این اے 120: ’بیگم صاحبہ کی بیماری کے بعد مریم نواز انتخابی مہم سنبھالیں گی`

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption مریم نواز (دائیں جانب) اپنی والدہ کلثوم نواز (بائیں جانب) کے ہمراہ

سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کے خاندانی ذرائع کے مطابق ان کی اہلیہ کلثوم نواز کی لندن میں گلے کے سرطان کی تشخیص ہوئی ہے جس کے سبب لاہور شہر کے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات کی مہم ان کی صاحبزادی مریم نواز سنبھالیں گی۔

واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے کلثوم نواز نے اپنے شوہر محمد نواز شریف کی پاناما کیس کے معاملے میں برطرف ہو جانے کے بعد قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 120 کے ضمنی انتخابات میں شرکت کے لیے اپنے کاغذات جمع کرائے اور اس کے بعد لندن روانہ ہو گئیں۔

* ’کلثوم نواز سیاست کو سمجھتی ہیں‘

* نواز شریف کی سیٹ پر کلثوم نواز الیکشن لڑیں گی

* نواز شریف کا متبادل کون؟

بی بی سی سے بات کرتے ہوئے پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینیئر رکن مشاہداللہ نے کہا کہ 'یہ بات واضح ہے کہ بیگم صاحبہ کی بیماری کے بعد مریم نواز ہی انتخابی مہم سنبھالیں گی۔'

انھوں نے مزید کہا کہ کلثوم نواز کا سرطان قابل علاج ہے اور امید ہے کہ وہ جلد صحت یاب ہو جائیں گی لیکن یہ یقین سے نہیں کہا جا سکتا کہ وہ علاج کے فوراً بعد سیاسی منظر پر سامنے آجائیں۔

محمد نواز شریف کے بھائی اور پنجاب کے وزیر اعلی میاں شہباز شریف نے بدھ کی صبح اپنے فیس بک پر کلثوم نواز کے صحتیابی کی دعائیہ پیغام لکھا۔

اس کے علاوہ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور کی ٹویٹ کے مطابق بری فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے بھی مسلم لیگ نون کے سربراہ محمد نواز شریف سے ان کی اہلیہ کی خیریت معلوم کرنے کے لیے فون کیا اور صحتیابی کی دعا کی۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے بھی کلثوم نواز کی صحتیابی کے لیے ٹویٹ کی اور امید کا اظہار کیا کہ وہ اس مرض کو شکست دے سکیں۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نواز شریف کو نااہل قرار دیا گیا تھا جس کے بعد ان کی نشست پر دوبارہ الیکشن کرائے جانے کا نوٹس جاری کیا گیا تھا۔

حلقہ این اے 120 میں ضمنی انتخاب 17 ستمبر کو ہونے ہیں جہاں کلثوم نواز کا مقابلہ پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد سے ہوگا۔

پاکستان تحریک انصاف کی امیدوار یاسمین راشد نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں نواز شریف کے خلاف 52312 ووٹ حاصل کیے تھے۔

واضح رہے کہ ابتدا میں مسلم لیگ ن کی طرف سے یہ اعلان کیا گیا تھا کہ اس حلقے سے شہباز شریف الیکشن لڑیں گے اور قومی اسمبلی کی اس نشست سے رکن منتخب ہونے کے بعد وزیراعظم کا انتخاب لڑیں گے۔

اسی بارے میں