’گوادر میں 70 ارب روپے کی خوردبرد‘

نیب

پاکستان کے قومی احتساب بیورو (نیب) نے کہا ہے کہ صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر گوادر میں سرکاری اراضی میں 70 ارب روپے مالیت کی خورد برد ہوئی ہے۔

کوئٹہ میں نیب کی جانب سے جاری ہونے والی ایک پریس ریلیز کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری کے مرکز میں بااثر افراد نے 3,167 ایکڑ انتہائی قیمتی سرکاری اراضی غیر قانونی طور پر اپنے نام کرائی ہے۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق نیب کا کہنا ہے کہ لینڈ مافیا کی جانب سے متعلقہ زمین پر قبضہ حاصل کرنے کے لیے حکومت کو قانونی پیچیدگیوں میں الجھا دیا گیا۔

نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا

نواز شریف نیب میں پیش نہیں ہوئے

نیب نے نواز شریف اور بیٹوں کو طلب کر لیا

'ہمارے لیے نیب وفات پا گیا'

نیب کے مطابق گوادر اراضی سکینڈل کی ابتدائی انکوائری سے یہ بات سامنے آئی کہ گوادر شہر کے چند مقامی افراد نے بااثر افراد کی آشیرباد سے جعل سازی اور کرپشن کے ذریعے سرکار کی تقریباً 12 ہزار ایکڑ اراضی اپنے نام پر الاٹ کروائی۔

بعد میں حکومتی افسران کی کوششوں سے لینڈ مافیا سے تقریباً 9,450 ایکڑ اراضی واپس لی گئی۔

نیب کا کہنا ہے کہ بعد ازاں طاقتور لینڈ مافیا نے ریونیو کے افسران کی ملی بھگت سے 3,167 ایکڑ زمین دوبارہ اپنے کروا لی جس کی مجموعی لاگت 70 ارب روپے بنتی ہے۔

نیب نے اراضی کی غیر قانونی الاٹمنٹ اور تقسیم کا نوٹس لیتے ہوئے بااثر افراد کے خلاف سخت ایکشن لینے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔

نیب کا کہنا ہے کہ ملوث افراد کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے حکمت عملی تیار کر کے انکوائری کا آغاز کر دیا گیا ہے۔

پریس ریلیز کے مطابق نیب بلوچستان نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ سرکاری خزانے کو نقصان پہنچانے والے جعل سازوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں