اسحاق ڈار کی نیب عدالت میں پیشی، فرد جرم 27 ستمبر کو عائد ہو گی

پاکستان تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اسحاق ڈار پر احتساب عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے

اسلام آباد میں احتساب عدالت نے وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار پر معلوم ذرائع سے زیادہ آمدن اور اثاثے بنانے کے ریفرنس میں فرد جرم عائد کرنے لیے 27 ستمبر کی تاریخ مقرر کی ہے۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر چوہدری نے اس معاملے میں ملزم کو ریفرنس کی نقول فراہم کیں تو ان کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے استدعا کی کہ انھیں نقول پڑھنے اور تیاری مکمل کرنے کے لیے سات دنوں کی مہلت فراہم کی جائے۔

عدالت نے ان کی یہ استدعا مسترد کرتے ہوئے انھیں ایک دن کی مہلت دی۔

نواز شریف کے وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کی درخواست رد

’نواز شریف کو احتساب عدالت کے سامنے پیش نہیں ہونا چاہیے‘

حدیبیہ کیس دوبارہ کھولنے کے لیے نیب کی اپیل

قومی احتساب بیورو (نیب) کے پراسیکیوٹر عمران شفیق نے عدالت کو بتایا کہ ملزم کے قبول ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے گئے تھے جس میں انھیں دس لاکھ روپے کے دو ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا تھا لیکن وہ ایسا کرنے سے پہلے عدالت میں پہنچ گئے۔

اس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ وہ ضمانتی مچلکے اپنے ساتھ لے کر آئے ہیں لیکن عدالتی وقت شروع ہونے کے سبب اسے جمع نہ کرا سکے۔ کارروائی کے بعد مچلکے جمع کر دیے گئے تھے۔

عدالت نے اگلی سماعت کے لیے اسحاق ڈار کی حاضری کو یقینی بنانے کے لیے انھیں 50 لاکھ روپے کے ضمانتی مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق سماعت شروع ہونے سے پہلے اسحاق ڈار کمرہ عدالت میں پولیس کے حصار میں داخل ہوئے۔ اس موقع پر وہاں موجود صحافیوں کو سکیورٹی اہلکاروں نے یہ کہہ کر کمرہ عدالت سے نکال دیا کہ ’صاحب آ رہے ہیں‘ جس کے بعد ہی ملزم اسحاق ڈار کمرہ عدالت میں داخل ہوئے۔

بعد میں عدالتی عملے کے طرف سے صحافیوں کو مقدمے کی کوریج کے لیے کمرہ عدالت میں داخل ہونے کی اجازت ملی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سابق وزیر اعظم نواز شریف نیب عدالت میں پیشی کے لیے وطن واپس پہنچ گئے پیں

پیشی سے قبل بتایا گیا تھا کہ اسحاق ڈار کارروائی ختم ہونے کے بعد صحافیوں کے سوالات کے جوابات دیں گے لیکن اس کے برعکس باہر نکلنے کے بعد وہ صحافیوں کے سوالات کے جواب دیے بغیر اپنی گاڑی میں جا بیٹھے۔

اسلام آباد پولیس نے ملزم کی عدالت پیشی سے قبل علاقے کے ارد گرد سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے اور صرف عدالتی عملے کو عدالت کے پاس جانے کی اجازت تھی۔

یاد رہے کہ 26 ستمبر کو سابق وزیر اعظم محمد نواز شریف کی بھی احتساب عدالت کے سامنے پیشی ہے جس کے لیے وہ 25 ستمبر کی صبح لندن سے اسلام آباد واپس پہنچ گئے ہیں۔

عدالت نے اس پیشی میں نواز شریف کے بچوں اور ان کے داماد کیپٹن صفدر کو بھی طلب کیا تھا لیکن وہ ملک میں موجود نہیں ہیں اور حکمران جماعت کے رہنما ان کی وطن واپسی کے بارے میں کوئی حتمی بیان دینے سے گریز کر رہے ہیں۔

نواز شریف کی عدالت پیشی کے حوالے سے پولیس نے 24 گھنٹے قبل ہی علاقے میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کر دیے ہیں۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں