مردم شماری کے بعد کراچی کی کم آبادی پر تنازع کیوں؟

مردم شماری تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی حالیہ مردم شماری کے نتائج کے مطابق ملک کے سب سے بڑے شہر کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد ہے، ان اعداد و شمار کو ماہرین تو درست قرار دیتے ہیں لیکن سیاسی جماعتیں تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں۔

حکومت سندھ نے تو مردم شماری کے ابتدائی نتائج کو ہی مسترد کردیا ہے، اور کہا ہے کہ مردم شماری میں سندھ کی آبادی کم ظاہر کرنا وفاق کی سازش ہے۔ سینیئر صوبائی وزیر نثار کھوڑو کا الزام ہے کہ وفاقی حکومت نے قومی مالیاتی ایوارڈ میں حصہ نہ بڑھانے کے لیے سندھ کی آبادی کو کم ظاہر کیا ہے۔

متحدہ قومی موومنٹ پاکستان نے بھی نتائج کو مسترد کردیا ہے، پارٹی کے سربراہ ڈاکٹر فاروق ستار کا دعویٰ ہے کہ کراچی کی آبادی 3 کروڑ سے زیادہ ہے، انھوں نے واضح کیا کہ یہ صرف مہاجروں کا نہیں سندھ میں رہنے والی تمام قومیتوں کا مسئلہ ہے، جب انھیں کم گنا جائے گا تو اسمبلی کی نشستیں بھی جوں کی توں رہیں گی۔

'جس شہر میں آبادی کا دباؤ رہا ہے ، پورے ملک سے آبادی منتقل ہورہی ہے اس کی آبادی میں گذشتہ 17 برس میں صرف 60 فیصد اضافہ دکھایاجارہا ہے جو منطقی اور علمی طور پرممکن نہیں ہے۔'

معاشی تجزیہ نگار قیصر بنگالی مردم شماری کے نتائج سے مطمئن ہیں، ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو بھی نتائج پر اعتراض ہے تو وہ ایک سینس بلاک کو لے اور اپنا سینس کرے اور اس کا موازانہ حکومت کے اعداد و شمار سے کرے اگر وہ ثابت کرلیں کہ اتنے گھروں کو شمار ہی نہیں کیا گیا تو پھر وہ ایک موثر اعتراض کرسکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption اقلیتوں کے خانے میں سکھوں کا نام نہ ہونا، اور قبائلی علاقوں میں مقیم لوگوں کی شکایات سامنے آچکی ہیں

انھوں نے کہا کہ'مردم شماری بڑی چیز ہوتی ہے اس کو چیلنج نہیں کرسکتے کیونکہ اندازے اندازے ہی ہوتے ہیں۔'

معاشی تجزیہ نگار اسد سعید کا کہنا ہے کہ کراچی میں ان کے اندازہ سے تھوڑی کم آبادی ظاہر ہوئی ہے، دو سال قبل ایک اسٹڈی ہوئی تھی اس وقت آْبادی کا اندازہ ایک کروڑ 60 لاکھ لگایا گیا تھا اسی طرح اقوام متحدہ کی ایک اسٹڈی ہے اس میں بھی یہ ہی اعداد و شمار سامنے آئے تھے۔

اسد سعید نے کہا کہ 'آبادی میں اضافے کے تین عنصر ہیں شرح پیدائش، شرح اموات یا طویل عمری اور اندرونی نقل مکانی، اس مردم شماری سے قبل آبادی کا جو اندازہ یا تخمینے لگایا جاتا تھا وہ گذشتہ مردم شماری کے حساب سے لگایا جاتا تھا۔'

مردم شماری کے نتائج میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان کے دوسرے بڑے شہر لاہور کی آبادی بھی کراچی کے قریب پہنچ چکی ہے، کراچی کی آبادی ایک کروڑ 49 لاکھ سے زائد ہے جبکہ لاہور کی آبادی ایک کروڑ 11 لاکھ ہے۔

اگر 1998 کی آبادی سے موازانہ کیا جائے تو کراچی کی آبادی میں تقریبا 60 فیصد جبکہ لاہور کی آبادی میں 116 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

عوامی نیشنل پارٹی نے بھی نتائج پر تحفظات کا اظہار کیا ہے، تنظیم کے صوبائی جنرل سیکریٹری یونس بونیری کا کہنا ہے کہ کراچی کی آبادی جتنی دکھائی گئی ہے اس سے کہیں زیادہ ہے۔ وہ اس سے اتفاق نہیں کرتے کہ لاہور کی آبادی حقیقی طور پر اتنا اضافہ ہوا ہے۔

'کراچی میں ہزاروں کی تعداد میں کثیرمنزلہ عمارتیں موجود ہیں جبکہ لاہور میں عام طور پر چار منزلہ عمارتیں ہیں، اس کے علاوہ پورے ایشیا میں سب سے زیادہ کچی آبادیاں کراچی میں ہیں اور رقبے کے لحاظ سے بھی کراچی اور لاہور میں بہت بڑا فرق ہے اس لیے آبادی میں فرق قریب کا نہیں بلکہ آدھے آدھے کا ہونا چاہیے۔'

پاکستان پیپلز پارٹی کراچی کے جنرل سیکریٹری سعید غنی کا کہنا ہے کہ مردم شماری سے قبل ہی وزیر اعلیٰ سندھ نے وفاقی وزیر خزانہ کو خط لکھا تھا اور وزیر اعظم سے بھی بات کی تھی اس کے علاوہ سندھ ہائی کورٹ میں درخواست بھی دائر کی تھی کہ جو ڈیٹا جمع ہوتا ہے کہ اس کی تفصیلات صوبائی حکومتوں کے ساتھ شیئر کریں انھوں نے ایسا نہیں کیا اور کراچی اور لاہور کی آبادی لگ بھگ ایک دوسرے کے قریب پہنچا دی ہیں۔حالانکہ دونوں کی آبادی میں بڑا فرق ہے ۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption پاکستان کے ادارے برائے شماریات کے مطابق خیبر پختونخواہ کے کے لیے کل 20 خواتین شمارکنندگان کو تعینات کیا گیا ہے جبکہ فاٹا میں کسی خاتون کو عملے کا حصہ ہی نہیں بنایا گیا ہے۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی اور لاہور دونوں شہروں کی طرف نقل مکانی ہوئی ہے، تجزیہ نگار قیصر بنگالی کے مطابق لاہور میں جس قسم کی ترقی ہوئی ہے وہاں نقل مکانی کی وجہ سمجھ آتی ہے اور یہ نقل مکانی پنجاب کے باقی علاقوں سے ہوئی ہے۔

'کراچی میں جو نقل مکانی ہوتی رہی ہے وہ آبادی خیبر پختونخوا، باجوڑ، سوات اور دیگر علاقوں سے آئی ہے جہاں روزگار کے مواقع نہیں ہیں یا گذشتہ کچھ برسوں سے وہاں جنگ کی صورتحال رہی ہے ۔ایک دلیل یہ بھی ہے کہ کراچی میں لسانی فسادات اور ہنگاموں کی وجہ سے لوگ نہیں آ رہے۔

معاشی ماہر اسد سعید کا کہنا ہے کہ مردم شماری کی جب لسانی تفصیلات آئیں گی تو اس میں بھی تبدیلی کا امکانات موجود ہیں۔ ان کا خیال ہے کہ اس میں اردو اسپیکنگ کا شیئر کم ہوا ہوگا جبکہ سندھی اور پشتون بولنے والوں کا شیئر بڑہے گا۔ سرائیکیوں کو پنجابی شمار کیا جاتا ہے یا وہ خود پنجابی بتاتے ہیں گزشتہ مردم شماری میں تو ایسا ہوا تھا لیکن اس رجحان میں بھی تبدیلی کا امکان ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے مردم شماری پر کل جماعتی کانفرنس طلب کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ متحدہ قومی موومنٹ پاکستان کا کہنا ہے کہ وہ سڑکوں پر احتجاج کریں گے۔

اسی بارے میں