’پاکستان میں جمہوریت فلم میں وقفے کی طرح آتی ہے‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ جموریت سے کچھ لوگوں کا گلہ اپنی جگہ درست ہے لیکن تمام راستے پارلیمان سے ہی ہوکر ہی گزرتے ہیں۔

پاکستان کے ایوان بالا یعنی سینیٹ کے چیئرمین رضا ربانی نے کہا ہے کہ ریاست نے آئین اور ملکی اداروں کو نہ تو مضبوط کیا اور نہ ہی اُنھیں چلنے دیا۔ اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں جمہوریت ایسے آتی ہے جیسے سینما پر لگی ہوئی فلم میں تھوڑی دیر کے لیے وقفہ آتا ہے۔

نامہ نگار شہزاد ملک کے مطابق جمعرات کو نیشنل پریس کلب میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اُنھوں نے کہا کہ پاکستان میں فلم میں ہر دس سال کے بعد جمہوریت کے نام کا ایک وقفہ آتا ہے جس میں سیاستدانوں کو برا بھلا اور انھیں بدنام کرنے کے بعد فلم کا وقفہ ختم ہوجاتا ہے۔

علمِ جمہوریت اور شہریت کو نصاب کا حصہ بنانے کے لیے سینیٹ میں قرارداد منظور

’وہ جمہوریت کو سمجھتے بھی نہیں ہیں’

اُنھوں نے کہا کہ وقفے کے دوران ’سیاستدان مشروبات کی طرح اپنے کاندھوں پر اپنی جماعت کے منشور کا پرچار کرنے کے بعد اُنھیں سینما ہال سے نکال دیا جاتا ہے‘۔

رضا ربانی کا کہنا تھا کہ ملک میں ہر دس سال کے بعد فلم میں وقفہ آتا ہے جس کے بعد ملک میں ظلم اور بربریت (مارشل لا) کی فلم چلنا شرور ہوجاتی ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ ملک میں جتنے بھی ادارے آئین کے تحت کام کر رہے ہیں ان میں مرکزی حیثیت پارلیمان کو ہی حاصل ہے۔

اُنھوں نے کہا کہ پارلیمان پاکستان کی شہ رگ ہے اور ’ہم اس شہ رگ کو چار مرتبہ کاٹ چکے ہیں‘۔

اُنھوں نے کہا کہ اگر ہم اپنی ہی شہ رگ کو کاٹیں گے تو جسم تڑپتا رہے گا اور یہی کچھ آج ہو رہا ہے۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ جمہوریت سے کچھ لوگوں کا گلہ اپنی جگہ درست ہے لیکن تمام راستے پارلیمان سے ہی ہوکر گزرتے ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو اندرونی اور بیرونی چیلنجز درپیش ہیں جن کے حل کے لیے پارلیمان کو اپنا تاریخی کردار ادا کرنا ہوگا۔ اس معاملے میں اس بات کا بھی جائزہ لینا ہوگا کہ پارلیمان میں جو خامیاں ہیں اس کو بھی دور کیا جائے۔

عوامی مسائل حل کرنا ہوں گے اور جب ایسا ہوگا تو عام شہری کی پارلیمان ترجمانی ہوگی تو پھر جمہوریت پر کوئی بھی شب خون نہیں مارسکے گا۔

متعلقہ عنوانات

اسی بارے میں