سپریم کورٹ کا کے پی کے میں ویمن کرائسز سینٹرز کھولنے کا حکم

کے پی کے تصویر کے کاپی رائٹ Wikipedia
Image caption سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کے پی کی حکومت ایک طرف خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری طرف انھیں اس سے محروم رکھا جارہا ہے

سپریم کورٹ نے خیبر پختونخوا کی حکومت کی طرف سے نظرثانی کی اپیل مسترد کرتے ہوئے صوبے میں قائم چار ویمن کرائسز سینٹرز کھولنے کا حکم دیا ہے۔

عدالت عظمیٰ کا کہنا ہے کہ صوبہ خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت ہے جو خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے لیکن یہی جماعت اپنے صوبے میں خواتین کو ان کے حقوق سے محروم رکھ رہی ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک نے بتایا کہ جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بنچ نے صوبہ خیبر پخونخوا کی حکومت کی طرف سے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست کی سماعت کی۔

نظر ثانی کی اس درخواست کی سماعت کے دوران صوبائی حکومت کا موقف تھا کہ چونکہ فنڈز کی کمی ہے اس لیے صوبائی حکومت کے لیے یہ ممکن نہیں ہے کہ وہ ان سینٹرز کو چلا سکے۔ تاہم بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت خواتین کو ترقی دینے اور اُنھیں بااختیار بنانے کے لیے کروڑوں ڈالرز وصول کرتی ہے اس لیے صوبائی حکومت خواتین کو غلام بنانے کی بجائے بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کرے۔

سپریم کورٹ کا کہنا تھا کہ کے پی کی حکومت ایک طرف خواتین کے حقوق کی بات کرتی ہے جبکہ دوسری طرف انھیں اس سے محروم رکھا جارہا ہے۔

عدالت نے صوبائی حکومت کی طرف سے فنڈز کی عدم دستیابی کے عضر کو تسلیم نہ کرتے ہوئے نظرثانی کی اپیل خارج کردی اور پشاور ہائی کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا۔

سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو نے اپنے دوسرے دور حکومت میں صوبہ خیبر پختونخوا میں گھریلو تشدد اور زیادتی کا شکار ہونے والی خواتین کے لیے چار کرائسز سینٹر بنائے تھے۔

2008 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے برسراقتدار آنے کے بعد اس پر کام دوبارہ شروع کردیا گیا تھا۔ تاہم 2010 میں اس وقت کی عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی حکومت نے صوبے میں قائم کیے گئے چاروں ویمن کرائسز سینٹرز کو فنڈز کی کمی کی بنیاد پر بند کردیے تھے۔ اس وقت کی حکومت کے اس اقدام کو سوشل ویلفیئر اور خواتین کو بااختیار بنانے کے ادارے نے پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر عدالت عالیہ نے کے پی کے چار ویمن کراسسز سینٹرز کو بحال کرنے کا حکم دیا تھا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption بینچ کے سربراہ نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ کے پی حکومت خواتین کو ترقی دینے اور اُنھیں بااختیار بنانے کے لیے کروڑوں ڈالرز وصول کرتی ہے اس لیے صوبائی حکومت خواتین کو غلام بنانے کی بجائے بااختیار بنانے کے لیے اقدامات کرے

دلچسپ امر یہ ہے کہ جسٹس دوست محمد خان اس وقت پشاور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس تھے جس وقت اُنھوں نے صوبائی حکومت کے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیتے ہوئے اس کو بحال کرنے اور وہاں پر کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہیں دینے کا بھی حکم دیا تھا۔

اب اس فیصلے کے خلاف صوبائی حکومت کی طرف سے سپریم کورٹ میں دائر کی گئی نظرثانی کی اپیل کی سماعت بھی جسٹس دوست محمد خان کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ نے کی۔

پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی تھی۔

اسی بارے میں