’میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان کی سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل کے فیصلے پر سوشل میڈیا پر بھی مختلف ٹرینڈز شروع ہو گئے ہیں جس میں عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے سربراہ اور بینظیر بھٹو کے بیٹے بلاول بھٹو زرداری نے بھی ٹویٹ میں عدالت کے فیصلے کو مسترد کر دیا ہے۔

بلاول بھٹو نے کہا کہ ’ملوث‘ افراد کی رہائی نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے عندیہ دیا کہ پیپلز پارٹی قانونی راستوں پر غور کرے گی۔

٭ بینظیر بھٹو قتل: پانچ ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

٭ بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

٭ بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

٭ ’بی بی سانوں چھڈ گئی ایہہ‘

بینظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ بھٹو زرداری نے فیصلے پر #BenazirBhutto ہیش ٹیگ کے ساتھ ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت تک انصاف نہیں ہو سکتا جب تک مشرف اپنے جرائم کا جواب نہیں دیتے ہیں۔

انھوں نے دوسری ٹویٹ میں کہا کہ ’ 10 برس بعد بھی ہم انصاف کے منتظر ہیں۔ اعانت جرم کرنے والوں کو سزا ملی لیکن میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘۔

تصویر کے کاپی رائٹ Twiter

بینظیر کی بیٹی بختاور بھٹو زرادری نے مشرف کی گرفتاری کا ہیش ٹیگ #ArrestMushraf استعمال کرتے ہوئے اپنی چھوٹی بہن کی ٹویٹ کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مشرف نے جائے وقوعہ کو دھونے کا حکم دیا اور دروازے بند کرنے کا حکم دیا جس کی وجہ سے بینظیر بھٹو کی گاڑی اندر ہی پھنس گئی۔

انھوں نے دوبارہ شیم کا ہیش ٹیگ استعمال کرتے ہوئے مزید کہا کہ’ پولیس اہلکار تو گرفتار ہو گئے لیکن جو لوگ اس قتل میں ملوث تھے وہ بری ہو گئے۔‘

پیپلز پارٹی کے سابق رہنما فیصل عابدی نے اپنی ٹویٹ میں مشرف کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ’پرویز مشرف کا بینظیر بھٹو کے قتل میں کوئی کردار نہیں تھا اور محترمہ کے قتل کا کیس لازمی فوجی عدالت میں بھیجا جانا چاہیے تاکہ انصاف ہو سکے۔‘

مسلم لیگ نون کے رہنما اور وزیر خارجہ خواجہ آصف نے عدالتی فیصلے پر ٹویٹ میں کہا کہ'مشرف عدالت سے مفرور و اشتہاری قرار۔۔۔ یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا، یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں۔'

بینظیر بھٹو کی زندگی میں ان کی قریبی ساتھی ناہید خان نے ٹویٹ کی کہ 'زرداری کیمپ کی طرف سے پھیلایا گیا سازشی نظریہ زمین بوس ہو گیا۔ ہم واپس 27 دسمبر 2007 میں پہنچ گئے کیونکہ قاتلوں کا اب بھی سراغ نہیں ملا۔'

تصویر کے کاپی رائٹ Twiter

پیپلز پارٹی کی رہنما نفیسہ شاہ نے ٹویٹ کی کہ دس برس بعد بینظیر بھٹو قتل کیس میں انسداد دہشت گردی عدالت کا فیصلہ انصاف فراہم کرنے میں ناکام رہا کیونکہ سازش کرنے والے اور ملزم خاص کر مشرف کو سزا نہیں ملی۔

ٹوئٹر پر دیگر صارفین نے جہاں بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے میں سنائے جانے والے فیصلے پر مایوسی کا اظہار کیا وہیں شوکت زرداری نامی ایک شخص نے ٹویٹ میں سوال اٹھایا کہ بینظیر بھٹو کے خاندان میں سے کوئی بھی فیصلہ سننے عدالت نہیں گیا۔

اس کے علاوہ بینظیر بھٹو کے قتل کے بعد لگائے جانے والے نعروں کو بھی صارفین ٹویٹ کر رہے ہیں جس میں ایک مقبول نعرہ 'بی بی ہم شرمندہ ہیں، تیرے قاتل زندہ ہیں۔'

اسی بارے میں