پیمرا کو عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

لاہور ہائی کورٹ نے پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی (پیمرا) کو عدلیہ مخالف تقاریر کی نشریات روکنے کا حکم دیا ہے۔

ایڈوکیٹ اظہر صدیق کی درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس مامون الرشید نے اپنے چیمبر میں جمعرات کو کیس کی سماعت کی۔

درخواست گزار کے مطابق عدالت نے سابق وزیر اعظم نواز شریف اور موجود وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت 16 وزرا کی عدلیہ مخالف تقاریر کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ پابندی عائد کی ہے۔

یاد رہے کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف نے پاناما کیس کے فیصلے کے بعد جی ٹی روڈ پر ریلی نکالی تھی جس کے دوران سپریم کورٹ کے جج حضرات کو تنقید کا نشانہ بنایا اور اپنی نااہلی کو سازش قرار دیا تھا۔

نامہ نگار حنا سعید کے مطابق عدالت نے پیمرا کو عدالتی حکم پر فوری عمل درآمد کا حکم دیا ہے۔

ایڈوکیٹ اظہر صدیق کا بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہنا تھا کہ نااہل وزیر اعظم نواز شریف سمیت نواز لیگ کے متعدد وزرا ریلیوں اور ٹی وی پروگرامز کے ذریعے عوام کو عدلیہ کے خلاف اکسا رہے ہیں۔

سپریم کورٹ کے حکم پر عامر لیاقت کا پروگرام بند

پیمرا نے بول نیوز اور بول انٹرٹینمنٹ کے لائسنس منسوخ کر دیے

نجی ٹی وی چینل بول کے میزبان عامر لیاقت اور ان کے پروگرام پر پیمرا کی پابندی

ان کا کہنا تھا 'پیمرا آرڈینس سنہ 2015 کے قوانین کے تحت عدلیہ مخالف تقاریر نشر نہیں ہو سکتیں۔ پیمرا اپنا کام نہیں کر رہا تھا، اسی لیے ہم نے عدالت سے استدعا کی۔ جج صاحب نے کہا کہ ہم پیمرا کی حد تک آرڈر دے دیتے ہیں۔ عدالت نے یہ آرڈر پیمرا کو فیکس کرنے کو کہا ہے۔'

لاہور ہائی کورٹ میں دائر ہونے والی پیٹیشن میں ایڈو کیٹ اظہر صدیق نے استدعا کی تھی کہ نواز شریف سمیت نواز لیگ کے 16 وزرا کو عدالت کی توہین کرنے پر نوٹس جاری کیا جائے تاہم عدالت نے ابھی تک اس حوالے سے کوئی احکام جاری نہیں کیے ہیں۔

ایڈو کیٹ اظہر صدیق کے مطابق '16 وزرا کو نوٹس بھیجنے کے حوالے سے عدالت ابھی فیصلہ کرے گی، میں نے انھیں فریق بنایا ہے، تفصیلی فیصلے میں یہ واضح ہو گا کہ ان سب کو علیحدہ نوٹس جاری ہوئے ہیں یا نہیں۔ عدالت کا فیصلہ بہت مناسب وقت پر آیا ہے کیونکہ کل (جمعے کو) نواز شریف لاہور میں نواز لیگ کے وکلا کنونشن میں تقریر کرنے جا رہے ہیں اور مجھے یہ ہی فکر تھی کہ کہیں وہ پھر عدلیہ مخالف تقریر نہ کریں۔'

لاہور ہائی کورٹ نے چیئرمین پیمرا اور کونسل آف کمپلینٹس کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 12 ستمبر کو رپورٹ طلب کی ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں