امریکہ سے امداد کے نہیں اعتماد کے خواہاں ہیں: جنرل باجوہ

امریکی سفیر اور جنرل باجوہ کی ملاقات تصویر کے کاپی رائٹ ISPR
Image caption امریکی سفیر نے فوج کے سربراہ کو امریکہ کی خطے کے بارے میں نئی پالیسی کے خدوخال سے آگاہ کیا

پاکستانی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان امریکہ سے امداد کا نہیں بلکہ اعتماد کا خواہاں ہے۔

انھوں نے یہ بات بدھ کو راولپنڈی میں جی ایچ کیو میں پاکستان میں امریکی سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات کے بعد کہی۔

فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ کی جانب سے جاری ہونے والے بیان کے مطابق امریکی سفیر نے فوج کے سربراہ کو امریکہ کی خطے کے بارے میں نئی پالیسی کے خدوخال سے آگاہ کیا۔

٭ ’پاکستان نے رویہ نہ بدلا تو امریکی مراعات کھو سکتا ہے‘

* پاکستان کو دہشت گردی کا کفیل ملک قرار دینے کا مطالبہ

* ’حقانی نیٹ ورک نہ ہمارے دوست ہیں اور نہ پراکسی‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ جنرل باجوہ کا کہنا تھا کہ 'پاکستان امریکہ سے کسی مادی یا مالی امداد کا خواہاں نہیں بلکہ چاہتا ہے کہ اس پر اعتماد کیا جائے اور اس کی کارکردگی کا اعتراف کیا جائے۔'

چیف آف آرمی سٹاف نے یہ بھی کہا کہ افغانستان میں قیامِ امن کے لیے پاکستان کی کوششیں کسی کو خوش کرنے کے لیے نہیں بلکہ اس کے اپنے قومی مفاد میں اور قومی پالیسی کے مطابق ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ افغانستان میں امن کسی بھی دوسرے ملک کی طرح پاکستان کے لیے بھی اہم ہے۔

انھوں نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان نے بہت کچھ کیا ہے اور مستقبل میں بھی کرتا رہے گا۔

جنرل باجوہ نے یہ بھی کہا کہ افغانستان کی طویل جنگ کو کامیابی سے اس کے منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں تمام سٹیک ہولڈڑز کا باہمی تعاون اور مشترکہ کوششیں شامل ہوں۔

خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو جنوبی ایشیا خصوصاً افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا اعلان کیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور افغانستان کے معاملے میں امریکہ کے اہداف بالکل واضح ہیں اور وہ چاہتا ہے کہ اس خطے میں دہشت گردوں اور ان کی پناہ گاہوں کا صفایا ہو۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کو جنوبی ایشیا خصوصاً افغانستان اور پاکستان کے بارے میں امریکی پالیسی کا اعلان کیا ہے

پاکستان کے بارے میں مزید بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ سے شراکت داری پاکستان کے لیے بہت سود مند ثابت ہوگی لیکن اگر وہ مسلسل دہشت گردوں کا ساتھ دے گا تو اس کے لیے مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔

صدر ٹرمپ کے پالیسی بیان کے ردعمل میں پاکستانی دفتر خارجہ نے تفصیلی بیان میں کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین پر افغان طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کی موجودگی کی سختی سے تردید کرتا ہے اور وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال ہونے کی اجازت نہیں دیتا۔

پاکستان کا یہ بھی کہنا تھا کہ محفوظ پناہ گاہوں کے جھوٹے بیانیے کے بجائے امریکہ کو دہشت گردی کے خاتمے کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکی صدر کے پالیسی بیان کے بعد امریکی وزیرِ خارجہ ریکس ٹیلرسن کا بھی ایک بیان سامنے آیا جس میں انھوں نے کہا کہ اگر پاکستان اپنے رویے میں تبدیلی نہیں لاتا یا ان متعدد دہشت گرد تنظیموں سے نمٹنے کی حکمت عملی کو تبدیل نہیں کرتا جنھیں پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں حاصل ہیں تو نیٹو اتحاد سے باہر پاکستان کو خصوصی اتحادی کے درجے اور اربوں ڈالر کی فوجی امداد جیسے معاملات کو میز پر بات چیت کے لیے لایا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں