پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

بے نظیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی سابق وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات۔

قتل کا الزام کن کن پرتھا؟

بینظیر بھٹو کے قتل کیس میں مجموعی طور پر پانچ افراد، جن پر براہ راست قتل میں ملوث ہونے کا الزام تھا، اب بری ہوگئے ہیں:

1- اعتزاز شاہ (مانسہرہ سے تعلق لیکن قیام کراچی میں تھا)

2۔ شیر زمان (بنیادی تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے لدھا سے لیکن ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم)

3۔ حسنین گل (القاعدہ کے اہم رہنما جو امریکہ کی مطلوب افراد کی فہرست میں بھی شامل ہیں، تعلق راولپنڈی سے)

4۔ محمد رفاقت (راولپنڈی)

5 رشید احمد عرف ترابی (چارسدہ)

بینظیر بھٹو قتل: پانچ مرکزی ملزمان بری،مشرف اشتہاری،پولیس افسران کو سزا

بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

بے نظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کا فیصلہ جمعرات کو متوقع

سزائیں کن کن کو ہوئیں؟

1- سعود عزیز (سینئر پولیس افسر)، سیکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی، 17 برس قید کی سزا۔

2- خرم شہزاد حیدر (سینئر پولیس افسر) پر سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور جائے واقع کو جلد دھونے کا جرم۔ 17 برس قید کی سزا۔

3- پاکستان کے سابق صدر ریٹائیرڈ جنرل پرویز مشرف پر بھی بینظیر بھٹو کو مناسب سکیورٹی فراہم کرنے میں ناکامی اور انھیں دھمکی دینے کا الزام ہے۔ جنرل مشرف کو مفرور قرار دیا گیا ہے اور ان کی جائیداد کی قرقی کا حکم دیا گیا ہے۔

سات دیگر ملزمان کہاں ہیں؟

1۔ بیت اللہ محسود (تحریک طالبان پاکستان کے سابق امیر) امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہو چکے ہیں۔

2۔ عباد الرحمان عرف نومان عرف عثمان (مالاکنڈ اور اکوڑہ خٹک سے تعلق۔ نوشہرہ کے ایک مدرسے کے طالب علم) ہلاک ہو چکے ہیں۔

3۔ عبد اللہ عرف صدام (مہمند ایجنسی اور اکوڑہ خٹک سے تعلق۔ نوشہرہ کے ایک مدرسے کے طالب علم ) مارے جا چکے ہیں۔

4۔ فیض محمد عرف کسکٹ (صوابی اور اکوڑہ خٹک سے تعلق۔ نوشہرہ کے ایک مدرسے کے طالب علم) ہلاک ہو چکے ہیں۔

5۔ اکرام محسود (سرکاری وکیل کے بقول ہلاک لیکن صورت حال مکمل طور پر واضح نہیں ہے)

6۔ نصر اللہ عرف احمد (مدرسہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے طالب علم) مارے جا چکے ہیں۔

7۔ نادر عرف قاری اسماعیل (مدرسہ حقانیہ، اکوڑہ خٹک کے طالب علم) ہلاک ہو گئے ہیں۔

ان پر الزامات کیا تھے؟

تمام ملزمان پر قتل اور قتل کی سازش کے الزام تھے۔

ملزمان کی عمریں کیا ہیں؟

انسدادِ دہشت گردی کی عدالت بیک وقت اعتزاز کے کم سن ہونے کے بارے میں ایک درخواست بھی سن رہی ہے اور اس پر فیصلہ دے گی۔ باقی تمام ملزمان بالغ ہیں۔

اپیل کا حق؟

تمام ملزمان ہائی کورٹ اور اس کے بعد سپریم کورٹ میں اپنی سزا کے خلاف اپیل کر سکتے ہیں۔ آخر میں وہ صدر مملکت سے رحم کی اپیل کرنے کا حق بھی رکھتے ہیں۔

وکیلِ صفائی کون تھے؟

ہر ملزم کا مختلف وکیل تھا۔ شیر زمان کے وکیل نصیر ہیں، داد رحیم کے وکیل رشید ترابی ہیں۔ پرویز مشرف کے ابتدا میں فروغ نسیم جبکہ اب اختر شاہ وکیل ہیں۔ سعود عزیز اور خرم شہزاد کی نمائندگی ملک وحید اور بعد میں ملک حبیب نے کی۔

ملزمان کہاں ہیں؟

پانچ ملزمان اڈیالہ جیل میں ہیں۔ سعود عزیز اور خرم شہزاد کو عدالت کے احاطے سے گرفتار کرلیا گیا۔ جبکہ پرویز مشرف سکیورٹی خدشات کی وجہ سے ہر سماعت پر حاضر ہونے سے مستثنی تھے، تاہم انھیں اب تک ضمانت حاصل تھی۔

کتنے ججوں نے مقدمہ سنا؟

سنہ 2008 سے راولپنڈی کی انسدادِ دہشت گردی کی عدالت میں جاری اس مقدمے کے مجموعی طور پر آٹھ جج رہے۔ ان کے نام یہ ہیں۔ اکرام الحق، رانا باقر، رانا ناصر، حبیب الرحمان، پرویز اسماعیل، ایوب مارتھ اور اصغر خان۔

کتنے چالان اور رپورٹیں پیش کی گئیں؟

مجموعی طور پر نو چالان اور تحقیقاتی رپورٹیں پیش کی گئیں۔ ان میں سے پانچ وفاقی تحقیقاتی ادارے یعنی ایف آئی اے نے جبکہ چار پنجاب پولیس نے پیش کیں۔

کیا دستاویزات/ شواہد پیش کیے گئے؟

سرکاری وکیلوں نے عدالت میں مجموعی طور پر 88 دستاویزات پیش کیں جن میں ڈی این اے رپورٹس بھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ 68 گواہان جن میں اکثریت عام لوگوں کی تھی پیش ہوئے۔ گواہان میں پولیس اہلکار بھی شامل تھے۔

پاکستانی فوج نے اس مقدمہ پر کوئی بات کی؟

پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک اہلکار جنھوں نے ابتدا میں بیت اللہ محسود اور ایک دوسرے شخص کے درمیان ٹیلیفون پر گفتگو ریکارڈ کرنے کا دعویٰ کیا تھا بعد میں غائب ہوگئے۔ فوجی تحقیقاتی اداروں کا ان تحقیقات میں کتنا عمل دخل تھا یہ واضح نہیں لیکن پاکستان فوج نے اس معاملے پر کوئی باضابطہ بیان نہیں دیا ہے۔

تحقیقات کیسے ہوئیں؟

اس مقدمے کی تحقیقات پہلے پنجاب پولیس نے کی اور بعد میں ایف آئی اے نے کی۔ پنجاب پولیس کا کہنا ہے کہ ایک دھماکہ ہوا جبکہ ایف آئی اے کے خیال میں دو دھماکے ہوئے تھے۔ ایف آئی اے کے پاس اس کے فورنزک ثبوت بھی موجود ہیں۔

سابق سرکاری وکیل کے قتل میں پیش رفت ہوئی؟

سرکاری وکیل چوہدری ذوالفقار علی کو گھات لگا کر اسلام آباد میں مئی سنہ 2013 میں قتل کر دیا گیا تھا۔ ان کے مقدمے کی سماعت نئے قانون پاکستان پروٹیکشن ایکٹ کے تحت ایک فوجی عدالت میں ہو رہی ہے۔ مقدمے کے ایلک ملزم کو مردہ پایا گیا جبکہ دوسرا جو کہ اپاہج ہے اسے ضمانت پر رہا کیا جا چکا ہے۔

اسی بارے میں