’جہاں سب کچھ چھوڑ آئے تھے، کاروبار اسی نام پر کیا‘

انبالہ
Image caption انڈین شہروں کے نام پر دکانیں صرف کھانے کی اشیا یا اس سے منسلک کاروبار کرنے والوں تک محدود نہیں

قیام پاکستان اور انڈیا کی آزادی کے 70 برس بیت جانے کے بعد بھی کچھ شناسا اور غیرشناسا شہروں کے نام پاکستان کے گلی محلوں، بازاروں اور سڑکوں پر دکھائی لکھے دیتے ہیں۔

کچھ کھانے تو خیر مشہور ہیں ہی جو انڈیا سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والے اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں، امرتسری ہریسہ ہو یا دہلی کی نہاری، حیدرآبادی حلیم یا بنگال کی مٹھائی۔ لیکن بات صرف کھانے کی اشیا یا اس سے منسلک کاروبار کرنے والوں تک محدود نہیں۔

کاروباری حضرات کا ماننا ہے کاروبار کا نام بھی اولاد کے نام کی طرح سوچ بچار کے بعد رکھا جاتا ہے۔ پاکستان اور انڈیا جو کبھی ایک ملک تھے اور ایک کے بعد دو ہو گئے، اور ایسے کہ 70 برسوں کی نفرت تک کئی محاذوں پر نفرت کی آگ بھی سلگ رہی ہے، لیکن پاکستان میں اب بھی ان گنت دکانیں اور کاروبار ایسے ہیں جن کے نام انڈین شہروں پر رکھے گئے ہیں۔ بی بی سی اردو کے ایسے ہی چند کاروباری حضرات سے یہ جاننے کی کوشش کی کہ ایسا کیا تعلق ہے تو 70 برس بعد بھی قائم ہے؟

تقسیمِ ہند کے 70 برس: بی بی سی اردو کا خصوصی ضمیمہ

نام تبدیل مگر فیروز پور کی یادیں تازہ

راولپنڈی کے علاقے پرانا قلعہ میں واقع انبالہ ساڑھی ہاؤس بازار کی قدیم ترین دکانوں میں سے ایک ہے۔

عروسی ملبوسات اور گارمنٹس میں گھری اس طرح سے بھی منفرد ہے کہ یہ ساڑھیوں کے فروخت کے لیے مشہور ہے اور اس نام بھی انڈین شہر انبالہ پر ہے۔

انبالہ ساڑھی ہاؤس کے مالک شیخ عابد حسین نے بی بی سی کو بتایا کہ 'ہمارے خاندان کا تعلق کبھی بھی انبالہ سے نہیں رہا، نہ کبھی وہاں رہے اور نہ وہاں سے ہجرت کر کے آئے۔'

پٹیالہ
Image caption صابر پٹیالہ جیولرز کے پرانے مالک عبدالحکیم کا خاندان پٹیالہ سے ہجرت کر کے پنجاب کے شہر خوشاب میں آباد ہوا تھا

تو پھر کاروبار کا نام انبالہ رکھنے کی وجہ کیا تھا؟ شیخ عابد حسین بناتے ہیں کہ تقسیم ہند سے قبل ان کے دادا شیخ رحمت دین کا کپڑے کا کاروبار تھا اور کاروباری ضروریات کے لیے انبالہ ان کا بہت آنا جانا تھا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہمارے خاندان کا تعلق راولپنڈی کی تحصیل کلر سیداں سے ہے لیکن انبالہ میں کپڑے کی ایک مل تھی، جہاں ان کے دادا کی کاروباری تعلقات تھے۔ وہیں سے کپڑا خرید کر یہاں لاتے۔ سنہ 1947 تک ایسے ہی چلتا رہا۔'

شیخ عابد حسین کے مطابق جب پاکستان کا قیام عمل میں آیا تو ان کے دادا شیخ رحمت دین نے بھی اپنے پرانے کاروباری تعلق کے نام پر اسی مقام پر انبالہ ساڑھی ہاؤس کے نام سے کاروبار کا آغاز کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ 70 برس گزرنے کے باوجود اس دکان کا یہی نام ہے 'اور اب تو اس کی ایک منفرد پہنچان بن چکی ہے۔'

وہ کہتے ہیں کہ حالات جیسے بھی ہوں ان کے ذہن میں کبھی بھی دکان کا نام تبدیل کرنے کا خیال نہیں کیونکہ 'اب یہی نام کاروبار کی شناخت ہے۔'

پٹیالہ
Image caption چوہدری محمد سہیل اور چوہدری طارق جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے دادا نے پٹیالہ شہر کی انسیت اور پرانے تعلق کی بنا پر بھی اپنے کاروبار کا نام اس پر رکھا

راولپنڈی کے صرافہ بازار میں واقع پٹیالہ جیولرز کی دکان تقسیم ہند کے دوران ہونے والی ہجرت کی کہانی بیان کرتی ہے۔

صابر پٹیالہ جیولرز کے پرانے مالک عبدالحکیم کا خاندان پٹیالہ سے ہجرت کر کے پنجاب کے شہر خوشاب میں آباد ہوا تھا اور یہیں انھوں نے سنہ 1950 میں پٹیالہ کے نام پر کاروبار کا آغاز کیا تھا۔ تقسیم کے قبل ان کا کاروبار عبدالحکیم صراف کے نام سے جانا جاتا تھا۔

پٹیالہ جیولرز کے موجودہ مالکان چوہدری محمد سہیل اور چوہدری طارق جاوید کا کہنا ہے کہ ان کے دادا نے پٹیالہ شہر سے انسیت اور پرانے تعلق کی بنا پر بھی اپنے کاروبار کا نام اس پر رکھا۔

چوہدری محمد سہیل کہتے ہیں کہ 'ہمارے خاندان کے افراد میرے والد چوہدری صابر کی سرپرستی میں سنہ 1980 میں پٹیالہ میں اپنا آبائی گھر دیکھنے گئے تھے۔ جہاں ہم نے پرانا شہر بھی دیکھا اور اپنا گھر بھی۔'

دہلی
Image caption جامع مسجد روڈ پر واقع دہلی دواخانہ بھی دہلی شہر سے تعلق اور ہجرت کی کہانی سناتا ہے

اسی بارے میں وہ بتاتے ہیں کہ تقسیم سے قبل ان کے دادا کا کسی پر 200 روپے قرض تھا، جب انھیں پتا چلا کہ وہ آئے ہوئے ہیں تو انھوں نے ناصرف انھیں یہ رقم لوٹائی بلکہ انھیں اپنے گھر کھانے پر دعوت پر بھی بلایا۔

وہ کہتے ہیں کہ 'ہمارے میزبانوں کو معلوم تھا کہ ہم مسلمان ہیں اس لیے انھوں نے خاص احتیاط برتتے ہوئے ایسا کھانا تیار کیا جس پر کسی کو شک نہ اعتراض نہ ہو۔'

چوہدری محمد سہیل اور چوہدری طارق جاوید کہتے ہیں کہ 'آبائی شہر سے تعلق تو کبھی ختم نہیں ہوسکتا، جہاں ہمارے بزرگ اپنا سب کچھ چھوڑ کر آئے۔'

انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی کے نام پر بھی راولپنڈی سمیت کئی شہروں میں کاروبار ایک عام سی بات دکھائی دیتی ہے۔

دہلی
Image caption عمران الحق خان کے والد عزیر الحق نے دہلی سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی

راولپنڈی کی جامع مسجد روڈ پر واقع دہلی دواخانہ بھی دہلی شہر سے تعلق اور ہجرت کی کہانی سناتا ہے۔

دہلی دواخانہ کے مالک حکیم عمران الحق خان خود کو دھلوی کہلاوانے میں فخر محسوس کرتے ہیں، وہ بتاتے ہیں کہ ان کے والد عزیر الحق اور تایا شرف الحق نے دہلی سے طب کی تعلیم حاصل کی تھی اور اسی تعلیمی تعلق کا انھوں نے زندگی بھر مان رکھا۔

ان کا کہنا تھا کہ دہلی سے تعلق والد اور تایا کی تعلیم کی وجہ سے تھا اور اسی کے نام پر انھوں نے قیام پاکستان کے بعد دہلی دواخانہ کی بنیاد رکھی۔

وہ کہتے ہیں کہ 'اب تو دہلی میں کوئی رشتے دار تو ہے نہیں اور حالات بھی کچھ ایسے ہیں کہ جانا تھوڑا مشکل ہے۔'

شملہ
Image caption شملہ کے نام پر بھی کئی کاروبار نظر آتے ہیں

راولپنڈی میں سیدپور روڈ پر واقع انبالہ دری ہاؤس کے مالک جاوید قریشی کے کاروبار اور خاندان کی کہانی بھی اسی سے مماثلت رکھتی ہے۔

انبالہ دری ہاؤس کے مالک جاوید قریشی نے بی بی سی کو بتایا کہ 'میرے والد محمد ابراہیم قریشی کا انبالہ میں اجناس کا کاروبار تھا، قیام پاکستان کے وقت انھیں سب کچھ وہیں چھوڑ کر پاکستان آنا پڑا، گوداموں میں ذخیرہ اجناس کی بوریاں بھی تھیں لیکن اب انھیں راولپنڈی میں ایک نیا کاروبار شروع کرنا تھا۔'

وہ بتاتے ہیں کہ 'یہاں ہجرت کرنے کے بعد انھوں نے ابتدائی طور پر کوئی کاروبار نہیں کیا۔ پھر ان کی ملاقات کسی بڑے افسر سے ہوئی جس نے انھیں دری بافی کے کاروبار کی جانب مائل کیا۔'

انبالہ
Image caption محمد ابراہیم قریشی کا انبالہ میں اجناس کا کاروبار تھا

وہ کہتے ہیں کہ 'ہجرت کی وجہ سے بہت سے لوگ بے روزگار تھے اور میرے والد کے پاس کچھ جمع پونجی بھی تھی جس سے انھوں نے ایک کارخانے میں دریاں بننے کے کام کا آغاز کیا، اور درجنوں لوگوں کو ملازمت دی۔'

جاوید قریشی کہتے ہیں کہ اس کاروبار کا نام ان کے والد نے انبالہ پھر رکھا تھا اور 'اب اس کا نام اتنا پھیل چکا ہے کہ اس کو تبدیل نہیں کیا جاسکتا، اور کبھی اس بارے میں سوچا بھی نہیں۔'

۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں