سرکاری اداروں سے فوجی آمروں کی تصاویر ہٹائی جائیں: سینیٹ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے اجلاس میں حزب اقتدار اور حزب اختلاف نے سرکاری اداروں میں فوجی آمروں کی تصاویر کو ہٹانے کا کہا ہے اور ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ اس پر فوری عمل درآمد شروع ہو جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ ایوان صدر میں تمام سابق صدور کی تصاویر آویزاں ہیں جن میں چار فوجی آمر جنرل ایوب خان، جنرل یحیٰ خان، جنرل ضیا الحق اور جنرل پرویز مشرف بھی شامل ہیں۔

اس علاوہ ان فوجی آمروں کی تصاویر جی ایچ کیو میں فوج کے سربراہ کی حیثیت سے بھی آویزاں ہیں۔

* 70 برس میں پاکستان پر بیشتر وقت آمریت کا سایہ

* ’ڈکٹیٹروں نے ملک ٹھیک کیا، سویلینز نے بیڑہ غرق کر دیا‘

* میاں صاحب! اس بار منی ٹریل تیار رکھیے گا

پیر کے روز پرائیویٹ ممبر ڈے کے موقع پر حکومتی جماعت سے تعلق رکھنے والے سینیٹر چوہدری تنویر خان اور حزب مخالف کی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے سینیٹر فرحت اللہ بابر کی جانب سے قراردادیں پیش کی گئیں۔

قرارداوں پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے متعدد ارکان کا کہنا تھا کہ جب تک عوام کو آئین میں دیے گئے ان کے بنیادی حقوق اور آئین کے بارے میں اُن میں شعور اجاگر نہیں کیا جائے گا اس وقت تک آئین کےتقدس کے بارے میں خاطر خوا نتائج حاصل نہیں ہوسکیں گے۔

سینیٹ کے اراکین کا کہنا تھا کہ ملک کے تعلیمی اداروں میں آئین کا احترام بطور مضمون پڑھایا جائے اور بالخصوص ایسے اداروں میں جن کے فارغ التحصیل طلبا پاکستان کے سکیورٹی اداروں میں نوکریاں حاصل کرتے ہیں۔

سیییٹر فرحت اللہ بابر نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ ایسے فوجی آمر جن میں یحییٰ خان اور پرویز مشرف بھی شامل ہیں، کے بارے میں پاکستان کی سب سے بڑی عدالت 'غاصب' قرار دے چکی ہے ان کی تصاویر ابھی تک متعدد سرکاری اداروں میں لگی ہوئی ہیں جس سے دنیا میں اچھا پیغام نہیں جارہا۔

اُنھوں نے کہا کہ جنرل ضیا الحق نے ملکی آئین کے بارے میں کہا تھا کہ یہ محض ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے جس کی اُن کی نظر میں کوئی حیثیت نہیں ہے۔

فرحت اللہ بابر کا کہنا تھا کہ عدالتوں سے بھگوڑا قرار دیے جانے والے فوجی آمر پرویز مشرف نے بیرون ملک بیٹھ کر ایک انٹرویو میں کہا کہ جب ملک کی سلامتی کو خطرہ ہو تو پھر آئین کی کوئی حیثیت نہیں ہوتی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اُنھوں نے ایوان سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی تحقیقات ہونی چاہیے کہ آئین شکنی کے مقدمے میں سابق فوجی صدر پرویز مشرف عدالت میں پیش ہونے کی بجائے ہسپتال کیسے پہنچ گئے۔

حکمراں جماعت سے تعلق رکھنے والے چوہدری تنویر خان نے بحث میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ یہ ریاست کی ذمہ داری ہونی چاہیے کہ وہ لوگوں کو ملکی آئین کے بارے میں بتائے۔

اُنھوں نے کہا کہ دنیا کے جن ممالک نے آئین کا احترام کیا ہے اُنھوں نے ترقی کی ہے اور جن اقوام نے ملکی آئین کی قدر نہیں کی وہ پستی کے راستے پر ہیں۔

پاکستان پیپلز پارٹی کی سسی پلیچو نے کہا کہ آئین کے احترام سے متعلق مضمون کو چاروں صوبوں میں پڑھائے جانے والے نصاب میں شامل کیا جائے۔

چیئرمین سینیٹ رضا ربانی کا کہنا تھا کہ آج بھی سندھ میں پنجاب میں تعلیم کے نصاب میں جمہوریت اور ڈکٹیٹرشپ کے بارے میں مضمون پڑھائے جاتے ہیں اور اس مضمون میں ڈکٹیٹرشپ کے 11 جبکہ جمہوریت کے آٹھ فائدے بتائے گئے ہیں۔

پشتون خوا ملی عوامی پارٹی کےسینیٹر عثمان کاکڑ کا کہنا ہے کہ اگر ملک میں صدر وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف سمیت تمام اداروں کے سربراہان آئین کی پاسداری کرنا شروع کردیں تو پھر عوام بھی آئین کی پاسداری کرنا شروع کردیں گے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں