لاہور: کیا تحریک انصاف کی یاسمین راشد ن لیگ کے گڑھ کی تاریخ بدل سکیں گی؟

پی ٹی آئی حامی (فائل فوٹو) تصویر کے کاپی رائٹ AFP/Getty Images
Image caption پاکستان میڑ قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں کانٹے کی ٹکر بتائی جاتی ہے

پاکستان کے موجودہ سیاسی حالات میں ملک کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 کا ضمنی انتخاب ملک کے سیاسی منظر نامے میں مرکزی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔

ایک طرف حکمراں جماعت پاکستان مسلم لیگ ن نہ صرف اپنی کھوئی ہوئی قومی اسمبلی کی نشست واپس حاصل کر کے اپنی جماعت کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے موجود اندیشوں کو دفن کرنے کی کوشش کرے گی، دوسری طرف ان کے سیاسی حریف انھیں ایسا کرنے سے روکنے کے خواہاں ہیں۔

تاہم ن لیگ کو اس کے تین دہائیوں پرانے سیاسی گڑھ میں شکست دینا آسان نہ ہوگا۔ دوسری طرف تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ حکمراں جماعت کے لیے بھی این اے 120 سے باآسانی جیت جانا شاید مشکل ہوگا۔

٭ این اے 120: کہیں پیٹرول تو کہیں لنگر

٭ کلثوم نواز بیمار، انتخابی مہم مریم چلائیں گی

رواں سال 28 جولائی کو پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی اس نشست پر ضمنی انتخاب کے لیے ن لیگ نے بیگم کلثوم نواز کو اپنا امیدوار مقرر کیا تھا۔

ان کے مدِمقابل ن لیگ کی روایتی حریف پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل میر جبکہ گذشتہ انتخابات میں ن لیگ کا سخت مقابلہ کرنے والی جماعت پاکستان تحریکِ انصاف کی امیدوار یاسمین راشد ہیں۔

Image caption کلثوم نواز کے مدمقابل امیدواروں میں پی ٹی آئی کی یاسمین راشد ایک مضبوط امیدوار ہیں۔
تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption این اے 120 میں ضمنی انتخاب کے دوران ایک پولنگ سٹیشن کا منظر

ن لیگ کی امیدوار کلثوم نواز کا انتخابی سیاست میں یہ پہلا قدم ہے۔ اس سے قبل وہ ن لیگ کی سیاست میں پسِ پردہ اپنا کردار ادا ضرور کرتی رہی ہیں تاہم انتخابی سیاست کا براہِ راست حصہ نہیں بنیں۔

کلثوم نواز کے بطور امیدوار انتخاب کے فیصلے کو تجزیہ کار ن لیگ کے لیے مثبت قرار دیتے ہیں۔ اس کی بنیاد ان حقائق پر ہے کہ ’ان کے خلاف کرپشن کے الزامات نہیں، وہ ملکی سیاست کی پیچیدگیوں کو سمجھتی ہیں‘ اور اس سے قبل وہ ن لیگ کی قیادت اس دور میں کر چکی ہیں جب نواز شریف سنہ 1999 میں جنرل پرویز مشرف کے مارشل لا کے بعد جیل چلے گئے تھے۔

بیگم کلثوم نواز عمر میں نواز شریف سے ایک برس چھوٹی ہیں۔ ان کا خاندان کشمیر سے تعلق رکھتا ہے جبکہ ان کی پیدائش لاہور میں ہوئی۔ وہ مشہورِ زمانہ پہلوان گاما کی نواسی بھی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption قومی اسمبلی کی نشست این اے 120 کے ضمنی انتخاب میں ن ليگ کی امیدوار کلثوم نواز (بائيں) ہیں لیکن ان کی انتخابی مہم ان کی بیٹی مریم نواز (دائيں) نے سنبھال رکھی تھی

ان کے چار بچے ہیں جن میں حسن نواز، حسین نواز اور مریم نواز کے ناموں سے تو پاکستان اور پاکستان کے باہر رہنے والے پانامہ کیس کے تناظر میں واقف ہیں جبکہ ان کی چوتھی اولاد عصمہ نواز ہیں جو پاکستان کے سابق وزیرِ خزانہ اسحاق ڈار کی بہو ہیں۔

صحافی اور سیاسی تجزیہ کار سہیل وڑائچ نے بی بی سی کو بتایا کہ بقول مریم نواز شریف خاندان میں بیگم کلثوم نواز کے سیاسی تجزیے اور رائے کو ہمیشہ سے ہی اہمیت دی جاتی ہے۔

وہ بتاتے ہیں 'میاں نواز شریف بھی ان کی باتیں بہت توجہ سے سنتے ہیں۔ میاں صاحب پر ان کا گہرا اثر رہا ہے۔ بہت سے لوگوں کے بارے میں ان کی رائے ہی غالب ہوتی ہے اور جب وہ درست ثابت ہوں تو ظاہر ہے ان کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے۔'

این اے 120 کے ضمنی انتخاب کے لیے کاغذاتِ نامزدگی جمع کروانے کے بعد بیگم کلثوم نواز علاج کی غرض سے لندن چلی گئی تھیں جہاں ان کے کینسر کی تشخیص ہوئی تھی۔ ان کے خاندان کے افراد کے مقامی ذرائع ابلاغ پر سامنے آنے والے بیانات کے مطابق وہ کامیاب علاج کے بعد تیزی سے رُو بہ صحت ہیں۔

ان کی اور شریف خاندان کے مرکزی سیاسی رہنماؤں کی غیر موجودگی میں کلثوم نواز کی انتخابی مہم ان کی صاحبزادی مریم نواز نے جاری رکھی۔ وہ کہاں تک کامیاب رہیں اس کا نتیجہ اتوار کی رات تک سامنے آ جائے گا۔

این اے 120 میں ن لیگ کو جس سیاسی حریف سے کٹھن مقابلے کا سامنا ہے وہ پاکستان تحریکِ انصاف کی یاسمین راشد ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images
Image caption ن لیگ کو عمران خان کی پارٹی پی ٹی آئی کی امیدوار سے سخت مقابلے کا سامنا ہے

انھوں نے سنہ 2013 کے عام انتخابات میں اسی حلقے سے سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کے 91666 سے زیادہ ووٹوں کے مقابلے میں 52321 ووٹ حاصل کیے تھے۔

یاسمین راشد نہ تو سیاست میں نووارد ہیں اور نہ ہی اس حلقے کے لوگ ان سے اور ان کے خاندان سے ناواقف ہیں۔ ڈاکٹر یاسمین راشد لاہور کی جانی پہچانی شخصیات میں سے ایک ہیں۔ ایک ڈاکٹر اور گائناکالوجسٹ کے طور پر سنہ 2010 تک وہ طب کے شعبے میں خدمات سرانجام دیتی رہی ہیں اور اب بھی وہ جز وقتی طور پر طبی تعلیم کے شعبے سے منسلک ہیں۔

سیاست سے ان کا تعلق بھی پرانا ہے۔ وہ ماضی کے منجھے ہوئے سیاستدان ملک غلام نبی کی بہو ہیں۔

سہیل وڑائچ کے مطابق ملک غلام نبی نے پاکستان موومنٹ میں اہم کردار ادا کیا تھا اور بعد میں ان کا شمار پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی ذوالفقار علی بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

لاہور کے اسی علاقے سے جس میں آج این اے 120 کا حلقہ واقع ہے ملک غلام نبی 1970 کا صوبائی انتخاب جیت کر صوبائی وزیر بھی رہ چکے ہیں۔

Image caption این اے 120 میں امیدواروں کے پوسٹرز یہاں دیکھے جا سکتے ہیں

ابتدا میں یاسمین راشد پاکستان پیپلز پارٹی کے ساتھ منسلک رہ چکی ہیں اور سہیل وڑائچ کے مطابق پی پی پی کے حالیہ امیدوار فیصل میر کے ساتھ مل کر مقامی سیاست میں کردار بھی ادا کرتی رہی ہیں۔

تاہم سنہ 2013 کے عام انتخابات میں انھوں نے پی ٹی آئی کی طرف سے اس وقت تک دو بار وزیرِ اعظم رہنے والے اور ملک کی بڑی جماعت کے صدر نواز شریف کا مقابلہ کیا تھا۔ ان انتخابات میں جہاں ان کی جماعت صوبہ پنجاب میں دوسری بڑی سیاسی قوت کے طور پر ابھری وہیں یاسمین راشد نے بھی ن لیگ کے گڑھ سے 50 ہزار سے زائد ووٹ حاصل کر کے سب کو حیران کر دیا تھا۔

اب سب کے ذہن میں سوال یہی ہے کہ کیا اتوار کو وہ این اے 120 کی تاریخ بدل سکتی ہیں؟

اس لیے قومی اسمبلی کے اس حلقے میں زیادہ تر نظریں ان ہی دو امیدواروں پر رہنے کا امکان ہے۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں