بلوچستان کے ضلع ہرنائی میں دس مبینہ عسکریت پسندوں کی لاشیں ہسپتال منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ضلع ہرنائی کے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال میں دس نامعلوم افراد کی لاشیں لائی گئی ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ یہ لاشیں عسکریت پسندوں کی ہیں جو کہ ضلع میں سکیورٹی فورسز کے آپریشن میں مارے گئے ہیں اور ان کی لاشیں واب تنگی کے علاقے سے لائی گئی ہیں۔

٭بلوچستان: لاپتہ افراد یا قبائلی تنازعات؟

٭ بلوچستان: سکیورٹی اہلکاروں کی ہلاکتوں میں اضافہ

٭ بلوچستان: پرتشدد واقعات میں تین افراد ہلاک

٭ بلوچستان میں رواں سال خودکش حملوں میں ’اضافہ‘ ہوا

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق اس آپریشن میں عسکریت پسندوں کے متعدد ٹھکانوں کو بھی تباہ کرنے کے علاوہ اسلحہ بھی برآمد کیا گیا۔

نامہ نگار محمد کاظم کے مطابق ہرنائی میں حکام کا کہنا ہے کہ تاحال مارے جانے والے افراد کی شناخت نہیں ہوئی ہے۔

واضح رہے کہ بلوچستان میں صحافیوں کا ان علاقوں تک آزادانہ رسائی ممکن نہیں جو کہ شورش سے متاثر ہیں۔

اس صورتحال کے باعث میڈیا کو زیادہ تر سرکاری حکام یا متعلقہ فریقین کی جانب سے فراہم کردہ معلومات پر انحصار کرنا پڑتا ہے۔

گذشتہ ماہ کے وسط میں ہرنائی کے علاقے میں ایک بم حملے میں سکیورٹی فورسز کے 6اہلکار ہلاک ہوئے تھے اور اس حملے کی ذمہ داری کالعدم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کی تھی۔

دوسری جانب قوم پرست جماعت بلوچ نیشنل موومنٹ نے ہرنائی میں ہونے والے آپریشن کے حوالے سے ایک بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ہرنائی کے علاقے شاہرگ میں آپریشن کے دوران طیاروں نے بھی بمباری کی جس میں خواتین سمیت دس افراد ہلاک ہوئے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں