باجوڑ ایجنسی: ریموٹ کنٹرول بم حملے میں تحصیلدار سمیت پانچ اہلکار ہلاک

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں کچھ عرصے سے مجموعی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر رہی ہے

پاکستان میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی میں حکام کا کہنا ہے کہ پولیٹکل تحصیلدار کی گاڑی پر سڑک کے کنارے ہونے والے ایک ریموٹ کنٹرول بم حملے میں تحصیلدار سمیت کم سے کم پانچ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق یہ واقعہ اتوار کی صبح باجوڑ ایجنسی کے دور افتادہ علاقے ماموند تحصیل میں پیش آیا۔

بارودی سرنگیں: قبائلی علاقوں کی زمین میں پوشیدہ دشمن

باجوڑ ایجنسی کے ایک اعلی سرکاری اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار رفعت اللہ اورکزئی کو بتایا کہ تحصیلدار فواد علی شاہ ایک اطلاع پر لیوی اہلکاروں سمیت تنگی گڑیگال کے علاقے میں سرچ آپریشن کررہے تھے کہ اس دوران ان کی گاڑی کو ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں نشانہ بنایا گیا۔

انھوں نے کہا کہ حملے میں کم سے کم پانچ اہلکار ہلاک اور دو زخمی ہوگئے ہیں۔ مرنے والوں میں تحصیلدار فواد علی شاہ اور لیوی اہلکار شامل ہیں۔

سرکاری اہلکاروں کے مطابق دھماکے میں تحصیلدار کی گاڑی مکمل طورپر تباہ ہوگئی ہے۔انھوں نے کہا کہ زخمی ہونے والے دونوں اہلکاروں کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے جنہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے سے پشاور منتقل کیا جارہا ہے۔

کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔

خیال رہے کہ باجوڑ ایجنسی میں کچھ عرصے سے مجموعی طورپر سکیورٹی کی صورتحال بہتر رہی ہے تاہم سکیورٹی اہلکاروں کے ٹارگٹ کلنگ کے واقعات اور قبائلی مشران پر ایک دکا حملے ہوتے رہے ہیں۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ مقامی انتظامیہ پر ہونے والا حالیہ حملہ گذشتہ کچھ عرصہ میں ہونے والا بڑا واقعہ قرار دیا جارہا ہے۔ ان واقعات کی ذمہ داری وقتاً فوقتاً کالعدم تنظیمیں قبول کرتی رہی ہے۔

اسی بارے میں