’پاکستان کو کمبوڈیا یا ویت نام نہ سمجھا جائے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption سینیٹ میں گزشتہ دو روز سے امریکی صدر کے بیان پر بحث جاری ہے

پاکستان کی پارلیمان کے ایوان بالا یعنی سینٹ کے اجلاس میں جمعرات کو بھی پاکستان کے بارے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان پر بحث جاری رہی اور سینیٹ کے ارکان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان پر ملک کے تمام سٹیک ہولڈرز کی جانب سے ایک سخت ردعمل جانا چاہیے تاکہ دنیا میں یہ پیغام جائے کہ پاکستان کو کوئی کمبوڈیا یا ویت نام نہ سمجھا جائے ۔

٭ ’پاکستان کو قربانی کا بکرا بناکر امن نہیں لایا جاسکتا‘

٭ افغانستان میں پاکستان کے کردار کا اعتراف کیا جانا چاہیے: چین

چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں سینیٹ کے اجلاس میں امریکی صدر کی طرف سے افغانستان اور جنوبی ایشیا سے متعلق پالیسی کے اعلان پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے حکمراں اتحاد میں شامل جمعت علمائے اسلام کے سینیٹر حافظ حمداللہ نے کہا کہ تمام سٹیک ہولڈرز کو ان غلطیوں پر نظر ثانی کرنی چاہیے جس کی وجہ سے حالات اس نہج پر پہچ چکے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان گزشتہ 70سات سے امریکہ کا ساتھ دے رہا ہے لیکن اُنھوں نے کبھی بھی پاکستان کے ساتھ دوستی نہیں نبھائی۔

اُنھوں نے کہا کہ امریکہ نے کببھی بھی دوستی پاکستانی عوام کے ساتھ نہیں کی بلکہ ہمشہ اُنھوں نے ملٹری اسٹیلشمنٹ کے ساتھ تعلقات رکھے ہیں۔ حافظ حمداللہ کا کہنا کہ ملکی خارجہ پالیسی کا از سر نو جائزہ لینے کی ضرورت ہےاور بلخصوص پرویز مشرف کے دور حکومت سے خارجہ پالیسی پر غور کیا جائے۔

سینیٹر امیر کبیر کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی سرحدوں کی نگرانی مذید سخت کرنا ہوگی۔ اُنھوں نے کہا کہ افغانستان سمیت دینا کے مختلف ممالک سے بہت سے ایسے لوگ پاکستان میں موجود ہیں جو ملک کے لیے خرابیاں پیدا کر رہے ہیں۔ اُنھوں نے کہا کہ ان لوگوں کی وجہ سے پاکستان "مہاجرستان" بن گیا ہے۔

حکمراں جماعت کے سینیٹر سلیم ضیا کا کہنا تھا کہ امریکلی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے محض بھارت کو خوش کرنے کے لیے اس طرح کا بیان دیا ہے۔ اُنھوں نے کہا کہ افغانستان میں بھارت کے کردار کو بڑھانے سے وہاں پر امن نہیں بلکہ انتشار پیدا ہوگا۔

موجودہ حکومت امریکی صدر کے بیان کو سنجیدگی سے لے رہی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی یاد رکھنا چاہیے کہ پاکستان کوئی ترنوالہ ثابت نہیں ہوگا۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر داخلہ رحمان ملک کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کے بیان کو سنجیدگی سے لینا چاہیے اور ایسی پالیسوں پر نظرثانی کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ایسے حالات پیدا ہو رہے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ موجودہ حکومت دنیا کے مختلف ممالک میں اپنے وفود بھیجے جو ان ملکوں کی قیادت کو دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی قربانیوں کے بارے میں آگاہ کرے۔ رحمان ملک نے الزام عائد کیا کہ امریکہ دنیا بھر میں دہشت گردی کو فروغ دے رہا ہے۔

امریکی صدر کے بیان پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے 30سنیٹرز نے اپنی تقاریر میں ملکی خارجہ پالیسی کو کسی اور جگہ کی بجائے پارلیمنٹ میں بنانے کی ضرورت پر زور دیا ہے کیونکہ پاکستانی عوام کا منتحب فورم پارلیمنٹ ہی ہے۔

سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی کی موجودگی میں شکوہ کیا کہ اتنے اہم مسئلے پر سرکاری ٹیلی ویژن نے سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی نہیں دکھائی جس پر وزیر اعظم نے اس معاملے کا نوٹس لیتے ہوئے تحقیقات کا حکم دیا۔

اسی بارے میں