’یور ہسٹری ورسز آور ہسٹری‘

Image caption اس فیس بک لائیو کے لیے سوال مشترکہ تھے

تقریباً دو ماہ پہلے جب ہم نے تقسیم کے ستر برس پورے ہونے پر انڈیا اور پاکستان کے نصاب میں پڑھائی جانے والی تاریخ پر ایک مشترکہ فیس بک لائیو کرنے کا سوچا تو بہت سے چیلنجز کا سامنا تھا۔

تکنیکی اعتبار سے ایک نیا تجربہ۔ ایک سے زیادہ کیمروں کے ساتھ فیس بک اور سکائپ کے ذریعے اسلام آباد اور دلی سے ایک مشترکہ براڈکاسٹ جسے براہ راست نشر کیا جانا تھا، یہ ایک انتہائی پیچیدہ تجویز تھی۔

لیکن اس سے بھی بڑھ کر مشکل تھا انڈیا اور پاکستان کے سرکاری سکولوں کی انتظامیہ کو اس بات پر راضی کرنا کہ سرحد پار ملک سے مشرکہ لائیو براڈکاسٹ کی جاسکے وہ بھی کلاس رومز سے۔

٭ ہار جو انڈیا پاکستان کی تقسیم سے جدا ہوا

٭ نام تبدیل مگر فیروز پور کی یادیں تازہ

مجھے پاکستان میں تو اس حوالے سے کوئی خاص دقت نہیں ہوئی۔ رفتہ رفتہ میں نے محکمہ تعلیم کے حکام کو اس ایونٹ کی نوعیت سے آگاہ کیا لیکن سکول بند ہونے کے باوجود ان کا تعاون ہر قدم پر میرے ساتھ رہا۔

تاہم انڈیا میں میری ساتھی بی بی سی ہندی کی دیویا آریہ کو کافی مشکل کا سامنا رہا۔ خاص طور پر اس وقت جب ایونٹ سے دو دن پہلے وہاں کے سرکاری سکول نے اجازت نامہ واپس لے لیا۔

کچھ دیر کے لیے تو لگا کہ ’یور ہسٹری ورسز آور ہسٹری‘ نامی یہ منصوبہ پایہ تکمیل تک پہنچ ہی نہیں پائے گا۔ پھر دویا نے دہلی میں ایک ایسا نجی سکول تلاش کیا جہاں کا نصاب سرکاری سکولوں کے مطابق تھا۔

اس فیس بک لائیو کے لیے سوال مشترکہ تھے اور مقصد تھا یہ بات اجاگر کرنا کہ دونوں ملکوں کی مشترکہ تاریخ کو نصاب میں کس طرح شامل کیا گیا ہے۔

کس طرح ایک ہی طرح کے واقعات اور لیڈرز کے بارے میں دونوں ملکوں کے نصاب میں مختلف بیانیے موجود ہیں۔ جو دونوں نے اپنے ریاستی مفادات اور شناخت کے مطابق گھڑے ہیں۔

کچھ سوالوں پر بچوں کی رائے مختلف تھی۔ کچھ پر ایک سی اور کچھ پر مخالف، لیکن اس فیس بک لائیو کا سب سے مثبت پہلو یہ تھا کہ ایک بہت ہی احترام اور رکھ رکھاؤ کے ماحول میں بات کی گئی۔ اختلاف کا اظہار بھی کیا گیا لیکن ادب کے دائرے میں۔

ان لوگوں کے لیے جو ہمارا فیس بک لائیو نہیں دیکھ سکے کچھ سوالوں کے جواب یہاں لکھے دیتی ہوں۔

پہلا سوال یہ تھا کہ آپ محمد علی جناح کے بارے میں آپ کیا جانتے ہیں؟

انڈیا کے طلبہ کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ کے لیڈر تھے جو وکیل تھے انھوں نے مسلمانوں کو سیاسی نمائندگی دلانے کی کوششیں کیں اور ہم ان کا بہت احترام کرتے ہیں۔

ایک اور طالب علم نے کہا کہ ’محمد علی جناح مسلمانوں کے لیے جداگانہ انتخابات کے حامی تھے لیکن گاندھی نے جناح کی اس تجویز سے اتفاق نہیں کیا۔‘

پاکستان سے اسی سوال کا جواب طلبہ نے کچھ یوں دیا۔

’جناح ہمارے قائد اعظم ہیں انھوں نے مسلمانوں کے حقوق کے لیے بات کی۔ ان کا سب سے بڑا کارنامہ یہ تھا کہ انھوں نے مسلمانوں کو ایک علیحدہ ریاست دی اور اگر وہ ایسا نہ کرتے تو مسلمانوں کی حالت انڈیا میں بہت خراب ہوتی۔‘

اور ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ جناح ہندو مسلم اتحاد کے سفیر تھے۔

دوسرا سوال گاندھی کے بارے میں تھا۔

Image caption انڈین سرکاری سکولوں کی جانب سے فیس بک لائیو کی اجازت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ایک پرائیویٹ سکول سے اس کا اہتمام کیا گیا۔

انڈیا میں تو طلبہ نے ان کے بارے میں جو جواب دیے وہ توقع کے مطابق ہی تھے۔ جیسے مہاتما گاندھی نے تشدد کے بغیر انگریزوں کو برصغیر سے نکلنے پر مجبور کیا۔ انھوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لیے کئی دن تک بھوک ہڑتال کی اور عدم تشدد کے فلسفے کو ہمیشہ قائم رکھا۔

لیکن پاکستان میں طلبہ سے گاندھی کے متعلق پوچھا گیا تو جواب ملا کہ وہ ہندوؤں کے لیڈر تھے اور انھوں نے ہندوؤں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کیا۔

انڈیا میں ان معلومات پر اختلاف کیا گیا اور کہا کہ گاندھی ایک سیکولر لیڈر تھے اور یہ تاثر درست نہیں کہ وہ صرف ہندوؤں کے حقوق کے حامی تھے۔

اس سوال پر کہ جناح اور گاندھی میں کن باتوں پر اختلاف تھا؟

انڈیا سے جواب ملا کہ زیادہ اختلاف نہیں تھا۔ فرق یہ ہے کہ ہمیں جناح کے بارے میں کم اور گاندھی کے بارے میں زیادہ پڑھایا جاتا ہے اس لیے ایک دوسرے کے بارے میں معلومات کم ہوتی ہیں۔

لیکن پاکستان کی جانب سے اس جواب سے اتفاق نہیں کیا گیا اور کہا کہ گاندھی انگریزوں سےآزادی چاہتے تھے لیکن بٹوراے کے مخالف تھے جبکہ جناح انگریزوں کو یہاں سے نکالنے کے بعد مسلمانوں کے لیے الگ ریاست کے حامی تھے۔

تقسیم کی وجہ پر بھی جواب مختلف تھے۔ انڈیا سے بتایا گیا کہ مسلمانوں اور ہندوؤں میں سیاسی حقوق سے متعلق اختلافات تھے جس کا فائدہ انگریزوں نے اٹھایا۔ تقسیم کرو اور حکومت کرو کے اصول پر عمل کیا اور بٹوارہ کر دیا۔

پاکستان میں طلبہ نے اس جواب سے بھی اختلاف کیا اور کہا کہ تقیسم کی وجہ دو قومی نظریہ تھی۔ ہندو اور مسلمان ایک دوسرے سے مختلف تھے اور ان کا اکٹھے رہنا مشکل تھا۔

کچھ سوال دیکھنے والوں کی طرف سے بھی آئے سبھاش چندر بھوس اور بھگت سنگھ کے بارے میں پاکستان کے بچے کیا جانتے ہیں؟ ان سے متعلق پاکستانی طلبہ کی معلومات نہ ہونے کے برابر تھیں۔

کچھ سوالوں کے جواب ایک سے بھی تھے۔ جیسے کہ 1857 کی جنگ آزادی کیوں شروع ہوئی تھی۔

اگر بٹوارہ نہ ہوتا تو برصغیر کیسا ہوتا۔ انڈیا میں رائے تھی کہ اگر تقیسم نہ ہوتی تو کشمیر پرامن ہوتا وہاں لوگ خوف میں نہیں ہوتے۔

پاکستان میں خیال یہ تھا کہ اگر بٹوارہ نہ ہوتا تو مسلمان اپنی مرضی سے زندگی بسر نہ کر رہے ہوتے۔

اس سوال پر کہ کیا بچے ایک دوسرے کے ملک جاکر طلبہ سے ملنا چاہتے ہیں۔ بڑا بھرپور جواب سامنے آیا کہ ہاں ہم ایک دوسرے کے بارے میں جاننا چاہتے ہیں۔

یعنی تاریخ کو جس انداز میں بھی توڑمروڑ دیا جائے آج ستر برس بعد کے انڈیا اور پاکستان میں نوجوان ایک دوسرے کے وجود کو تسلیم بھی کرتے ہیں اور نصاب سے بنائے گئے تاثر سے نکل کر ایک دوسرے کے بارے میں خود سے مزید جاننا بھی چاہتے ہیں۔

اس فیس بک لائیو کو بارہ گھنٹوں کے دوران تقریباً پانچ لاکھ افراد دیکھ چکے ہیں جوکہ انتہائی غیر معمولی ہے اور لگتا ہے کہ دو ماہ میں نے اور دویا نے اپنی ٹیمز کے ساتھ جو محنت کی وہ وصول پائی۔

اسی بارے میں