خبر کی اشاعت پر پریس کلب کو تالے

Image caption صحافی تالہ لگے دروازے کے باہر بیٹھے احتجاج کر رہے ہیں

پاکستان میں آجکل آزادی صحافت اور آزادی اظہار صرف الفاظ کی حد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے جبکہ قبائلی علاقوں میں 'آزادی' کے نام کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا۔ فاٹا میں اب اتنی آزادی بھی نہیں رہی کیونکہ اگر سرکاری اہلکاروں کے خلاف کوئی اخباری کانفرنس ہوتی ہے تو اس کے پاداش میں پورے پریس کلب کو ہی تالے لگا کر بند کردیا جاتا ہے۔

تین دن پہلے ایسا ہی ایک واقعہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے خیبر ایجنسی کی تحصیل جمرود میں پیش آیا جہاں ایک خبر کی آشاعت اور براہ راست کوریج پر جمرود پریس کلب کو تالے لگا کر بند کر دیا گیا۔

* ’صحافی سیلف سینسرشپ پر مجبور‘

* ’خبر سے دشمن بیانیے کی تشہیر ہوئی‘

* کوئٹہ: سائبر کرائم ایکٹ کے تحت صحافی پر مقدمہ درج

جمردو پریس کلب کے ایک سنئیر صحافی طاہر شاہ کا کہنا ہے کہ مال مویشیوں کا کاروبار کرنے والے کچھ تاجر افغانستان سے مال لے کر آرہے تھے کہ جمرود کے علاقے میں انہیں سرکاری اہلکاروں کی طرف سے روک دیا گیا اور ان سے بھاری ٹیکس مانگا جارہا تھا جو پچاس لاکھ کے قریب بنتا تھا۔

انھوں نے کہا کہ تاجروں نے ٹیکس دینے سے انکار کیا اور جمردو پریس کلب پہنچ کر انتظامیہ اور اہلکاروں کے خلاف پریس کانفرس کردی اور یہ بھی بتایا کہ ان سے بھاری رقم مانگی جارہی ہے۔ ان کے مطابق کچھ مقامی صحافیوں سے یہ غلطی سرزد ہوئی کہ انھوں نے اخباری کانفرنس کی سوشل میڈیا پر براہ راست کوریج کی جس پر انتظامیہ نے شدید ردعمل اور غصے کا اظہار کیا۔

ظاہر شاہ نے مزید بتایا کہ پریس کانفرنس کی آشاعت سے قبل ہی اسی رات کو چند سرکاری اہلکار پریس کلب آئے اور چوکیدار کو باہر نکال کر وہاں تالے لگا دیئےگئے اور اس کی کوئی وجہ نہیں بتائی گئی۔ تاہم صبح صحافیوں کی طرف سے بند پریس کلب کے سامنے بیٹھ کر پرامن احتجاج کیا گیا۔ بعد ازاں مقامی انتظامیہ اور صحافیوں کا ایک جرگہ ہوا جس کے بعد پریس کلب کو دوبارہ کھول دیا گیا۔

مقامی صحافیوں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ اس بات پر سخت ناراض تھی کہ پریس کانفرنس کی لائیو کوریج کیوں کی گئی کیونکہ تاجروں نے انتظامیہ کے خلاف باتیں کیں جو اس وقت براہ راست نشر ہوئی۔

پاکستان میں کچھ عرصے سے آزادی اظہار صرف الفاظ کی حد تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ صحافتی تنظیموں کے آپس میں اختلافات اور ریٹنگ کی جنگ نے اخبار نویسوں کی اپنے حقوق کےلیے کوششوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا ہے۔

Image caption صحافتی تنظیموں کے آپس میں اختلافات اور ریٹنگ کی جنگ نے اخبار نویسوں کی اپنے حقوق کےلیے کوششوں کو سب سے زیادہ نقصان پہنچایا

جمرود پریس کلب کے مزکورہ واقعے کو چار دن ہوگئے ہیں لیکن ابھی تک کسی صحافتی تنظیم کی طرف سے اس پر کسی قسم کے ردعمل کا اظہار کیا گیا اور نہ ہی کوئی مزمتی بیان جاری کیا گیا۔

پشاور میں صحافیوں کی سب سے بڑی تنظیم خیبر یونین آف جرنلسٹس کے صدر سیف الاسلام سیفی نے کہا کہ مارشل لا کے دور میں بھی ایسا نہیں ہوا کہ کسی پریس کلب کو تالے لگا دیے گئے ہوں۔ انھوں نے کہا کہ اگر کسی صحافی سے کوئی غلطی سرزد ہو بھی گئی ہے تو اس کے لیے قوانین موجود ہیں لیکن ایسے میں کلب کو تالے لگانے کا مطلب صحافت کا منہ بند کرنے کے مترادف ہے۔

انھوں نے کہا کہ 'پریس کلب تو ایک ادارہ ہے جہاں لوگ اپنے مسائل لاتے ہیں جنہیں ہم حکومت تک پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ایک جمہوری معاشرے میں پریس کلب کو بند کرنا انتہائی قابل مزمت بات ہے کیونکہ اس کی بندش ایسا ہی ہے کہ جیسے صحافیوں کے ساتھ ساتھ عوام سے بھی ان کا حق اظہار چھینا جا رہا ہو۔'

خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے پریس کلب پشاور کے صدر عالمگیر خان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں روز بروز صحافیوں کے مشکلات میں اضافہ ہوتا جارہا ہے اور ان کی آزادی زیادہ ہونے کی بجائے مزید کم ہوتی جارہی ہے۔

انھوں نے کہا کہ جمرود پریس کلب کی بندش کا واقعہ تاخیر سے ان کے نوٹس میں لایا گیا لیکن پشاور کی صحافی برادری اپنے قبائلی ساتھیوں کی حق کےلیے ہر فورم پر آواز اٹھائی گی۔

عالمگیر خان کے بقول 'ہمیں معلوم ہے کہ قبائلی علاقوں میں غیر معمولی حالات ہیں وہاں حکومت کو بھی مشکلات کا سامنا ہے لیکن اس کا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ وہاں صحافیوں کی آزادی پر قدغن لگائی جائے۔'

اس سلسلے میں مقامی انتظامیہ کا موقف معلوم کرنے ان سے بار بار رابطے کی کوشش کی گئی لیکن کامیابی نہیں ہوسکی

خیال رہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف جنگ شروع ہوجانے کے بعد سے نہ صرف کئی صحافی فرائض کے دوران ہلاک ہوچکے ہیں بلکہ وقتاً فوقتاً کئی قوانین اور ' قومی مفاد' کے نام پر ان کی آزادی صلب بھی ہوتی رہی ہے۔

اسی بارے میں