ججوں کے ساتھ بد تمیزی کیس: وکلا کا احتجاج جاری، صحافیوں کو دھمکیاں

وکلا

پاکستان کے مختلف علاقوں میں پیر کو لاہور ہائی کورٹ میں شروع ہونے والا وکلا کا احتجاج منگل کو بھی مختلف سطع پر جاری رہا۔

لاہور ہائی کورٹ میں ملتان بینچ کے وکلا کی جانب سے ججوں کےساتھ بدتمیزی کے خلاف کیس کی سماعت سے قبل آج وکلا کی بڑی تعداد کورٹ کے احاطے میں موجود رہی۔

گذشتہ روز کے ہنگاموں کو مدنظر رکھتے ہوئے پولیس کی بھاری نفری احاطۂ عدالت میں تعینات رہی۔

لاہور ہائی کورٹ میں ہنگامہ آرائی، ملتان بار کے صدر کا لائسنس معطل

لاہور سے نامہ نگار حنا سعید کے مطابق چیف جسٹس کی عدالت کی جانب جانے والے راستے کنٹینرز لگا کر بند کر دیے گئے تھے۔

کیس کی سماعت چیف جسٹس منصور علی شاہ کی سربراہی میں لارجر بینچ نے کی۔

ججوں سے بدتمیزی کرنے والے ایڈووکیٹ قیصر عباس عدالت میں پیش ہوئے البتہ ملتان بینچ کے صدر شیر زمان قریشی آج بھی پیش نہیں ہوئے۔

لاہور ہائی کورٹ نے گذشتہ روز شیر زمان کا لائسنس منسوخ کرتے ہوئے ان کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے تھے جس کے بعد ہائی کورٹ کے احاطے میں وکلا نے احتجاج کرتے ہوئے ہنگامہ آرائی کی تھی اور پولیس نے ان کو روکنے کے لیے آنسو گیس اور واٹر کینن کا استعمال کیا تھا۔

آر پی او ملتان نے شیر زمان قریشی کو گرفتار کرنے سے متعلق رپورٹ آج عدالت میں پیش کی اور بتایا کہ انھیں گرفتار کرنے کے لیے متعدد چھاپے مارے گئے لیکن ابھی تک ان کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔

لارجر بینچ نے ایڈووکیٹ شیر زمان قریشی کی گرفتاری کے لیے پولیس کو آٹھ ستمبر تک کی مہلت دی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

کیس کی سماعت ختم ہوتے ہی وکلا نے کورٹ کے احاطے میں چیف جسٹس اور ججوں کے خلاف نعرے بازی شروع کردی۔ اس دوران کچھ وکلا نے میڈیا کے نمائندوں کو دھمکایا کہ گذشتہ روز نیوز چینلز پر وکلا گردی کا الزام لگا کر ان کے احتجاج کو منفی انداز میں پیش کیا گیا۔

کورٹ رپورٹرز کے صدر شعیب علی نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ میڈیا کو خاموش کروانے کی کوشش کی گئی لیکن رپورٹرز کوریج جاری رکھیں گے۔

'میڈیا نے وہی دکھایا جو وکلا کر رہے تھے، سچائی دکھانے پر ان کو بہت تکلیف ہوئی ہے۔ آج صبح آ کر جب ہمارے کیمرہ مین نے ان لوگوں کی فوٹیج بنانا شروع کی تو کچھ وکلا ہمارے پاس آئے اور کہا کہ نہ تو ہماری کوئی فوٹیج بنے اور نہ آپ نے ہمارے بارے میں کوئی کوریج کرنی ہے۔ انھوں نے ہمیں دھمکایا کہ اگر کوریج کی تو ہم آپ کے کیمرے بھی توڑ دیں گے۔ ایک ٹولے نے یہ بھی کہا کہ یہاں سے باہر چلے جائیں ورنہ جھگڑا ہو جائے گا۔ ہم باہر گئے تو ہائی کورٹ بار والوں نے ہم سے رابطہ کر کے یقین دہانی کروائی کہ آئندہ ایسا کچھ نہیں ہو گا۔ عوام تک سچائی بھی تو پہنچانی ہے۔'

جب اس بارے میں سیکریٹری ہائی کورٹ بار عامر سعید سے پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وکلا کے خلاف غلط کوریج کی گئی البتہ آئندہ کی کوریج صحافیوں کے ساتھ مل کر کریں گے۔

عامر سعید کا کہنا تھا 'کل کچھ ایسی کارروائیاں ہوئیں جن میں چند چینلوں نے ہمیں وکلا گردی کا ٹائٹل دیا، یہ غلط ہے۔ چند میڈیا ہاؤسز نے تو ایسے قانون دانوں کو بٹھا کر ہم پر تبصرہ کیا جن کا بار سےکوئی تعلق بھی نہیں تھا۔ ان لوگوں نے ٹی وی پر بیٹھ کر وکلا کے خلاف باتیں کیں جس میں قدرتی طور پر ایسا ردِعمل آتا ہے۔

سیکریٹری لاہور ہائی کورٹ بار کے مطابق آج لاہور میں وکلا کا جنرل اجلاس منعقد ہوا جس میں یہ قرارداد منظور کی کہ ملتان بینچ کے صدر شیر زمان کے خلاف چیف جسٹس نے جو نوٹس لیا ہے اس کو جلد از جلد واپس لیا جائے ورنہ وکلا کا ملک گیر احتجاج جاری رہے گا۔

کراچی سے نامہ نگار ریاض سہیل کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کی ضلعی کچہریوں میں منگل کی صبح وکلا نے عدالتوں بائیکاٹ کیا جس کے بعد ایم اے جناح روڈ پر دھرنا دیا۔ سندھ ہائی کورٹ میں بھی وکلا تنظیموں نے بائیکاٹ کیا۔

کراچی بار کے سابق صدر محمود الحسن نے تجویز پیش کی کہ مستقبل میں اس قسم کے واقعات سے بچنے کے لیے ایک فیکٹ فائینڈنگ کمیٹی بنائی جائے۔

اسی بارے میں