نیب کو پاناما کیس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے بیانات لینے کی اجازت

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل تو کیا گیا لیکن ان کا ریگولر ٹرائل نہیں کیا گیا

پاکستان کی عدالت عظمیٰ نے قومی احتساب بیورو کو سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف کے خلاف پاناما لیکس کے مقدمے کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کا بیان ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

سابق وزیر اعظم اور ان کے بچوں کے خلاف ریفرنس تیار کرنے والی نیب کی ٹیم نے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی تھی کہ پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی تحقیقاتی ٹیم کے ارکان کے بیانات لینا ریفرنس کی تیاری کے لیے ضروری ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب عدالتوں میں ریفرنس کی نگرانی کرنے والے سپریم کورٹ کے جج جسٹس اعجاز الحسن نے نیب کی اس درخواست کو منظور کرتے ہوئے پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی ٹیم کے ارکان کے بیانات ریکارڈ کرنے کی اجازت دے دی۔

وزیراعظم نااہل، خاندان کے خلاف مقدمے دائر کرنے کا حکم

’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘

مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے جن چھ ارکان کے بیانات ریکارڈ کیے جائیں گے ان میں ایف آئی اے کے ایڈشنل ڈائریکٹر جنرل واجد ضیا، سٹیٹ بینک کے عامر عزیز، سکیورٹی اینڈ سٹاک ایکسچینج کے بلال رسول، قومی احتساب بیورو کے عرفان نعیم منگی جبکہ فوج کے خفیہ اداروں آئی ایس آئی اور ملٹری انٹیلیجنس کے نعمان سعید اور کامران خورشید شامل ہیں۔

سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے اپنے 28 جولائی کے فیصلے میں نیب کو چھ ہفتوں میں وزیر اعظم اور ان کے تینوں بچوں کے علاوہ ان کے داماد اور وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کے خلاف بھی احتساب عداتوں میں ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا تھا اور اس کے علاوہ احتساب عدالتوں کو اس ریفرنس پر چھ ماہ میں فیصلہ دینے کا بھی پابند کیا گیا تھا۔

وزیر اعظم اور ان کے بچوں میں سے کوئی بھی نیب کی ٹیم کے سامنے پیش نہیں ہوا اور حکمران جماعت کا موقف ہے کہ جب سپریم کورٹ نے احتساب بیورو کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دے رکھا ہے تو پھر تفتیشی ٹیم کے سامنے پیش ہونے کا کوئی فائدہ نہیں ہے۔

نظر ثانی کی ایک اور اپیل

دوسری طرف نااہل قرار دیے گئے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی ایک اور اپیل دائر کی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ اُنھیں سنے بغیر عدالت عظمیٰ نے فیصلہ جاری کیا۔

نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کی طرف سے دائر کی گئی اس اپیل میں کہا گیا ہے کہ عدالت نے ان کے موکل سے یہ نہیں پوچھا کہ انھوں نے ایف زیڈ ای کمپنی سے تنخواہ وصول کیوں نہیں کی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ نواز شریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل تو کیا گیا لیکن ان کا ریگولر ٹرائل نہیں کیا گیا۔

’ہمارے لیے نیب وفات پا گیا‘

پاناما کیس میں عدالت کو کیا خدشہ تھا؟

اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت تنخواہ اس وقت انکم تصور ہوگی جب اس کو بینک اکاونٹ سے نکالا جائے۔ اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ عدالتی فیصلوں کے مطابق نااہلی کے لیے ٹھوس شواہد کا ہونا ضروری ہے۔

نظرثانی کی اس درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر سابق وزیر اعظم نے اپنے کاغذات نامزدگی میں تنخواہ کا ذکر نہیں کیا تو اس کو چیک کرنا ضروری تھا کہ تنخواہ جان بوجھ کر نہیں نکلوائی یا کوئی اور وجہ تھی۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں