’پاکستان نے اپنے رویے کو تبدیل نہ کیا تو امریکی مراعات کھو سکتا ہے‘

امریکہ تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن

امریکہ کے وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے پاکستان پر افغان طالبان کی مبینہ حمایت پر مزید دباؤ بڑھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حکومت اپنے رویے میں تبدیلی لانے میں ناکام رہتی ہے تو امریکی مراعات کھو سکتی ہے۔

پاکستان اپنی سرزمین پر افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کی سختی سے تردید کرتا ہے اور صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان کے ردعمل میں پاکستانی دفتر خارجہ نے تفصیلی بیان میں کہا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔

٭ عالمی برادری پاکستان کی قربانیوں کو تسلیم کرے: چین

٭ ’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

٭ ’اب ’ڈو مور‘ کسی اور کو کرنا ہے ‘

٭ انڈیا اور افغانستان کا ٹرمپ کی تقریر کا خیرمقدم

دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ محفوظ پناہ گاہوں کے جھوٹے بیانیے کے بجائے امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

بیان میں صدر ٹرمپ کی پالیسی کے حوالے سے مزید کہا گیا ہے کہ کابینہ کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ 24 اگست کو قومی سلامتی کا اجلاس منعقد ہو گا جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پالیسی پر تفصیلی غور کے بعد جامع پالیسی بیان جاری کیا جائے گا۔

دوسری جانب واشنگٹن میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے پاکستان کو نیٹو اتحاد سے باہر پاکستان کو خصوصی اتحادی کا درجہ حاصل ہونے اور اربوں ڈالر کی فوجی امداد حاصل کرنے کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ'ان معاملات کو میز پر بات چیت کے لیے لایا جا سکتا ہے اگر حقیقت میں وہ( پاکستان) اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا یا ان متعدد دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کی حکمت عملی کو تبدیل نہیں کرتا جنھیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں۔'

انھوں نے کہا ہے کہ’پاکستان کے مفاد میں ہے کہ یہ اقدامات کرے۔‘

امریکی وزیر خارجہ نے افغانستان میں نہ امریکہ اور نہ ہی طالبان جنگ جیت سکتے ہیں اور کسی پوائنٹ پر امن بات چیت ہو سکتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption پاکستان دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے کی سختی سے تردید کرتا ہے

امریکی وزیر خارجہ نے امن بات چیت میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بات کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان طالبان کو بات چیت کی میز پر لانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے تاہم اسے افغانستان میں حملے کرنے والے عسکریت پسند گروپوں کو محفوظ پناہ گاہیں دینا بند کرنا ہو گا۔

پاکستان کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے امریکی وزیرخارجہ نے کہا کہ' ایک مستحکم پاکستان امریکہ اور دیگر ممالک کے مفاد میں ہے۔ وہ جوہری طاقت ہے اور ہمیں اس کے ہتھیاروں کی سکیورٹی پر تحفظات ہیں۔'

اس سے پہلے پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'

اس کے جواب میں چین نے پاکستان کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ عالمی برادری کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستانی کوششوں کو تسلیم کرنا چاہیے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں