خواتین پر گھریلو تشدد: ’ہم نے شریعت کی حدود کے اندر رہ کر بل تیار کیا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فائل فوٹو: سول سوسائٹی کی رکن کا کہنا ہے کہ اس بل میں وہ اختیارات بھی دیے جا رہے ہیں جو گھریلو تشدد کا سبب بنتے ہیں

خیبر پختونخوا پاکستان کا واحد صوبہ ہے جہاں گھریلو تشدد کے خلاف خواتین کو تحفظ فراہم کرنے کا قانون موجود نہیں ہے۔ چار برس بعد اس قانون کا مسودہ حکمراں جماعت کی خواتین ارکان کے مشورے سے تیار تو کر لیا گیا ہے لیکن اس مجوزہ قانون پر خواتین کے حقوق کے کارکنوں کی جانب سے شدید اعتراضات سامنے آ رہے ہیں۔

کالے برقعے میں ملبوس نقاب کیے ایک خاتون ایک امدادی ادارے کے دفتر میں داخل ہوئیں اور ادارے کی ایک خاتون رکن سے کہا کہ انھیں قانونی مدد چاہیے۔ خاتون نے بی بی سی کو اپنا نام ظاہر نے کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ گھریلوں تشدد کا شکار ہیں اور ان دنوں عدالتوں کے چکر لگا رہی ہیں۔

’بل پر بلاوجہ کا اعتراض غیر ضروری ہے‘

’پی ٹی آئی صوبے میں خواتین کو حقوق سے محروم رکھ رہی ہے‘

خاتون نے بتایا کہ ان دنوں ان کی خلع، بچوں کی حوالگی اور ایک حملے کے مقدمات عدالتوں میں زیر سماعت ہیں اور وہ حکومت اور امدادی اداروں سے مدد مانگتی ہیں۔

خاتون نے بتایا کہ وہ 17 برس تک شوہر کے تشدد کا شکار رہیں اور آخر کار شوہر نے انھیں گھر سے نکال دیا۔ ان کے پانچ بچے ہیں اور شوہر نشے کا عادی ہے۔ وہ ہسپتال میں نوکری کرتی تھیں لیکن اب وہ نوکری بھی نہیں رہی۔

انھوں نے کہا کہ ایک مقدمے کے لیے وکیل خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک ادارے نے فراہم کیا ہے باقی دو مقدمات کے لیے وکیل انھوں نے اپنے پیسوں سے کیا ہے۔

اس طرح کی متعدد خواتین نے دارالامان اور مختلف شیلٹر ہومز میں پناہ لی ہوئی ہے۔ ان میں بیشتر کو قانونی مشکلات کا سامنا ہے۔

خیبر پختونخوا میں خواتین پر گھریلو تشدد کو روکنے کے لیے قانون حکمران جماعت اور جماعت اسلامی کی طرف سے تیار تو کر لیا گیا ہے لیکن اسمبلی میں پیش ہونے سے قبل ہی اس پر شدید اعتراضات سامنے آرہے ہیں۔

ان میں بلوغت کی عمر کا تعین 18 سے کم کر کے 15 سال کرنا، اصلاح کی غرض سے والد اور شوہر کو خواتین اہل خانہ کے خلاف 'اقدامات' کی اجازت دینا اور گھریلو تشدد کی تعریف سے نفسیاتی اور معاشی تشدد کو حذف کرنا شامل ہیں۔

جماعت اسلامی سے تعلق رکھنے والی اس بل پر کام کرنے والی ایک متحرک خاتون رکن صوبائی اسمبلی راشدہ رفعت نے بی بی سی کو بتایا کہ اس بل میں انھوں نے جو تجاویز دی ہیں وہ شریعت کے مطابق ہیں۔

'ہم نے شریعت کی حدود کے اندر رہ کر جو بل تیار کیا ہے۔ اس پر اعتراض اس لیے بھی نہیں ہو سکتا کیونکہ اب جو تشدد ہو رہا ہے اسے بھی روکا نہیں جا سکتا۔'

توقع ہے کہ یہ بل آئندہ اسمبلی کے اجلاس میں پیش کر دیا جائے گا جس کے بعد اس پر بحث اور ماہرین سے تجاویز لی جائیں گی اور اگر یہ بل ایوان میں منظور کر لیا جاتا ہے تو قانون کا حصہ بن جائے گا۔

سول سوسائٹی کے اراکین کا کہنا ہے کہ اس مجوزہ بل میں ایسی تجاویز شامل ہیں جس سے گھریلو تشدد بڑھنے کا امکان ہے۔ گذشتہ دنوں سول سوسائٹی کے اراکین نے اس موضوع سمیت دیگر مسائل پر ایک اجلاس طلب کیا تھا۔

سول سوسائٹی کی اہم رکن رخشندہ ناز کہتی ہیں کہ اس مجوزہ بل میں ایسی متعدد تجاویز ہیں جس سے وہ متفق نہیں ہیں۔

انھوں نے کہا کہ پاکستان میں شادی کے لیے مردوں کی حاکمیت ہوتی ہے اور اس میں وہ اختیارات بھی دیے جا رہے ہیں جو گھریلو تشدد کا سبب بنتے ہیں۔

رخشندہ ناز کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی میں خواتین کو چاہیے تھا کہ اپنے مقدمے کا اسلامی نظریاتی کونسل میں دفاع کرتیں لیکن اراکین اسمبلی نے اسلامی نظریاتی کونسل کی تجاویز کو ہی اس بل کا حصہ بنا لیا ہے اس لیے اگر اس مجوزہ بل کو دیکھا جائے تو اس میں ایسی دیگر تجاویز بھی ہیں جس پر اعتراض کیا جا سکتا ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں