست سے تنگ آ گیا تھا، یہ ہی وجہ تھی کہ پی ٹی آئی نے تقریبا دس لاکھ ووٹ حاصل کیے تھے۔'

اسی بارے میں