آصف علی زرداری آخری نیب کیس سے بھی بری

تصویر کے کاپی رائٹ RIZWAN TABASSUM
Image caption فائل فوٹو: آصف علی زرداری کے خلاف اب کوئی بھی ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت نہیں ہے

راولپنڈی کی احتساب عدالت نے سابق صدر اور پاکستان پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کو معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے ریفرنس میں عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا ہے۔

اس سے پہلے پانچ ریفرنسز میں بھی احتساب عدالتیں پاکستان کے سابق صدر کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر چکی ہیں۔ ان ریفرنسز میں کوٹیکنا، اے آر وائی گولڈ، اُرسز ٹریکٹرز اور پولو گروانڈ کے ریفرنس بھی شامل تھے۔

آصف علی زرداری کے خلاف اب کوئی بھی ریفرنس احتساب عدالت میں زیر سماعت نہیں ہے۔

بی بی سی کے نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق راولپنڈی کی احتساب عدالت کے جج خالد محمود رانجھا نے سنیچر کو اثاثہ جات ریفرنس میں فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ اس ریفرنس کا زیادہ مواد فوٹو کاپیوں پر مشتمل ہے جو کہ قانون کی نظر میں قابل قبول نہیں ہے۔

اس فیصلے میں مزید کہا گیا ہے کہ اثاثہ جات ریفرنس میں بھی وہی ثبوت لگائے گئے جو آصف علی زرداری کے خلاف دائر کیے گئے دیگر ریفرنسز میں بھی تھے۔

اس سے پہلے آصف علی زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے بریت کی درخواست دی تھی جس میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ ان کے موکل کے خلاف یہ ریفرنس سیاسی بنیادوں پر بنائے گئے ہیں اور نیب کے پاس کوئی ایسے ثبوت نہیں تھے جن سے ثابت ہوتا ہو کہ آصف علی زرداری نے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔

اس ریفرنس میں سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو کے علاوہ سابق وزیر اعظم بےنظیر بھٹو بھی شریک ملزم تھیں تاہم ان کی وفات کے بعد ان کے نام اس ریفرنس سے خارج کردیے گئے تھے۔

اس ریفرنس میں استغاثہ کی جانب سے جنتے بھی گواہ پیش کیے گئے ان میں اکثریت کا موقف یہ تھا کہ چونکہ یہ 15 سال پرانا ریفرنس ہے اس لیے وہ یقین سے نہیں کہہ سکتے کہ ملزم نے معلوم ذرائع آمدن سے زیادہ اثاثے بنائے ہیں۔ اس ریفرنس میں متعدد گواہ بیرون ملک ہونے کی وجہ سے بھی عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔