بینظیر قتل کیس میں بری ہونے والے پانچ افراد 30 دن کے لیے نظر بند

بینظیر تصویر کے کاپی رائٹ AFP

راولپنڈی کی انتظامیہ نے سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کے مقدمۂ قتل میں بری ہونے والے پانچ افراد کو 30 دن کے لیے اڈیالہ جیل میں نظربند کر دیا ہے۔

خیال رہے کہ گذشتہ روز راولپنڈی میں انسدادِ دہشت گردی کی عدالت نے اپنے فیصلے میں زیر حراست پانچ مرکزی ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کرنے کا حکم دیا تھا۔

بینظیر قتل: کیا دوسرا بمبار زندہ ہے؟

بینظیر بھٹو قتل: پانچ ملزمان بری، مشرف اشتہاری، پولیس افسران کو سزا

بینظیر بھٹو کے قتل سے متعلق اہم سوالات

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق راولپنڈی کی انتظامیہ نے رہائی پانے والے پانچوں افراد محمد رفاقت، حسنین گل، عبدالرشید، شیر زمان اور اعتزاز شاہ کو نظربند کرنے کے احکامات پنجاب پولیس کے محکمہ انسداد دہشت گردی کی سفارشات کی روشنی میں جاری کیے ہیں۔

ان سفارشات میں کہا گیا تھا کہ اگر یہ افراد رہا کر دیے گئے تو ملک میں نقص امن کے خدشات بڑھ جائیں گے۔

سفارشات میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ ان افراد کی رہائی سے خود ان کی جان کو بھی خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

ان سفارشات کی روشنی میں راولپنڈی کی انتظامیہ نے 30 دن کے لیے ان افراد کو اڈیالہ جیل میں ہی نظر بند کر دیا ہے۔ ان افراد نے نو سال تک اڈیالہ جیل میں ہی قید کاٹی تھی۔

عدالتی فیصلے پر کارروائی کرتے ہوئے جیل انتظامیہ نے ان افراد کی رہائی کا عمل مکمل کر لیا تھا تاہم راولپنڈی کی انتظامیہ کی جانب سے جاری احکامات کی روشنی میں انھیں جیل سے باہر نہیں جانے دیا گیا۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
بینظیر بھٹو کے قتل کے مقدمے کے مقدمے کے فیصلے سے پہلے اور بعد میں انسدادِ دہشت گردی عدالت اور جیل کے باہر کے چند مناظر۔

ادھر ایف آئی اے نے اس عدالتی فیصلے کو عدالتِ عالیہ میں چیلنج کرنے کے لیے وزارت داخلہ کے اعلیٰ حکام کے ساتھ مشاورت شروع کر دی ہے۔

اس بات کا امکان ہے کہ عیدالاضحیٰ کی سرکاری چھٹیوں اور اس فیصلے کی مصدقہ نقل کی وصولی کے بعد انسداد دہشت گردی کے فیصلے کو لاہور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا جائے گا۔

پاکستان پیپلز پارٹی نے بھی عدالتی فیصلے کو عدالت میں چیلینج کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اس فیصلے کو کس حیثیت میں ہائئ کورٹ میں چیلینج کریں گے کیونکہ بینظیر بھٹو کے قتل کا مقدمہ ان کے ورثا نہیں بلکہ سرکار کی مدعیت میں درج کیا گیا تھا۔

گذشتہ سہ پہر اس کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے جج نے ان پانچوں ملزمان کو عدم ثبوت کی بنا پر بری کر دیا تھا تاہم سابق ڈی آئی جی سعود عزیز اور ایس پی خرم شہزاد کو مجرمانہ غفلت برتنے پر مجموعی طور پر 17، 17 سال قید اور پانچ پانچ لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی گئی ہے۔

ان افسران کو تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 119 کے تحت دس، دس سال جبکہ 201 کے تحت سات سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے جبکہ جرمانے کی عدم ادائیگی پر انھیں مزید چھ چھ ماہ قید بھگتنا ہوگی۔

یہ دونوں افسران ضمانت پر تھے اور عدالتی فیصلے کے بعد ان دونوں کو احاطۂ عدالت سے گرفتار کر لیا گیا۔

اسی بارے میں