پیپلز پارٹی نے بینظیر بھٹو قتل کیس میں دلچسپی کیوں نہیں لی؟

بینظیر تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان پیپلز پارٹی کی مرحوم سربراہ اور سابق وزیراعظم بینظیر بھٹو کی پارٹی اور ان کے لواحقین کی جانب سے ان کے قتل کے الزام میں مقدمے کا سامنا کرنے والے پانچ شدت پسندوں کی رہائی پر غم و غصے کا اظہار تو کیا جا رہا ہے لیکن نو برس سے زائد زیر سماعت رہنے والے اس مقدمے میں سابق وزیراعظم کی جماعت اور ان کے لواحقین کی دلچسپی واجبی ہی رہی ہے۔

راولپنڈی میں قائم انسداد دہشت گردی کی عدالت نے جمعرات کو جب اس مقدمے کا فیصلہ سنایا تو کمرہ عدالت یا جیل کے باہر ایک بھی پارٹی کارکن یا خاندان کا فرد موجود نہیں تھا۔

حتیٰ کے 'پیپلز لائرز فورم' کے تحت عہدے اور اس بنیاد پر مراعات لینے والے پیپلز پارٹی کے درجن بھر وکلا بھی ضلعی عدالت کے احاطے میں صبح سویرے نعرے بازی کرنے کے بعد اپنے گھروں کو چلے گئے جب انہیں پتہ چلا کہ مقدمے کا فیصلہ شہر کی حدود سے باہر اڈیالہ جیل میں بعد دوپہر سنایا جائے گا۔

٭ بینظیر قتل کیس میں بری ہونے والے پانچ افراد نظر بند

٭’ایسا لگتا ہے کہ عسکریت پسندوں کی فتح ہوئی ہے‘

٭’آصف زرداری نے بینظیر کے قتل کی تحقیقات نہیں کروائیں‘

٭ ’میری ماں کے قتل کے اصل قصوروار آزاد گھوم رہے ہیں‘

دو دفعہ ملک کی وزیراعظم رہنے والی اس رہنما کے قتل کا مقدمہ درج ہونے کے چند ہفتے بعد پیپلز پارٹی حکومت میں آئی لیکن پیپلز پارٹی نے اس مقدمے میں فریق بننے کا فیصلہ اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد اگست 2013 میں کیا۔

انسداد دہشت گردی کی عدالت نے پیپلز پارٹی کی جانب سے فریق بننے کی درخواست کو مسترد کیا تو پیپلز پارٹی کے وکلا کی ٹیم کے سربراہ لطیف کھوسہ نے اس حملے میں بینظیر بھٹو کے ساتھ ہلاک ہونے والے ایک پارٹی کارکن کے لواحقین کی جانب سے فریق بننے کی درخواست کی جسے قبول کر لیا گیا۔

لیکن سردار لطیف کھوسہ یا نصف درجن وکلا پر مشتمل ان کی ٹیم کی جانب سے اس مقدمے میں کردار اور حاضری واجبی ہی رہی۔

پہلے پہل سردار لطیف کھوسہ بنفس نفیس اس مقدمے میں پیش ہوتے رہے، پھر ان کے صاحبزادے خرم لطیف کھوسہ چند ایک پیشیوں میں شامل ہوئے پھر یہ ذمہ داری مقامی وکلا کے کندھوں پر آن پڑی اور پھر گزشتہ چند برسوں سے یہ مقدمہ پیپلز پارٹی کی حد تک لاوارث ہی رہا۔

ٰحتٰی کہ جب دو ہفتے قبل عدالت نے اس مقدمے کے دلائل مکمل کرنے کا اعلان کیا، اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی جانب سے کوئی وکیل عدالت میں پیش ہوا اور نہ حتمی دلائل دیے۔

پیپلز پارٹی کی حکومت میں مختلف عہدوں بشمول گورنر پنجاب رہنے والے سردار لطیف کھوسہ اس بارے میں کہتے ہیں کہ ان کی مقدمے میں فریق بننے کی درخواست عدالت نے مسترد کر دی تھی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں
پیپلز پارٹی کو بینظیر قتل کیس کی مناسب پیروی نہ کرنے پر تنقید کا سامنا رہا ہے

'جس مقدمے میں پیپلز پارٹی فریق ہی نہیں، اس کی وہ پیروی کیسے کر سکتی ہے۔'

تاہم سردار کھوسہ نے کہا کہ وہ ایک پارٹی کارکن کی طرف سے اس مقدمے میں وکیل بنے لیکن ان کے مؤکل کے انتقال کے بعد عدالت نے ان کا وکالت نامہ منسوخ کر دیا اس لیے وہ اس مقدمے کی پیروی نہیں کر سکے۔

'ویسے بھی یہ ضروری نہیں ہے کہ میں خود ہر پیشی میں عدالت میں موجود رہوں۔ جب ضروری سمجھا میں خود عدالت میں گیا اور جب ضروری سمجھا اپنے ساتھیوں کو بھیجا۔'

اس سوال پر کہ جب یہ مقدمہ آخری مرحلے میں داخل ہوا اور حتمی دلائل کا وقت آیا تو آپ خود یا آپ کے معاون عدالت میں پیش کیوں نہیں ہوئے، لطیف کھوسہ نے کہا کہ انہیں اس مرحلے کا پتہ ہی نہیں چلا۔

'ہمیں بتایا ہی نہیں گیا کہ مقدمہ حتمی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ ویسے بھی یہ فیصلہ عدالت نے مقدمے سے پہلے ہی لکھ رکھا تھا تو اگر ہم پیش بھی ہو جاتے تو عدالت نے اپنا فیصلہ بدلنا نہیں تھا اس لیے ہمارے پیش ہونے یا نہ ہونے کیا فرق پڑتا؟'

پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ اب پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ آصف زرداری مرحومہ کے شوہر کی حیثیت سے اس مقدمے میں فریق بنیں گے اور عید کے بعد اس فیصلے کے خلاف اپیل دائر کی جائیگی۔

اپ کی ڈیوائس پر پلے بیک سپورٹ دستیاب نہیں

ان کا یہ مؤقف بالکل درست ہے کہ ان کی جماعت پیپلز پارٹی اس مقدمے میں فریق نہیں تھی اس لیے ان کا مقدمے میں پیش ہونے کا جواز نہیں بنتا۔

لیکن پیپلز پارٹی تو شریف خاندان کے خلاف سپریم کورٹ میں چلنے والے پاناما مقدمے میں بھی فریق نہیں تھی اس کے باوجود پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت آخری مرحلے پر ہونے والی ہر سماعت پر باجماعت سپریم کورٹ میں حاضر ہوتی رہی۔

پارٹی پالیسی میں اس بظاہر تضاد کی وضاحت کرتے پیپلز پارٹی کے مرکزی رہنما قمر زمان کائرہ کہتے ہیں کہ پاناما مقدمے کے دوران عدالت میں حاضر ہونے کا فیصلہ حزب اختلاف کی جماعتوں کی جانب سے متفقہ طور پر کیا گیا تھا اس لیے ان کی پارٹی قیادت علامتی طور پر اس دوران کمرہ عدالت میں موجود رہی۔

اس سوال پر کہ عدالت میں موجود رہنے کی یہی پالیسی بینظیر قتل کیس میں کیوں اختیار نہیں کی گئی، قمر زمان کائرہ نے کہا کہ ان دونوں مقدموں کا موازنہ کرنا زیادتی ہے۔

'ٹرائل کورٹ اور سپریم کورٹ میں فرق ہوتا ہے۔ ٹرائل کورٹ میں موجودگی کا کوئی علامتی مطلب نہیں ہوتا وہاں دلائل کی بات ہوتی ہے اور ہمیں دلائل دینے کی اجازت نہیں تھی۔'

پیپلز پارٹی کے ایک اور سینیئر رہنما اعتزاز احسن بینظیر بھٹو کے قتل کی صحیح تفتیش اور اس مقدمے کی مناسب پیروی نہ ہونے کا ذمہ دار پنجاب حکومت اور اس کے سربراہ شہباز شریف کو قرار دیتے ہیں۔

'یہ واقعہ صوبہ پنجاب کی حدود میں ہوا، پنجاب کی پولیس اور انتظامیہ نے ہی اس قتل کی تفتیش اور اس مقدمے کی پیروی کرنی تھی۔ پنجاب پولیس ہی اس مقدمے کی مدعی تھی اس لیے اس کو منطقی انجام تک پہنچانے کی ذمہ داری بھی اسی کی تھی۔'

اسی بارے میں