’آج کی دنیا میں سکیورٹی سستی نہیں ہے، اس کا دارومدار بہتر معیشت پر ہوتا ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

پاکستان کی برّی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا ہے کہ ہماری ٹیکس اور جی ڈی پی شرح بہت کم ہے، اگر ہمیں کشکول توڑنا ہے تو اس میں تبدیلی لانا ہوگی۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ ’اس کے ساتھ ساتھ پاکستان کے عام شہریوں کو اس کے بدلے میں ریاست سے مساوی سہولیات اور اعانت کی یقین دہانی کی ضرورت ہوگی۔‘

انھوں نے یہ بات کراچی میں معیشت اور سلامتی پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

٭ دنیا اپنی ناکامیوں کا ذمہ دار ہمیں نہ ٹھہرائے: جنرل باجوہ

٭ ’کچھ لوگ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ملک میں ترقی تو ہو رہی ہے لیکن قرضے بھی آسمان کو چھو رہے ہیں۔ انفراسٹرکچر اور توانائی کے شعبے بہتر ہوئے لیکن جاری خسارہ موافق نہیں۔‘

خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق آرمی چیف نے کہا کہ ’پاکستان کے لیے یہ سب سے بہتر وقت ہے کہ وہ معاشی پیداوار اور استحکام کو اپنی اولین ترجیح رکھے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’بہتر مستقبل کے لیے ہمیں مشکل فیصلے لینا ہوں گے۔ ہمیں اپنے ٹیکس بیس کو بڑھانا ہوگا، مالی معملات میں نظم و ضبط لانا ہوگا اور اپنی معاشی پالیسیوں میں تسلسل برقرار رکھنا ہوگا۔‘

آرمی چیف نے کہا کہ 'معیشت کا تعلق تمام شعبہ ہائے زندگی سے ہے اور مضبوط معیشتوں نے جارحیت کا بھی سامنا کیا ہے۔'

جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کو شروع ہی سے کئی بحرانوں کا سامنا رہا، ہم دنیا کے سب سے زیادہ غیر مستحکم خطے میں رہتے ہیں جبکہ دشمن بھی پاکستان کو ناکام بنانا چاہتا ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک پاکستانی عوام کا مستقبل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا

ان کا کہنا تھا کہ ’پاکستان کے مشرق پر حریف ملک انڈیا ہے اور مغرب کی جانب غیر مستحکم افغانستان ہے۔ یہ خطہ تاریخی مسائل اور منفی مسابقت میں ہی الجھا رہا ہے۔‘

’میں واقعی یہ سمجتھا ہوں کہ یہ خطہ ایک ساتھ ہی تیر یا ڈوب سکتا ہے، اور ایسا ہی دنیا بھر میں ہوتا ہے۔‘

انھوں نے معیشت اور سلامتی پر سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ’آج کی دنیا میں سکیورٹی سستی نہیں ہے۔ اس کا درومدار بہتر معیشت پر ہوتا ہے۔‘

انھوں نے پاکستانی کاروباری حضرات کو مخاطب کرتہ ہوئے کہا کہ ’ہمارے کاروباری حضرات کو بھی پیداوار اور برآمدات کے ذریعے اپنا حصہ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ ہم نے سکیورٹی کے محاذ پر اپنا کام کر لیا ہے اب آپ کی باری ہے۔‘

چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کے حوالے سے باتے کرتہ ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک پاکستانی عوام کا مستقبل ہے اور اس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ ’سی پیک ہمارا اہم قومی مفاد میں ہے اس پر مخالف آوازوں میں شدت کے باوجود کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔‘

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں