’چند روپوں کے لیے دریا میں چھلانگ لگانے والا نوجوان ہلاک‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

صوبہ خیبر پختو نخواہ کے ضلع ایبٹ آباد کی حدود میں گوجرانوالہ سے آیا ایک سیاح نوجوان مبینہ طور پر پندرہ ہزار نقد اور موبائل فون کی شرط جیتنے کی خاطر دریائے جہلم میں چھلانگ لگا کر ہلاک ہو گیا ہے۔

ضلع ایبٹ آباد کے پولیس سٹیشن بکوٹ کے مطابق 19سالہ علی ابرار اپنے دیگر دوستوں کے ہمراہ صوبہ خیبر پختونخواہ اور پاکستان کے زیر اہتمام کشمیر کی حدود کوہالہ کے مقام پر سیر و تفریح کررہے تھے۔

علی ابرار کے ساتھ کچھ دوستوں نے مبینہ طور پر شرط لگائی کہ اگر وہ تیر کر دریا کو پار کر لیں تو ان کو انعام میں 15 ہزار روپے نقد اور موبائل فون دیں گے۔

جس کے بعد علی ابرار نے دریا میں چھلانگ لگا دی اور درجنوں لوگوں کے سامنے دریا کی تیز لہروں سے لڑتے ہوئے نطروں سے غائب ہو گئے۔

صحافی محمد زبیر خان کے مطابق واقعے سے قبل کی آخری وڈیو پولیس کو موصول ہو گئی ہے۔

پولیس کے مطابق علی ابرار کے والد محمد ابرار کی درخواست پر پانچ افراد کے خلاف مقدمہ درج کرکے انھیں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

پولیس کے مطابق پانچوں افراد نے دوران تفتیش بیاں دیا ہے کہ ’علی ابرار ایک اچھا تیراک سمجھا جاتا تھا جس وجہ سے وہ ان کے ساتھ ہنسی مذاق کر رہے تھے اور وہ نہیں جانتے تھے کہ علی ابرار دریا میں چھلانگ لگا دے گ۔‘

مقامی لوگوں کے مطابق کوہالہ کے مقام پر دریائے جہلم انتہائی خطرناک ہے اور اس کی تیز لہروں کا مقابلہ کرنا ممکن نہیں ہے اور اس میں بڑے بڑے پتھر موجود ہیں جس سے ٹکرا کر بچنا ممکن نہیں ہوتا۔

علی ابرار کی تلاش کا کام جاری ہے تاہم ماہرین کے مطابق علی ابرار کے بچنے کی امیدیں کم ہی ہیں۔