’پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر افغانستان میں امن نہیں لایا جاسکتا‘

تصویر کے کاپی رائٹ PM HOUSE

پاکستان کی اعلیٰ سیاسی اور عسکری قیادت نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اپنے حالیہ خطاب میں پاکستان پر لگائے گئے الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان پر الزام تراشیوں سے افغانستان کو مستحکم نہیں کیا جا سکتا۔

جمعرات کو اسلام آباد میں قومی سلامتی کونسل کے اہم اجلاس کے بعد وزیر اعظم ہاؤس کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کو قربانی کا بکرا بنانا افغانستان میں استحکام کی کوششوں کے لیے مددگار ثابت نہیں ہو سکتا۔

یہ اجلاس صدر ٹرمپ کے جنوبی ایشیا کے بارے میں پالیسی بیان پر پاکستان کا مفصل ردعمل طے کرنے کے لیے منعقد کیا گیا تھا۔

٭ ’امریکہ سے امداد کے نہیں اعتماد کے خواہاں ہیں‘

٭ ’پاکستان نے رویہ نہ بدلا تو امریکی مراعات کھو سکتا ہے‘

٭ ’دہشت گردوں کو پناہ دینا پاکستان کے لیے نقصان دہ ہوگا‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’افغان جنگ پاکستان میں نہیں لڑی جا سکتی‘ اور’پاکستان چاہتا ہے کہ امریکی فوج افغان سرزمین پر قائم دہشت گردوں کی پناہ گاہوں اور ٹھکانوں سمیت پاکستان میں دہشت پھیلانے والوں کو ختم کرنے کے لیے فوری اور موثر کوششیں کرے۔‘

پاکستان کا یہ بھی کہنا ہے کہ افغانستان کے سب سے قریبی پڑوسی ہونے کی وجہ سے وہاں امن اور استحکام پاکستان کے وسیع تر مفاد میں ہے اور وہ ماضی میں امریکہ اور افغانستان کے ساتھ مل کر سیاسی بات چیت کے ذریعے اس جنگ زدہ ملک میں امن اور استحکام لانے کے لیے کام کر چکا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ پیر کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور صدارت میں جنوبی ایشیا کے بارے میں اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو تنبیہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ 'اب پاکستان میں دہشت گردوں کی قائم پناہ گاہوں کے معاملے پر مزید خاموش نہیں رہ سکتا۔'

بیان میں کہا گیا ہے کہ ’جہاں تک پاکستان کی بات ہے وہ دہشت گردوں کے نیٹ ورکس کے خلاف بلاتفریق کارروائیاں کر چکا ہے اور اس کے لیے اس نے دسیوں ہزاروں فوجیوں اور عام شہریوں کی قربانیاں بھی دی ہیں۔‘

بیان کے مطابق ’پاکستان میں سکیورٹی کی صورتحال میں بہتری دہشت گردوں کی پناہ گاہوں کو ختم کرنے کے بغیر ممکن نہیں تھی۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption قومی سلامتی کا اجلاس وزیر اعظم خاقان عباسی کی زیر صدارت وزیر اعظم ہاؤس میں ہوا

قومی سلامتی کی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ’ہم دیگر ممالک کے شہریوں کی جانوں کو بھی اتنا ہی مقدم سمجھتے ہیں جتنا کہ اپنے شہریوں کی، اسی لیے پاکستان اپنی سرزمین کو کسی دوسری ملک میں فساد پھیلانے کے لیے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ ہم اپنے پڑوسیوں سے بھی ایسی ہی توقع رکھتے ہیں۔‘

بیان میں کہا گیا ہے کہ اربوں ڈالرز کی امداد کا دعوی بھی گمراہ کن ہے اور پاکستان کو 2001 کے بعد سے ہونی والی ادائیگیوں کا تعلق امریکہ کی جانب سے افغانستان میں آپریشن کے لیے زمینی اور فضائی حدود کے استعمال سے ہے نہ کہ کسی مالی امداد سے۔

کمیٹی نے یہ بھی کہا کہ مادی یا مالی امداد کی بجائے پاکستان کی کوششوں، تعاون اور ہزاروں پاکستانیوں کی قربانیوں کو سراہا جانا چاہیے تھا۔

کمیٹی نے انڈیا کے حوالے سے بیان میں اس بات پر زور دیا ہے کہ انڈیا جنوبی ایشیا میں سلامتی یقینی بنانے والا کیسے ہو سکتا ہے جبکہ اس کے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ تعلقات تنازعات کا شکار ہیں۔

کمیٹی کی جانب سے ’انڈین پالیسیوں کو خطے میں امن کے لیے خطرناک‘ قرار دے کر اس پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’انڈیا ہمسایہ ممالک کے اندورنی معاملات میں دخل اندازی کرنے کے لیے دہشت گردی کو ریاستی پالیسی میں بطور آلہ کار استعمال کرتا ہے۔‘

اسی بارے میں