’نیب کی تفتیش کا موجودہ طریقۂ کار بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی‘

نواز شریف تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کے سابق میاں نواز شریف اور ان کے بچوں نے ایک مرتبہ پھر قومی احتساب بیورو کی ٹیم کے سامنے پیش ہونے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

شریف خاندان کی جانب سے تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ پاناما لیکس کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کی موجودگی میں نیب کی کارروائی غیر موثر ہو گی۔

٭ نیب نے شریف خاندان کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا

٭ نواز شریف نیب میں پیش نہیں ہوئے

٭ نیب نے نواز شریف اور بیٹوں کو طلب کر لیا

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سابق وزیر اعظم کی طرف سے ان کے وکیل نے ایک تحریری جواب نیب کی ٹیم کے حوالے کیا جو میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے بیرون ممالک اثاثوں کے بارے میں تفیش کے لیے لاہور میں موجود تھی۔

پاناما لیکس کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں نیب کی ٹیم نے وزیراعظم اور ان کے بچوں کے خلاف وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی پیش ہونے کا کہا تھا لیکن کوئی بھی تفیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوا۔

اس تحریری جواب میں کہا ہے کہ نیب کی تفتیش کا موجودہ طریقۂ کار بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے جبکہ آئین کا آرٹیکل دس اے فری اینڈ فیئر ٹرائیل کا حق دیا ہے۔

اس جواب میں نیب کی تفیتش کے طریقہ کار کا ذکر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ کسی بھی انکوائری میں تفتیش کے مختلف طریقہ کار ہوتے ہیں لیکن اس معاملے میں طے شدہ طریقۂ کار کو نہیں اپنایا گیا اور نہ ہی اس بارے میں کوئی ضابطہ کار طے کیا گیا ہے۔

اس جواب میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ریفرنس تیار کرنے اور اس کو احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کرنے کا اختیار چیئرمین نیب کے پاس ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی طرف سے بھی ایک تحریری جواب نیب کی ٹیم کو جمع کروایا گیا جس میں یہ موقف اپنایا گیا ہے کہ اسحاق ڈار کو تفتیش کے دوران بنیادی حقوق سے محروم رکھا گیا اس لیے وہ قانون کے تحت تفیشی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوں گے۔

اُنھوں نے کہا کہ چونکہ سپریم کورٹ کے 28جولائی کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل دائر کر رکھی ہے اس لیے اس وقت ک نیب کی کارروائی بےمعنی ہو گی جب تک نظرثانی کی اپیل پر فیصلہ نہیں ہو جاتا۔

دوسری جانب راولپنڈی اور لاہور کے نیب کے اعلیٰ حکام نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس تیار کرنے کے بارے میں مشاورت بھی کی ہے جبکہ اس کے علاوہ نیب کے حکام اس ریفرنس میں ہونے والی پیش رفت کے لیے نگراں مقرر کیے گئے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجازالاحسن کو اب تک کی پیش رفت کے بارے میں آگاہ کریں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں