’جائے وقوعہ دھو دیں گے تو ثبوت کیسے ملیں گے‘

بینظیر بھٹو تصویر کے کاپی رائٹ Magnum Photos

لندن میں پاکستان کے سابق ہائی کمشنر اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے قریبی ساتھی واجد شمس الحسن بینظیر کی پاکستان واپسی سے قبل ان کے سکیورٹی خدشات اور پھر ان خدشات پر انھیں دی گئی یقین دہانیوں کے عینی شاہد ہیں۔

وہ بینظیر بھٹو کی اس وقت کی امریکی وزیر خارجہ کونڈا لیزا رائس سے اس معاملے پر ہونے والی بات چیت کے بھی عینی شاہد ہیں۔

٭ بینظیر بھٹو قتل: پانچ ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

٭ بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

٭ بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین میں گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی اکثر آ کر لندن میں ان سے ملاقاتیں کر تے تھے۔

'وہ چین سموکر تھے، میں بھی کثرت سے سگار پیتا ہوں، اسی طرح کی ایک ملاقات میں میں نے ان سے بے نظیر بھٹو کے قتل کیس پر ان کی رائے جاننا چاہی، تو انھوں نے بڑے افسوس سے کہا کہ دیکھیں افسوس ناک بات یہ ہے کہ آپ کیسے کسی کو پکڑ سکتے ہیں جب آپ سارے ثبوت ضائع کر دیں؟'

واجد شمس الحسن کے بقول جنرل کیانی نے انھیں پرویز مشرف پر راولپنڈی می ہی ہونے والے قاتلانہ حملے کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ 'سٹینڈرڈ پروسیجر یہ ہے کہ آپ جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے لیتے ہیں، تو بینظیر کے قتل کے بعد جائے حادثہ کو گھیرے میں لے لیا جانا چاہیے تھا لیکن ایسا نہ ہوا، جنرل مشرف پر حملہ کرنے والے ملزمان کو جائے حادثہ سے ملنے والی ایک موبائل سم کے ذریعے ہی پکڑا گیا تھا۔'

اس سوال پر کہ کیا جنرل کیانی کے بقول اس وقت مجرمانہ غفلت ہوئی تھی؟ اس سوال کے جواب میں سابق ہائی کمشنر کا کہنا تھا کہ 'جنرل کیانی نے یہ کہا تھا کہ جب جائے وقوعہ کو صاف کر دیں تو آپ کو ثبوت کہاں سے ملیں گے؟'

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پیپلز پارٹی ایک طرف تو شروع دن سے پرویز مشرف کو بینظیر بھٹو کے مقدمے میں شریک جرم قرار دیتی رہی ہے لیکن دوسری طرف پیپلز پارٹی کی اپنی حکومت انہیں انصاف کے کٹہرے میں لانے ناکام رہی ہے۔ پھر آصف علی زرداری نے بھی کیوں پرویز مشرف کو جانے دیا؟

اس سوال کے جواب میں واجد شمس الحسن کا کہنا تھا کہ دیکھیں اب تو یہ بات بھی سامنے آ گئی ہے کہ بھٹو نے جنرل یحییٰ کو امریکہ کی درخواست پر ہی چھوڑ دیا تھا۔

تو کیا اس کا مطلب یہ کہ زرداری صاحب نے کسی کے کہنے پر پرویز مشرف کو جانے دیا؟ اس کے جواب میں واجد شمس الحسن نے اشارتًا کہا کہ دباؤ تھا لیکن کس کا تھا یہ نہیں بتایا۔

ُان کے بقول 'دیکھیں میں نہیں بتا سکتا کہ یہ درخواست ان سے کس نے کی تھی۔'

اسی بارے میں